میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

ہفتہ، 21 جون، 2014

منکرین حدیث کو پہچاننا آسان ہے ۔


قارئین ، اِس مضمون کو پڑھیں ۔ آپ منکرین حدیث کو آسانی سے بہچان لیں گے ، قطع نظر اِس کے کہ اُس کی داڑھی کی لمبائی کیا ہے ۔

مصحف عثمان میں کئی آیات شامل ہونے سے رہ گئیں ۔ امام صحاح ستہ  میں سے کچھ کا  متفقہ  اجماع :-
" حضرت عمر بن الخطاب کے زُہد اور تقویٰ کے مطابق اُن کا حج کے بعد مدینہ منورہ  میں منبر ِ رسول پر بیٹھ کر ہونے والے  اعلان  کا  انکار نہیں ہو سکتا ۔ کہ مصحف عثمان مکمل نہیں ہے "
 

منکرین دراصل اردو لفظ ہے جس کا مطلب ،
کسی چیز سے یکسر انکار کرنا ،
نظر انداز کرنا ،
نہ ماننے کے لئے جھوٹا ثابت کرنا ،
حجت کرنا
وغیرہ وغیرہ


 حدیث ، احادیث  :   سے مراد وہ الفاظ مبارکہ جو محمد رسول اللہ کے دھانِ مبارک سے ادا ہوئے اور اُنہوں نے فرمایا کہ یہ جو الفاظ میں نے ادا کئے ہیں :
٭ -  یہ اللہ کی طرف سے ہیں اور یہ
وحی  متلو ہیں ۔
٭- اور یہ جو الفاظ میں نے مزید ادا کئے ہیں یہ بھی اللہ کی طرف سے ہیں اور
وحی غیر متلو ہیں ۔

اب چونکہ یہ محمد رسول اللہ نے فرمایا ، لہذا وحی متلو جو 114 سورتوں میں 6،234 آیات پر مشتمل ہیں اور القرآن کا حصہ ہیں اور وحی غیر متلو 22،621پر مشتمل ہیں اور صحاح ستہ کا حصہ ہیں

اب میرے مطابق ، صورتِ حال یہ ہے ، کہ محمد رسول اللہ پر اللہ نے اپنی آیات لوگوں کو سنانے کے لئے ، مختلف طریقوں سے نازل کیں ۔

وَمَا كَانَ لِبَشَرٍ‌ أَن يُكَلِّمَهُ اللَّـهُ إِلَّا وَحْيًا أَوْ مِن وَرَ‌اءِ حِجَابٍ أَوْ يُرْ‌سِلَ رَ‌سُولًا فَيُوحِيَ بِإِذْنِهِ مَا يَشَاءُ إِنَّهُ عَلِيٌّ حَكِيمٌ ﴿الشورى: ٥١﴾




لہذا آپ نے جب یہ آیات انسانوں کو بتائیں تو اُن میں صاحب علم بھی تھے اور اِن پڑھ بھی ، مالدار بھی تھے اور غریب بھی ، ایمان والے بھی تھے اور منافق بھی ۔ اُن سب کو اللہ کی طرف سے نازل ہونے والی آیات مبارکہ میں سے جو نہ سمجھ آئیں وہ محفل میں تنہائی میں ، دویا دو سے زیادہ کے گروپ میں آپ صلعم سے  پوچھ لیں ۔

  کئی ایسے تھے ، جو اُس وقت مجلس میں موجود نہ  تھے ،  اُنہیں  سننے والوں نے بتادیں ، کچھ نے مزید  دو یا تین اصحاب سے سن لیں ،اب لازمی بات ہے کہ ایک واقعہ کو دو افراد سے سنا جائے تو فرق لازما! آئے گا ، لہذا ،   اُن میں معمولی سافرق دیکھ کر  غالباً بیان کرنے والوں نے ، اُس کے الفاظ کو بہتر کرنے کی کوشش کی  ، آپ صلعم سے رجوع کیا تو ،آپ صلعم نے سن کر  فرمایا کہ ایسا ہی ہے ، یعنی ٹھیک ہے ۔


  پھر لوگوں نے متقی بننے کے لئے ، اِن کی بھی تلاوت غالباً کثرت سے شروع کردی ، تو آپ نے خوش دلی سے (ڈانٹے بغیر) بتایا کہ
وحی  متلو کون سی ہے اور وحی غیر متلو کون سی !


 وَمَا يَنطِقُ عَنِ الْهَوَىٰ ﴿3﴾ إِنْ هُوَ إِلَّا وَحْيٌ يُوحَىٰ ﴿4﴾ النجم



کیوں کہوحی  متلو کو وحی غیر متلو  سے    متمیز کرنے کا حق صرف آپ صلعم کے پاس تھا ۔

منافقین، فاسقین اور کافرین نےلوگوں کو بھٹکانے کے لئے
وحی غیر متلو    میں اضافہ کیا ۔

آپ  صلعم کے دنیا سے پردہ فرمانے کے بعد  ، وہ لوگ وحی غیر متلو کو دور دراز علاقوں میں لے گئے ، لہذاوحی غیر متلو میں اضافہ ہونا شروع ہوا ، چنانچہ لوگوں کو خیال آیا  کہ اِس اضافے کا کچھ سدباب ہونا چاھئیے  ۔
90 ہجری کے بعد ، پہلی
وحی غیر متلو اور کچھ حصے  وحی  متلو   ملا کر ، امام مالک نے  موطاء لکھی  جن میں کم و بیش  2400  قول منسوب  رسول شامل کی گئیں ، چونکہ اِس میں" حدثنا " کے بعد  ، قول منسوب بتایا گیا ، لہذا  یہ بطور حدیث مشہور ہوگئیں ۔

وحی غیر متلو  میں اضافہ جاری رہا ، کیوں اِس کا علم اللہ ہی کو ہے ،  پھر لگ بھگ 200 ہجری میں بغداد کے علما ء  کو خیال آیا کہ ، محمد رسول اللہ کے اقوال میں کچھ ایسے اقوال بھی شامل ہوگئے ہیں ، جو کسی بھی طور پر ایک ایسے دین کے شایانِ شان نہیں ، جو تاقیامت رہے گا اور پھر قرآن چونکہ  ابھی تک اتنا نہیں لکھا گیا تھا اور عجمیوں کو پڑھنا بھی نہیں آتا تھا ،
لہذا بخاری، نیشاپوری ، ترمذی ، سیستانی ، قزوینی    وغیرہ کے دل میں  خیال آیا کہ دین اسلام کے لئے کچھ کرنا چاھئیے (جیسے آج کل کئی  دیندار لوگ کر رہے ہیں، کتابوں پر کتابیں لکھ رہے ہیں
وحی غیر متلو  کو اپنے اسلوب   میں بیان کر رہے ہیں   ) 
چنانچہ ، بغداد کے یہ اسلامی ڈگری یافت ہمسلمانوں کو فرقہ بندی سے بچا کر  دین کا ذوق و شوق ابھار کر
اُمت واحدہ  میں پرونے والے دینداروں نے وحی غیر متلو  کو جمع کرنے کا منصوبہ بنایا     ۔
اِس کار خار زار میں پہلا قدم رکھنے والے پہلے ۔
٭- بخاری (194-256 ھجری)   ،
٭ - خراسانی (ابوداؤد- 202-275 ہجری )،
٭ - نیشاپوری
(مسلم- 206-261 ہجری )،
٭-قزوینی
(ابنِ ماجہ- 209-273 ہجری )  ،
٭ - ترمذی
(ابوداؤد- 209-279 ہجری )  ،
٭ - نسائی
(ابوداؤد- 214-303 ہجری )،
یہ  درمند ساسانی (زرتشت حکومت کا نام)  مسلم مسلمان عالم  ، بغداد کے درخشندہ ستارے (اُن دنوں مکہ و مدینہ  میں قحط عالمون تھا )   چنانچہ  وہ  دیکھ کر حیران رہ گئے ، کہ مدینہ سے کابل، ماوراء النہر ، دمشق و شام  میں کم و بیش ،  چھ لاکھ
وحی غیر متلو ، مسلمانوں میں گردش کر رہی ہیں اور وہ اُن پر سنت(دین کا حصہ) سمجھ کر عمل بھی کر رہے ہیں -

لہذاٰ انہوں نے اپنے پورے فہم  و دانش ، فکر و تدبر ، ایمان و تقویٰ اورپیدل سفر  کرکے اِن
وحی غیر متلو کو تلاش کیا تو اُنہیں چھ لاکھ ملیں ، بطریق منادلہ انہوں نے ، ایک لاکھ کو قبول کیا ، اُس کے بعد اُنہوں نے کئی سال اِن ایک لاکھ وحی غیر متلو کو ، خوب چھانا اور پھٹکا ، قرآن کے سامنے پیش کیا ۔

اُن چھ عالموں نے بغداد میں جمع ہو کر یا عالم منام میں ایک دوسرے سے بطریق منادلہ ، متفقہ طور پر   
22،621 کو اپنی  تصنیف میں شامل کر کے  چھ صحیح تصانیف بنائی اور ساتویں  موطاء امام مالک کو شامل کرنے کے بعد اَنہوں نے ، متفق علیہ ہو کر اُنہیں صحاح ستہ کا ٹائیٹل دے کر دنیا بھر کے مسلمانوں کے لئے ایک گراں قدروحی غیر متلو ،علم کا خزانہ تیار کیا  ۔ جس  کے بغیر قرآن کو سمجھنا   ، صحاح ستہ  کے مؤلفین  کے نزدیک بہت مشکل تھا  کہ اَن پڑھ یا عجمی ،  عوام الناس اِس کو سمجھ پائیں ،
چنانچہ علماء جمہور کے مطابق ، وحی متلو و وحی غیر متلو کا انکار درست نہیں ، وحی متلو کے منکر کو بلا ، رد ُو قد  کافر  یا مرتد کہا جاسکتا ہے  اور وحی غیر متلو کے منکر   ، کو شانِ رسول کی گستاخی کا مرتکب اور منکر حدیث (بہت زیادہ ہوں تو منکرین ) حدیث  (غیر متلو ) کہاجائے گا ۔

  کیوں کہ نبی اکرم کے دھانِ مبارک سے جو وحی  (متلو یا غیر متلو)ادا ہوئی اور اُنہوں نے اُس پر عمل کیا ،  اُن پر  ہو بہو ، بلا اضافہ بدعت کے عمل کرنا ، تمام مسلمانوں پر  متفقہ طور پر لازم ہے  اور کسی ایک کا بھی انکا ر ، نفاق سے کفر اور کفر سے شرک میں لے جاتا ہے ۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
سوالات و جوابات ببابت ،وحی غیر متلو ،  المعروف احادیث  (صرف صحاح ستہ میں مکتوب ) ۔  

1-  اب کئی نادان پوچھتے ہیں کہ کیا وحی غیر متلو ، قرآنی لفظ ہے ؟
تو اُن سے ادب کے ساتھ عرض ہے کہ کیا ، اُن کی تصانیف میں سارے قرآنی لفظ ہیں لیکن  ، اُن کی اطلاع کے لئے عرض ہے ۔ وحی ، غیر اور متلو ( یتلو سے ) قرآنی لفظ ہی ہیں ۔  

2- داڑھی اور مونچھوں کے بارے میں وحی غیر متلو کا کیا حکم ہے ۔
مونچھیں کٹواؤ اور داڑھی بڑھاؤ  کا حکم ہے
جو  صحاح ستہ میں تلاش کیا جاسکتا ہے ، جو وحی غیر متلو کی مستند اور صحیح  کُتب ہیں ۔




خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔