میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

منگل، 24 جون، 2014

وحی غیر متلو - 5 - آیات القیامہ



پہلا باب کتاب الوحی ،
وحی غیر متلو (حدیث )  - 5  - آیات القیامہ
تلاوت ِ قرآن کے آداب :

جو اللہ تعالیٰ نے محمد ﷺکو بتائے ، اور محمدﷺ نے بعینہی یہی آداب تمام صحابہ کو بتائے ، وہی آداب ہم پر بھی لازم ہیں ۔

 لَا تُحَرِّ‌كْ بِهِ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهِ ﴿15إِنَّ عَلَيْنَا جَمْعَهُ وَقُرْ‌آنَهُ ﴿ 17 فَإِذَا قَرَ‌أْنَاهُ فَاتَّبِعْ قُرْ‌آنَهُ ﴿ 18ثُمَّ إِنَّ عَلَيْنَا بَيَانَهُ ﴿19 القيامة 

یہاں ایک اہم بات اگر ہم اسی تسلسل ، سے دیکھیں تو یہ تیسری وحی متلو ہونا چاھئیے ، اور غالباً مکی بھی ، ہجرت سے پہلے 73 سے زیادہ اصحاب رسول بن چکے تھے ، اُن کو بھی یہی آداب ، آپﷺ نے بتائے اور ہجرت کے بعد بھی یہی آدابِ قرءتِ  قرآن ہوں گے ۔

کسی نے لازماً اِن سے رو گردانی کی کوشش کی ہوگی تو ، ابنِ عباس نے ، اُس کی توجہ اِس آیت کی طرف دلاتے ہوئے اُس کی تصحیح  محفل ( خطبہ)میں یا تنہا کروائی ہوگی۔ جبھی یہ حدیث، بخاری  میں درج ہوئی وگرنہ، صرف قرآن کی یہ آیت ہی  ابنِ عباس کے لئے تلاوت کر دینا کافی تھا  ۔

اور یہ آیت محمدﷺ کی زبان کی حرکت کی وجہ سے نازل ہوئی۔
نہ کہ ابن عباس ودیگر کی وجہ سے ۔  

٭٭٭٭٭٭٭٭اگلا مضمون٭٭٭٭٭٭٭٭٭


٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
پہلے مضامین:



خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔