میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

اتوار، 15 جون، 2014

کیا کم خوابی ، نفسیاتی مرض ہے ؟


کہتے ہیں کہ جس اِنسان کی نیند اُڑ جائے وہ بالآخر نفسیاتی مریض بن جاتا ہے ؟


ایسا نہیں ہے ، انسانی جسم ، اپنے کھانے ، پینے ، آرام  کا خود متلاشی رہتا ہے ،  نیند انسانی جسم کے آرام و سکون کا مظہر ہے ، خواہ وہ یہ 24 گھنٹوں میں چار گھنٹے کے لئے ، کسی بھی وقت لے ۔لایعنی سوچ کے بلبلوں میں ہوا بھرنے والے ، راتوں کو جاگتے ہیں  کیوں کہ تنہائی میں ، ایک بلبلہ معدم ہوتے وقت اپنی ہوا دوسرے کو دے دیتا ہے اور ایک بلبلہ تو  نہیں ہوتا  بلبلوں کا ایک جم ِغفیر ہوتا ہے ۔
لیکن عمر کے لحاظ سے نیند کی کمی بیشی انسانی زندگی ، کا ایک پرتو ہے ، جوانی اور بڑھاپے کی نیند میں فرق ہوتا ہے لیکن ہر انسان کی نیند کی مقدار ایک جتنی نہیں ہوتی ، جسمانی کام کرنے والوں کی نیند کا دورانیہ  زیادہ  ہوتا ہے اور ذہنی کام کرنے والوں کی نیند کا دورانیہ کم ہوتا ہے ، کیوں کہ کام کے بعد بھی اُن کا دماغ  ، سوچوں کے بلبلے بناتا ہے ، جو  ایسا کیوں ہوا ؟   کیسے بہتر ہو سکتا ہے ؟ اور کس طرح کرنا چاہیئے؟
یہ کیوں کیسے اور کس طرح ، ہر انسان کی سرشت  میں ہے ،  یہاں تک کہ ایک بچہ بھی اِسی ترتیب سے سوچوں کو اپنے دماغ  میں مشغول رکھتا ہے ۔
سوچوں کی وجہ سے نیند کا کم ہونا ، جبکہ  کوئی نفسیاتی مرض نہیں بلکہ ایک عام جسمانی بیماری ہے  ۔ لیکن  اِس کی زیادتی ، جبکہ  سوچوں کے کوئی نتائج نہ ہوں  ، کو  "نفسیاتی مرض " سے آسانی کے لئے موسوم کر دیا گیا  ہے ۔جس میں انسانی دماغ ایک صحت مند انسانی دماغ کی مانند کام نہیں کرتا ، کیوں کہ  سوچیں بے ربط ہوتی ہیں ، اُن کے درمیان رابطہ نہیں ہوتا ، یوں سمجھیں کہ دماغ میں پیدا ہونے والے ، سوچوں کے ہم ربط بلبلے ایک دوسرے  میں اپنی جڑیں پیوست کرکے اُنہیں یوں سمجھیں ایک گلوبل ولیج میں تبدیل کرتے  ہوئے ایک   بامعنی اکائی بناتے ہیں  ۔
   دماغی طور پر صحت مند انسان میں ، سوچوں کی اِس اکائی کو بنانے ،میں دشواری نہیں ہوتی یہ سب ایک قدرتی خودکار نظام کی مانند ہوتا ہے ، جب کہ ایک لایعنی سوچوں کی دماغی  بیماری میں مبتلاء انسان کے لئے ، ایک خاص ٹیکنیک سے  سوچوں کے بلبلوں کی ایک اکائی میں تبدیل کیا جاتا ہے۔

وہ ٹیکنیک  "ذہنی ارتکاز کی ٹیکنیک" کہلاتی ہے ۔ جسے مختلف مذاہب کے لوگوں نے اپنی دکانداری چمکانے کے لئے الگ الگ نام اور طریقے ایجاد کر لئے ہیں ۔ جو کسی بھی طریقے سے حاصل ہو سکتی ہے ، لیکن اِس ٹیکنیک  کے الفاظ یا انسان کو انسانی بلندیوں پر لے جاتے ہیں یا پستیوں میں گرا دیتے ہیں ۔ بلندیوں پر جانے والا انسان ، انسان ہی رہتا ہے اور  " میں اُس سے بہتر ہوں " کی سوچ رکھنے والا پستیوں کی طرف دوڑنے لگتا ہے ۔

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔