میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

جمعہ، 20 جون، 2014

روزے (صوم)


روزے (صوم) کا مطلب اللہ تعالیٰ نے محمد رسول اللہ کو اِن 17 الفاظ میں ارسال کیا اور اُنہیں کہا کہ اِنہیں ایسا ہی عوام الناس کو دے دو ۔ جنہیں صوم کے بارے میں شک یا تردد ہے ۔

 خبردار نہ اِن میں اضافہ کرنا اور نہ ہین اِن میں کمی کرنا ، لوگوں کو بتانا کہ وہ اِسے حکم اللہ سمجھ کر مانے ( حکم ،محمد بن عبداللہ نہیں ) ۔ باقی پھر میں جانوں اور وہ اب حساب کتاب میری ذمہ داری ہے اور نہ ہی اُن کی وکالت یا دلالت کرنا۔ 
۔ ۔ ۔ ۔  وَكُلُوا وَاشْرَ‌بُوا حَتَّىٰ يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الْأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الْأَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ‌ ثُمَّ أَتِمُّوا الصِّيَامَ إِلَى اللَّيْلِ ۔۔۔۔۔۔ ﴿البقرة: 187﴾
جو لوگ صحراؤں میں رہتے ہیں ، انہیں ، سفید اور کالا دھاگہ ایک موٹائی کا دے کر دو اور ایک گھڑی کے ساتھ بھیج دو ، وہ اِن دھاگوں کو مغرب کے فوراً بعد خود سے اتنے  فاصلے پر رکھ دیں جہاں سے اِنہیں کالے اور سفید دھاگے دونوں نظر آئیں ،
اور انہیں کہنا کہ وہ آدھی رات کو اُن دھاگوں کو دیکھیں ،
اُنہیں دونوں دھاگے دو لکیروں کی مانند نظر آئیں گے ،
رات کے پچھلے پہر صبح کاذب سے پہلے انہیں دیکھیں کی کوشش کریں 
جب دونوں دھاگے انہیں دونوں دھاگے انہیں واضح سفید کالے رنگ سے ممتاز نظر آئے تو گھڑی میں وقت نوٹ کر لیں ۔
بس اُس سے پانچ منٹ پہلے احتیاطاً روزہ بند کر لیں۔

مکمل آیت  :۔
اِس
آیت میں اللہ نے حدود اللہ بتائی ہیں  :-


أُحِلَّ لَكُمْ لَيْلَةَ الصِّيَامِ الرَّ‌فَثُ إِلَىٰ نِسَائِكُمْ هُنَّ لِبَاسٌ لَّكُمْ وَأَنتُمْ لِبَاسٌ لَّهُنَّ عَلِمَ اللَّـهُ أَنَّكُمْ كُنتُمْ تَخْتَانُونَ أَنفُسَكُمْ فَتَابَ عَلَيْكُمْ وَعَفَا عَنكُمْ فَالْآنَ بَاشِرُ‌وهُنَّ وَابْتَغُوا مَا كَتَبَ اللَّـهُ لَكُمْ وَكُلُوا وَاشْرَ‌بُوا حَتَّىٰ يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الْأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الْأَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ‌ ثُمَّ أَتِمُّوا الصِّيَامَ إِلَى اللَّيْلِ وَلَا تُبَاشِرُ‌وهُنَّ وَأَنتُمْ عَاكِفُونَ فِي الْمَسَاجِدِ تِلْكَ حُدُودُ اللَّـهِ فَلَا تَقْرَ‌بُوهَا كَذَٰلِكَ يُبَيِّنُ اللَّـهُ آيَاتِهِ لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ يَتَّقُونَ ﴿البقرة: 187﴾


اللہ  تعالیٰ نے محمد رسول اللہ کو انسانوں  کے لئے ، ایمان والوں کے لئے ،   الصِّيَامِ رمضان ، کفارہ ، الحج پر قربانی نہ کر سکنے کی صورت میں  اپنی حدود بتا دی ہیں ۔

نذر    ،جو   انسانی  خواہش ہوتی ہے اُس کو بھی منع نہیں کیا گیا
   اور  روزے ( صوم ) کو  
مندرجہ ذیل11 آیات میں    وضاحت سے بیان کر دیا :
1. يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِن قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ ﴿البقرة: 183﴾
'
اے  وہ   لوگو ( جو)  ایمان  لائے ۔ تم پر الصِّيَامُ    (المعروف روزے ) كُتِبَ (لکھے )ہوئے ہیں  جیسا کہ تم سے  قبل (پہلےکے )   لوگوں پر  كُتِبَ (لکھے )ہوئے ہیں۔ تاکہ تم متقی ہو۔
 
2. أَيَّامًا مَّعْدُودَاتٍ فَمَن كَانَ مِنكُم مَّرِ‌يضًا أَوْ عَلَىٰ سَفَرٍ‌ فَعِدَّةٌ مِّنْ أَيَّامٍ أُخَرَ‌ وَعَلَى الَّذِينَ يُطِيقُونَهُ فِدْيَةٌ طَعَامُ مِسْكِينٍ فَمَن تَطَوَّعَ خَيْرً‌ا فَهُوَ خَيْرٌ‌ لَّهُ وَأَن تَصُومُوا خَيْرٌ‌ لَّكُمْ إِن كُنتُمْ تَعْلَمُونَ ﴿البقرة: 184﴾
 (لکھے ہوئے الصِّيَامُ)کے ایام گنتی شدہ ہیں ۔ پس جو کوئی تم میں سے مریض ہو یا سفر پر ہو ، اُس کے لئے گنتی آخر کے ایام ہیں ۔ اور وہ لوگ جو اپنے اوپراِس    (الصِّيَامُ) کے ساتھ طوق (روزہ رکھنے میں مشکل )محسوس کرتے ہیں  ۔ پس اُن کے لئے مسکین  کو کھانا کھلانے کا فدیہ ہے، پس جو استطاعت کرے   کے ساتھ تو اُس کے لئے خیر ہے ۔ اور اگر تم صوم   (روزے) رکھو  تو تمھارے لئے خیر ہے اگر تمھیں معلوم ہو ۔
 
3. شَهْرُ‌ رَ‌مَضَانَ الَّذِي أُنزِلَ فِيهِ الْقُرْ‌آنُ هُدًى لِّلنَّاسِ وَبَيِّنَاتٍ مِّنَ الْهُدَىٰ وَالْفُرْ‌قَانِ فَمَن شَهِدَ مِنكُمُ الشَّهْرَ‌ فَلْيَصُمْهُ وَمَن كَانَ مَرِ‌يضًا أَوْ عَلَىٰ سَفَرٍ‌ فَعِدَّةٌ مِّنْ أَيَّامٍ أُخَرَ‌ يُرِ‌يدُ اللَّـهُ بِكُمُ الْيُسْرَ‌ وَلَا يُرِ‌يدُ بِكُمُ الْعُسْرَ‌ وَلِتُكْمِلُوا الْعِدَّةَ وَلِتُكَبِّرُ‌وا اللَّـهَ عَلَىٰ مَا هَدَاكُمْ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُ‌ونَ ﴿البقرة: 185﴾
رمضان  (وہ) مہینہ جس میں   انسانوں کی ہدایت  کے لئے 
الْهُدَىٰ اور  الْفُرْ‌قَانِ کی بینات  کے لئے   الْقُرْ‌آنُ نازل ہوا  ، اگر تم میں سے کوئی اِس خاص  مہینے کا شاہد   ہےتو وہ  صوم(روزہ) رکھے  اور جو کوئی تم میں سے مریض ہو یا سفر پر ہو ، اُس کے لئے گنتی آخر کے ایام ہیں ۔ اللہ کی چاہت ہے کہ وہ تمھارے  لئے آسانی لائے اور  اللہ کی  ہرگز  چاہت نہیں  ہے کہ وہ تمھارے  لئے مشکل  لائے۔ تمھیں چاھئیے کہ   خصوصی گنتی کو مکمل کرو ۔ اور جو اللہ نے تمھارے لئے ھدایت دی ہے اُس پر تکبر کرو     - تاکہ تم شکر کرنے والے ہو ۔
 
وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيبٌ أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ فَلْيَسْتَجِيبُواْ لِي وَلْيُؤْمِنُواْ بِي لَعَلَّهُمْ يَرْشُدُونَ﴿البقرة: 186﴾

اورجب میرے عباد تجھ سے میرے متعلق سوال کریں ۔ بے شک میں قریب ہوں۔  دعا کرنے والے کی 
دَعْوَةَ کو     قبول کرتا ہوں جب وہ مجھ سے دعا کرتے ہیں ۔ پس اُنہیں چاھئیے کہ وہ میری قبولیت   کے (منتظر )  ہوں اور میرے ساتھ ایمان (پر)  ہوں  تاکہ وہ راشدون ہو تے رہیں ۔
4. أُحِلَّ لَكُمْ لَيْلَةَ الصِّيَامِ الرَّ‌فَثُ إِلَىٰ نِسَائِكُمْ هُنَّ لِبَاسٌ لَّكُمْ وَأَنتُمْ لِبَاسٌ لَّهُنَّ عَلِمَ اللَّـهُ أَنَّكُمْ كُنتُمْ تَخْتَانُونَ أَنفُسَكُمْ فَتَابَ عَلَيْكُمْ وَعَفَا عَنكُمْ فَالْآنَ بَاشِرُ‌وهُنَّ وَابْتَغُوا مَا كَتَبَ اللَّـهُ لَكُمْ وَكُلُوا وَاشْرَ‌بُوا حَتَّىٰ يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الْأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الْأَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ‌ ثُمَّ أَتِمُّوا الصِّيَامَ إِلَى اللَّيْلِ وَلَا تُبَاشِرُ‌وهُنَّ وَأَنتُمْ عَاكِفُونَ فِي الْمَسَاجِدِ تِلْكَ حُدُودُ اللَّـهِ فَلَا تَقْرَ‌بُوهَا كَذَٰلِكَ يُبَيِّنُ اللَّـهُ آيَاتِهِ لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ يَتَّقُونَ ﴿البقرة: 187﴾


تمھارے لئے حلال کی گئی
لَيْلَةَ الصِّيَامِ   میں الرَّ‌فَثُ  (اٹھکیلیاں)  تمھاری  نساء کی طرف  ۔ وہ تمھارا لباس ہیں اور تم اُن کا لباس ہو ۔ اللہ کو علم ہے جو تم اپنے نفسوں میں چھپاتے  ہو ، وہ تم پر تاب  (توبہ قبول کرنے والا) ہوا اور تم  پر عفا (معافی دینے والا) ہو ۔   پس اب انہیں  چاھئیے  کہ اَب وہ  اُن (اپنی نساء) سے مباشرت کر سکتے ہیں ، اور جو اللہ نے لکھا ہے ہے پس تم  اُس  کی ابتغاء ( خواہش)  رکھو   ۔ اور کھاؤ پیو ، حتیٰ کہ  الفجر میں ،تمھارے لئے  سفید دھاگا ، کالے دھاگے سے ممتاز ہو جائے۔ پھر اتمامِ   الصیام   ، رات کی طرف کرو ۔اور تم مباشرت   مت کرو جب تم المساجد میں عاکفون ہو ، وہ اللہ کی حدود ہیں ۔تم  اُن کے قریب مت جاؤ۔ اِس طرح اللہ انسانوں کے لئے اپنی آیات ممتاز کرتا رہے گا ۔ تاکہ وہ ، متقی ہوتے رہیں  ۔ 
5. وَأَتِمُّوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَ‌ةَ لِلَّـهِ فَإِنْ أُحْصِرْ‌تُمْ فَمَا اسْتَيْسَرَ‌ مِنَ الْهَدْيِ وَلَا تَحْلِقُوا رُ‌ءُوسَكُمْ حَتَّىٰ يَبْلُغَ الْهَدْيُ مَحِلَّهُ فَمَن كَانَ مِنكُم مَّرِ‌يضًا أَوْ بِهِ أَذًى مِّن رَّ‌أْسِهِ فَفِدْيَةٌ مِّن صِيَامٍ أَوْ صَدَقَةٍ أَوْ نُسُكٍ
فَإِذَا أَمِنتُمْ فَمَن تَمَتَّعَ بِالْعُمْرَ‌ةِ إِلَى الْحَجِّ فَمَا اسْتَيْسَرَ‌ مِنَ الْهَدْيِ فَمَن لَّمْ يَجِدْ فَصِيَامُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ فِي الْحَجِّ وَسَبْعَةٍ إِذَا رَ‌جَعْتُمْ تِلْكَ عَشَرَ‌ةٌ كَامِلَةٌ ذَٰلِكَ لِمَن لَّمْ يَكُنْ أَهْلُهُ حَاضِرِ‌ي الْمَسْجِدِ الْحَرَ‌امِ وَاتَّقُوا اللَّـهَ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّـهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ ﴿البقرة: 196﴾


اور تم
الْحَجَّ  اور الْعُمْرَ‌ةَ کا اتمام اللہ کے لئے کرو ۔ پس اگر تم ( الْحَجَّ  اور الْعُمْرَ‌ةَ )    حصار میں جاؤ (آگے نہ جانے کے لئے )   پس تم   الْهَدْيِ الْحَجَّ  اور الْعُمْرَ‌ةَ کی خصوصی ہدایت  )   میں سےیقینی آسانی کرو ۔اور تم  اپنے رُ‌ءُوسَ کا  حْلِقُ مت کرو   حتیٰ کہ   الْهَدْيُ ( الْحَجَّ  اور الْعُمْرَ‌ةَ کی خصوصی ہدایت  )    کیمَحِلَّ     کا  اعلان ہو جائے ۔  پس تم میں جو کوئی مریض ہو یا جس کے  رَّ‌أْسِ میں اِس   حْلِقُ کے ساتھ اذیت محسوس ہو ۔ پس اُس کے فدیہ میں  صِيَامٍ یا  صَدَقَةٍ  یا   نُسُكٍ ہے ۔

اور جب تم اِس (حصار ) کے ساتھ اَمن پاؤ ، تو تم الْعُمْرَ‌ةِ  کے ساتھ  مَتَّعَ کرو  کی الْحَجِّ طرف    پس تم   الْهَدْيِ ( تم الْعُمْرَ‌ةِ  کے ساتھ  مَتَّعَ کرو  کی الْحَجِّ طرف  )   میں سےیقینی آسانی کرو ۔پس تم   نہیں پاتے (   الْهَدْيِ  تو آسانی  کے لئے )  أَيَّامٍ الْحَجِّ میں  تین صِيَامُ   اور   سات صِيَامُ جب تم رجوع (اپنے گھروں کو)  کرو ، وہ مکمل دس  ہوئے ، وہ اُس کے لئے جس کے اہل الْمَسْجِدِ الْحَرَ‌امِ کی حاضری میں نہیں ہیں۔ اور اللہ سے تقی رہو ، اور علم رہے کہ اللہ  شَدِيدُ الْعِقَابِ ہے   

'
'صِيَامُ دوقوموں کے درمیان میثاق ہونے کے باوجود   قتل کا قصاص ۔
6. وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ أَن يَقْتُلَ مُؤْمِنًا إِلَّا خَطَأً وَمَن قَتَلَ مُؤْمِنًا خَطَأً فَتَحْرِ‌يرُ‌ رَ‌قَبَةٍ مُّؤْمِنَةٍ وَدِيَةٌ مُّسَلَّمَةٌ إِلَىٰ أَهْلِهِ إِلَّا أَن يَصَّدَّقُوا فَإِن كَانَ مِن قَوْمٍ عَدُوٍّ لَّكُمْ وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَتَحْرِ‌يرُ‌ رَ‌قَبَةٍ مُّؤْمِنَةٍ وَإِن كَانَ مِن قَوْمٍ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُم مِّيثَاقٌ فَدِيَةٌ مُّسَلَّمَةٌ إِلَىٰ أَهْلِهِ وَتَحْرِ‌يرُ‌ رَ‌قَبَةٍ مُّؤْمِنَةٍ فَمَن لَّمْ يَجِدْ فَصِيَامُ شَهْرَ‌يْنِ مُتَتَابِعَيْنِ تَوْبَةً مِّنَ اللَّـهِ وَكَانَ اللَّـهُ عَلِيمًا حَكِيمًا ﴿النساء: 92﴾''
'
صِيَامُ
عقد کئے  ہوئے 
أَيْمَانِ  ( معاہدہ یا قسم )  کو توڑنے کا کفارۃ ۔
7. لَا يُؤَاخِذُكُمُ اللَّـهُ بِاللَّغْوِ فِي أَيْمَانِكُمْ وَلَـٰكِن يُؤَاخِذُكُم بِمَا عَقَّدتُّمُ الْأَيْمَانَ فَكَفَّارَ‌تُهُ إِطْعَامُ عَشَرَ‌ةِ مَسَاكِينَ مِنْ أَوْسَطِ مَا تُطْعِمُونَ أَهْلِيكُمْ أَوْ كِسْوَتُهُمْ أَوْ تَحْرِ‌يرُ‌ رَ‌قَبَةٍ فَمَن لَّمْ يَجِدْ فَصِيَامُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ ذَٰلِكَ كَفَّارَ‌ةُ أَيْمَانِكُمْ إِذَا حَلَفْتُمْ وَاحْفَظُوا أَيْمَانَكُمْ كَذَٰلِكَ يُبَيِّنُ اللَّـهُ لَكُمْ آيَاتِهِ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُ‌ونَ ﴿المائدة: 89﴾''
'
صِيَامً
احرام کی حالت میں  خشکی کے شکار کا کفارہ ۔
8. يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَقْتُلُوا الصَّيْدَ وَأَنتُمْ حُرُ‌مٌ وَمَن قَتَلَهُ مِنكُم مُّتَعَمِّدًا فَجَزَاءٌ مِّثْلُ مَا قَتَلَ مِنَ النَّعَمِ يَحْكُمُ بِهِ ذَوَا عَدْلٍ مِّنكُمْ هَدْيًا بَالِغَ الْكَعْبَةِ أَوْ كَفَّارَ‌ةٌ طَعَامُ مَسَاكِينَ أَوْ عَدْلُ ذَٰلِكَ صِيَامًا لِّيَذُوقَ وَبَالَ أَمْرِ‌هِ عَفَا اللَّـهُ عَمَّا سَلَفَ وَمَنْ عَادَ فَيَنتَقِمُ اللَّـهُ مِنْهُ وَاللَّـهُ عَزِيزٌ ذُو انتِقَامٍ ﴿المائدة: 95﴾''
'
صَوْمً
نذر کے لئے ۔
9. فَكُلِي وَاشْرَ‌بِي وَقَرِّ‌ي عَيْنًا فَإِمَّا تَرَ‌يِنَّ مِنَ الْبَشَرِ‌ أَحَدًا فَقُولِي إِنِّي نَذَرْ‌تُ لِلرَّ‌حْمَـٰنِ صَوْمًا فَلَنْ أُكَلِّمَ الْيَوْمَ إِنسِيًّا ﴿مريم: 26﴾'
'
الصَّائِمِينَ وَالصَّائِمَاتِ
10. إِنَّ الْمُسْلِمِينَ وَالْمُسْلِمَاتِ وَالْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ وَالْقَانِتِينَ وَالْقَانِتَاتِ وَالصَّادِقِينَ وَالصَّادِقَاتِ وَالصَّابِرِ‌ينَ وَالصَّابِرَ‌اتِ وَالْخَاشِعِينَ وَالْخَاشِعَاتِ وَالْمُتَصَدِّقِينَ وَالْمُتَصَدِّقَاتِ وَالصَّائِمِينَ وَالصَّائِمَاتِ وَالْحَافِظِينَ فُرُ‌وجَهُمْ وَالْحَافِظَاتِ وَالذَّاكِرِ‌ينَ اللَّـهَ كَثِيرً‌ا وَالذَّاكِرَ‌اتِ أَعَدَّ اللَّـهُ لَهُم مَّغْفِرَ‌ةً وَأَجْرً‌ا عَظِيمًا ﴿الأحزاب: 35﴾
'
صِيَامُ
ظھار ( اپنی بیوی کو ماں کہنا )  کے قصاص میں کفارۃ  ۔
'
11. وَالَّذِينَ يُظَاهِرُونَ مِن نِّسَائِهِمْ ثُمَّ يَعُودُونَ لِمَا قَالُوا فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مِّن قَبْلِ أَن يَتَمَاسَّا ذَلِكُمْ تُوعَظُونَ بِهِ وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ﴿المجادلة: 2﴾ 
'
فَمَن لَّمْ يَجِدْ فَصِيَامُ شَهْرَ‌يْنِ مُتَتَابِعَيْنِ مِن قَبْلِ أَن يَتَمَاسَّا فَمَن لَّمْ يَسْتَطِعْ فَإِطْعَامُ سِتِّينَ مِسْكِينًا ذَٰلِكَ لِتُؤْمِنُوا بِاللَّـهِ وَرَ‌سُولِهِ وَتِلْكَ حُدُودُ اللَّـهِ وَلِلْكَافِرِ‌ينَ عَذَابٌ أَلِيمٌ ﴿المجادلة: 4﴾


نوٹ :
1- مندرجہ  بالا 
11آیات ، صوم پر ، صرف اور صرف ، عربی میں ختم النبوت ہے، کسی بھی زبان کے ترجمے پر نہیں   ۔

2- وَأَقِمِ الصَّلَاةَ طَرَ‌فَيِ النَّهَارِ‌ وَزُلَفًا مِّنَ اللَّيْلِ إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ ذَٰلِكَ ذِكْرَ‌ىٰ لِلذَّاكِرِ‌ينَ ﴿هود: 114﴾

اور اقام الصَّلَاةَ کر النَّهَارِ‌ کے اطراف ۔ اور رات میں سے زُلَفً ، بے شک الْحَسَنَاتِ ، ال
سَّيِّئَاتِ کو ذْهِب کرتی رہتی ہیں ۔ وہ (الْحَسَنَاتِ جو اقام الصَّلَاةَ سےمنسلک ہیں ) ذاکرین کے لئے ذکر ہے ۔
نوٹ : یہ طَرَ‌فَيِ النَّهَارِ‌ ، اقام الصَّلَاةَ کے لئے ہیں أَتِمُّ الصِّيَامَ کے لئے نہیں !

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
مزید پڑھیں :


http://www.ufaqkaypaar.com/2017/06/blog-post_36.html

روزہ افطار کا وقت کیا ہے ؟

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔