میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

بدھ، 4 جون، 2014

اَن پڑھوں کے لیڈر اَن پڑھ

آج ایک دلچسپ مضمون پڑھنے کو ملا ، آپ بھی پڑھئیے ، لیکن اِ س پرایک ہیڈنگ ہم نے بھی لگائی ہے ۔
جس کے لئے ہم محمد امجد چوہدری سے معذرت خواہ ہیں:
 
 یہ مضمون لگانے کا مقصد یہ ہے کہ ہم ، کالم نگار کی رائے سے متفق نہیں اور اِس کے لئے ہمارے پاس ٹھوس دلائل ہیں ،

ہمارے خیال میں تعلیم کا تعلق ، ڈگری سے نہیں ہوتا ۔اگر ایسا ہوتا تو انسان کبھی ڈگری کے بغیر ترقی نہ کرتا اور  نہ ہی ہم ، اپنی گاڑیاں ، بجلی کی گھریلو اَشیاء لے کر اَن پڑھ مستریوں کے پاس نہ جاتے ، معذرت ہمارے نزدیک مستری اَن پڑھ نہیں ہوتا وہ ہم سے کہیں زیادہ تعلیم یافتہ ہوتا ہے ، بلکہ اُستاد ہوتا ہے اور کئی شاگرد اُس سے تعلیم حاصل کرکے اپنا رزق کما رہے ہوتے ہیں ۔
میری ماں پانچویں کلاس پاس تھی لیکن وہ ہم سے آٹھویں کلاس کے معاشرتی علوم ، دینیات ، اردو اور دیگر مضامین کا امتحان لیتی ، کیوں کہ بڑی بہن  سبق سنتے سنتے ، انہیں یہ سبق یاد ہوگئے تھے ۔
میٹرک کے بعد ہم تلاشِ روزگار کے ابن بطوطہ بن کر  روزگار نوردی کے لئے نکل پڑے تھے ، پھر ہمیں معلوم ہوا ، کہ تعلیم تو آگے بڑھنے کے لئے نہایت ضروری ہےتو ہم نے  روزگار کے ساتھ تعلیم حاصل کرنا شروع کر دی- ایک دفعہ چھٹیوں پر  گھر آئے تو والدہ محترمہ ، چھوٹی بہن سے اس کے ایف ایس سی کے اردو کے مضامین کا زبانیی امتحان لے رہی تھیں اور درمیان میں ٹوک بھی دیتیں ،
ہم نے حیران ہو کر پوچھا ، " امی ، آپ اگر زبانی امتحان دیں تو بہتری نمبر لیں "
وہ بولیں، " ہاں اگر سارا امتحان اردو میں ہو ،تم سب کی پڑھائی سن سن کر میں بھی تعلیم یافتہ ہو چکی ہوں "

اور قارئین یہ حقیقت ہے ، ہمارے کتنے ہم عصروں کی والدائیں ، کم تعلیم یافتہ یا اَن پڑھ تھیں ، لیکن جن ماؤں نے اَپنے بچوں کے ساتھ تعلیم ، امتحان کے دنوں میں اُن سے سن سن کر کی ، اُن کے سب بچے اعلیٰ تعلیم یافتہ ہوئے ، اور وہ مائیں ڈگریوں کے بغیر تھیں ، مگر تعلیم یافتہ تھیں ، اگر بچے کے ذہن کو وسیع کرنا ہو تو اُس سے اُس کا سبق سنیں ، تو بچے کے ذہن کا "میموری ماڈیول " Expend ہوگا ، اُ س دماغ میں   Ram Dive جنریٹ  ہو گی ۔


محمد امجد چوہدری:  بھائییہ سزا نہیں اُس بچی کے لئے ایک تربیتی کلاس ہے ، مجھے امید ہے کہ یہ بچی اب خود میٹرک پاس کرے گی ۔ کیوں کہ جزا،سزا اور انعام دونوں پر مشتمل ہوتی   ہے ۔


 اب رہی بات ، سیاست دانوں کی ، آپ اَن پڑھوں سے ووٹوں کا حق لے لیں ، کیوں کہ اَن پڑھوں کے لیڈر بھی اَن پڑھ ہی ہوتے ہیں ۔

پاکستان میں تعلیم کی رفتار اگر تیز کرنی ہے تو قومی زبان میں تعلیم دیں انگریزی ختم کر دیں ، صرف تین سالوں میں آپ کے میٹرک کا ڈراپ آؤٹ ختم ہوجائے گا ۔سو فیصد بچے،  40 فیصد سے اوپر نمبر لے کر بورڈ کا امتحان پاس کریں گے  - پھر آپ کے آئیندہ کے سیاسد دانوں کو جعلی سند کی ضرورت پیش نہیں آئے گی ۔

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔