میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

پیر، 23 جون، 2014

تمہید ۔وحی متلو سے غیر متلو تک

یوم الخمیس (جمعرات ) اور یوم الجمعہ  کی درمیانی شب درمیانی شب کا یعنی 19 جون 2014 کا ذکر ہے ، کہ ہم چار بچپن کے دوست موبائل پر کانفرنس کال کر رہے تھے ، جو عموماً ساڑھے دس بجے سےشروع ہو کر دو بجے اور بعض دفعہ ،  اذان الفجر تک جاتی تھی ۔ اور یہ گذشتہ ساڑھےتین ماہ سے مسلسل روزانہ کامعمول تھا -
 شروع میں تو بچپن کے تمام واقعات   ، شرارتوں کا ذکر ہوا ، پھر میرپورخاص و سندھ کے سیاسی ، سماجی ، معاشرتی ، واقعات  پر تبصرے ہوتے ، سیاسی واقعات  سے میری دلچسپی نہیں ، لہذا ایک اور دوست کو لیا جاتا ۔ جن کا نام محمد شفیع خان ہے ۔ جب سب چیزوں پر گفتگو ختم ہوئی تو ، اپنے اپنے  بچوں ، ان کے بچوں   سے گذرتے ہوئے ، دینی   اور مذہبی اور دیگر واقعات  شروع ہوئے ۔
پھر مجھے خیال آیا کہ کچھ ترتیب ہونا چاہئیے ۔ تو دوستوں کی مشاورت سے ۔  تین دن بصیرت ، ایک دن سیاست ، ایک دن گپ شپ ، ایک دن کھینچاتانی اور ایک دن شفیع کی سیاسی لنترانیاں  ۔
میری پیدائش ایک سو فیصد دینی گھرانے میں ہوئی ، زندگی کی پیاری اور سکون بھری راہوں پر چلتے ، مختلف مذہبی علوم و مذاہب کی مطالعہ کرتے  ہمارا ٹکراؤ 1991 میں کوئٹہ میں غلام احمد پرویز کی کتب سے ایک ہماری ہی طرح حق کی تلاش میں سرگرداں ، عبدالواحد خان (ہمارے کلاس فیلو) نے کروایا، دماغ بھک سے اُڑ گیا ، دین میں سوچنا تو کفر کی طرف لے جاتا ہے ، یہی ہمیں بچپن سے سکھایا گیا تھا ، چنانچہ صاف چھپتے بھی نہیں اور سامنے آتے بھی نہیں کی مانند ، ابنِ صفی کے ناولوں کی طرح اُن کی ساری کتابیں پڑیں ، ذہن کھلنا شروع ہوا ۔
 پھر 1993 میں خپلو کے ایک بزرگ نے ایک نئی سوچ دی ، چنانچہ ، اپنا رشتہ کُلی طور پر "الکتاب اور کتاب اللہ " (آفاقی سچائیاں ) سے جوڑ دیا ، بہت نشیب و فراز آئے لیکن اللہ تبارک و تعالیٰ کا لاکھ لاکھ شکر ہے دونوں سے رابطہ برقرار رہا اور اب بھی ہے ۔ 
٭٭٭٭٭٭٭٭٭
 تو ذکر ہورہا تھا ،  19 جون 2014  کی  بحث کا ،  بحث نے یک دم  سیریس رخ اختیار کیا ، کیوں کہ شہریار کورائی نے کچھ ایسی بات کی جس کو عقل رد نہیں کر سکتی تھی ،اور میں نے تسلیم کیا کہ شہریار کا فہم درست ہے ،  شہریار ،  بشیر احمد بلوچ   کا سالا ،  سلیم آزاد حسب معمول خاموش تماشائی کی مانند یہ میچ سن رہا تھا    اور بشیر احمد بلوچ  پھٹ پڑا :
"نعیم ،  میں تمھیں بچپن سے نہیں جانتا ، کیا تم اپنی بات ، کبھی ہاں سے شروع کر سکتے ہو؟ ہر وقت نہیں   کی گردان لگائے رکھتے ہو  !   تم پرویزی ہو ، منکرینِ حدیث ہو ، تمھاری بات سننا اپنے دماغ کو مصیبت میں مبتلاء کرنا ہے - تم نے شہریار کی حمایت کیوں کی ؟ وغیرہ وغیرہ "
 

میں نے ، جلتے توے پر پانی ڈالنے کی کوشش کی،
 "کہ بھائی انکار الحدیث  میرے نزدیک کفر ہے "
  مگر چھن چھن کی آواز کے بعد چپ ہوگیا، اب دھاڑتے شیر کو کون چپ کروائے ،؟
" تم ۔ حدیثوں کا مانتے ہو ؟ قسم کھاؤ !"
 میں بولا:
 "یار تم نے میری بات غور سے نہیں سنی میں نے عرض کیا ہے نا ،کہ انکار الحدیث  میرے نزدیک کفر ہے "
 چنانچہ آزاد  نے مائیک  سنبھالا ، "یارو! رات کافی ہوگئی ہے ، لہذا اجازت ،  "

سب نے ایک دوسرے  کو اللہ حافظ  اور گفتگو بند ہوگئی ۔ گفتگو بند کرنے کے بعد اچانک  مجھے خیال آیا ، کہ یہ بشیر صاحب نے اچانک ،
" گلو بٹ " کا رویہ کیوں اختیار کیا ؟

 گھڑی دیکھی ، سوا بارہ بج چکے تھے ،  خیر لیپ ٹاپ پر اپنے حسبِ معمول اپنے "الکتاب" کے   کام میں جٹ گئے ۔
جونہی نیند نے غلبہ پایا ہم نے لیپ ٹاپ کو ایک طرف دھکا دیا اور

    اللَّـهُ لَا إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ ﴿3:2
جومیرے دورانِ سروس   دورِ سیاچین   میں ملنے والا   وظیفہ ہے ،  پڑھتے پڑھتے ، نیند کی وادیوں میں گم ہوگئے ۔یہ میرا کئی سالوں سے معمول ہے ، کیا معلوم صبح آنکھ نہ کھلے ،   فجر سے پہلے  میں نے خواب دیکھا  کہ ۔
میں مسجد حرام میں اپنی مخصوص جگہ پر ، باب عبدالعزیز کے سامنے ، بیٹھا ہوں ، سارا حرم خالی ہے ، اچانک ہوا چلنا شروع ہوتی ہے ، اور اُس کے ساتھ سوکھے پتے اور دیگر  اُڑ کر آنا شروع ہوجاتے ہیں ، لیکن مجھ سے کچھ دور ہی رہتے ہیں ، میں اِس ڈر سے کہیں یہ میرے پاس سجدے کی جگہ پر  نہ آئیں اپنے دائیں جانب پڑی ہوئی  ایک لمبی ٹہنی اٹھا کر اپنے سامنے رکھ دیتا ہوں ، تھوڑی دیر بعد حرم انسانوں سے بھرنے لگا وہ سب  سوکھے پتوں پر ہی بیٹھ رہے تھے " ۔

اذان فجر سے پہلے ، مسجد سے لاؤڈ سپیکر پر سلام پڑھنے سے آنک کھل گئی ۔ یہ خواب کیوں آیا ؟

 میں نے سوچا ، میری فہم کے مطابق ،  خواب ہر انسان دیکھتا ہے اُس کا پچھلے دن کا پچھلے دنوں میں ہونے والے واقعات  سے گہرا تعلق ہوتا ہے ، جو مستقبل کی وارننگ یا بشارت بنتا ہے ۔ اور اِس کا کُلّی تعلق خواب دیکھنے والے سے ہوتا ہے ۔
 خیر باقی معمولات کے بعد پھر سو گیا ۔ دس بجے آنکھ کھلی ، پھر خواب یاد آیا اور ایک عزم کے ساتھ اُٹھا ، وضو کیا اور لیپ ٹاپ آن کر لیا ، جو پہلی آیت ذہن میں تحت الشعور سے شعور میں آئی وہ یہ تھی ۔
النَّبِيُّ أَوْلَىٰ بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنفُسِهِمْ ۖ وَأَزْوَاجُهُ أُمَّهَاتُهُمْ ۗ وَأُولُو الْأَرْ‌حَامِ بَعْضُهُمْ أَوْلَىٰ بِبَعْضٍ فِي كِتَابِ اللَّـهِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُهَاجِرِ‌ينَ إِلَّا أَن تَفْعَلُوا إِلَىٰ أَوْلِيَائِكُم مَّعْرُ‌وفًا ۚ كَانَ ذَٰلِكَ فِي الْكِتَابِ مَسْطُورً‌ا ﴿33:6﴾
 میرا ارمان ہے ،
محمدﷺ نے     اللہ کی طرف سے  بذریعہ روح القدّس ،    بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ   سے مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ     تک  نازل ہونے والی الکتاب   ، اللہ کے منتخب حفّاظ کو حفظ کروا ئی جو  اِس وقت لاکھوں حفّاظ کے سینوں میں محفوظ ہے  اور ناقابلِ تبدیل ہے ۔
منکر، منکرین ِ حدیث ، قادیانی ، کافر ، دین سے دور ، مرتد  کی آوازیں  ، جو میرے  دوستوں نے مجھ  پر بلند کیں ، میرے اِس  اعلان و عزم کے باوجود   "کہ  انکار الحدیث  میرے نزدیک کفر ہے "
 میرے لئے تکلیف دہ تو تھیں ، لیکن ایک سکون تھا ، کہ دل کے حالات کی خبر تو اللہ کو ہے، انسانوں کو کیا معلوم اور میں نے یا دیگر انسانوں نے  اپنا امتحان انسانوں کو تو نہیں دینا ۔
وَأَشْرَ‌قَتِ الْأَرْ‌ضُ بِنُورِ‌ رَ‌بِّهَا وَوُضِعَ الْكِتَابُ وَجِيءَ بِالنَّبِيِّينَ وَالشُّهَدَاءِ وَقُضِيَ بَيْنَهُم بِالْحَقِّ وَهُمْ لَا يُظْلَمُونَ ﴿39:69﴾
 
اگلے دن یعنی یوم الجمعہ  یوم اور  السبت (ہفتہ )  کو  گیارہ بجے موبائل اٹھا یا اور سلیم آزاد کا نمبر ملایا، سلام دعا کے بعد شہریار کا نمبر ملایا اور پھر بشیر صاحب کا نمبر ملایا ۔
" السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ، نعیم صاحب " بشیر صاحب کی آواز آئی   ۔
وعلیکم السلام
رحمۃ اللہ و برکاتہ ، بشیر بھائی ،ایک منکرِ حدیث کا آداب بھی قبول ہو "ہم نے رسانیت سے جواب دیا ۔
چاروں کا ایک قہقہہ بلند ہوا ، بشیر صاحب نے معذرت کی لیکن اپنی ہٹ پر قائم رہا!
تب شہریار نے بشیر صاحب سے پوچھا ، " بشیر بھائی آپ کا موبائل اگر گم ہوجائے اور کسی کو مل جائے وہ اِسے کھول کر دیکھے ، تو وہ آپ کو کیا سمجھے گا ؟"
بشیر صاحب سٹ پٹا گئے ،  بولے ، 

" یاں یار ، میرے موبائل میں ، پرویز صاحب کے سارے درس ہیں ، لیکن دوسرے بھی ہیں " انہوں نے ہکلاتے ہوئے جواب دیا ۔
پھر پوچھا ،

" کہ اگر وہ آپ کے گھر آئے اور آپ کی کتابوں کی لائبریری دیکھے تو ، کیا وہ آپ کو پرویزی نہیں سمجھے گا ؟"
" ہاں یار بالکل سمجھے گا۔لیکن نعیم صاحب حدیثوں کو نہیں مانتے ، میرا یہی جھگڑا ہے "۔ بشیر صاحب نے قبولتے ہوئے عذر پیش کیا ۔
" بشیر بھائی نعیم صاحب نے ڈاکٹر منظور ( پرویزی سوچ۔حیدرآباد میں مقیم ) کو کیا ایک آیت سے ناک آؤٹ نہیں کیا ؟" شہریار نے اُنہیں یاد دلایا ۔
" ہاں ایسا ہی ہے " بشیر صاحب دبی آواز میں بولے۔
یہ سننا تھا کہ اب ہم شیر ہو گئے ،

" یار بشیر بھائی ، 1994 سے  ہم نے پرویز صاحب کی تمام کتابیں ، سوائے لُغات القرآن سُتلیوں سے باندھ کر الماری بُرد کر دیں ہیں ،اور وہ بھی کافی عرصہ سے الماری میں سَستا رہی ہے ،  اِس کے باوجود ہم پر الزامِ بے وفائی ہے اگر ہم بے وفا ہیں ،تو آپ مستند ہرجائی ہیں "

میں نے بشیر بھائی کو بغلیں جھانکتے تو نہیں دیکھا ، لیکن مجھے یقین ہے کہ اُنہوں نے ضرور جھانکی ہوں گی ،
شہر یار بولا ،

" یار نعیم صاحب ، میں ایک نتیجے پر پہنچا ہوں ، کہ جس نے بھی پرویز کو پڑھا ، اُس کی دماغ کی گرھیں کھل گئے اور جس کی گرھیں کھلیں ، تو وہ صاحب کتاب ضرور بنا " 
" تو نوجوان :لکھ دو ایک کتاب ، بھیئو صاحب کی طرح ، کیوں کہ پرویزی سلفِ صالحین پر چلتے ہوئے ، صاحبِ کُتُب ضرور بنتے ہیں !"
" یار میرا بھی بہت ارادہ ہے ، کہ میں بھی ایک کتاب لکھوں ، لیکن مجھ میں لکھنے کی صلاحیت نہیں " بشیر بھائی بولے 
" یار نعیم صاحب آپ لکھیں میں نے آپ کی تحریریں پڑھی ہیں ، آپ لکھ سکتے ہیں " شہریار بولا ،
" شہر یار بھائی ، اِس وقت کم از کم ساٹھ سے  ڈیڑھ سو صفحات کی چالیس کتابیں بشمول ، 

"آفاقی سچائیاں ، الکتاب اور علم الکتاب"   

(جو   ، اب       يَسَّرْ‌نَا الْقُرْ‌آنَ کے نام سے میرے بلاگ )  ہمارے لیپ ٹاپ اور دو ہارڈ ڈسک میں محفوظ ہیں ، لیکن چھپوانے کی کوئی خواہش نہیں "  میں نے جواب دیا ۔

"  لیکن گذشتہ رات ہم نے ایک خواب دیکھا ہے ، اُس کے مطابق جھاڑ جھنکار اور پتے اپنی طرف آنے سے روکوں گا " اور اُنہیں خواب سنایا ۔

٭٭٭٭٭اگلا مضمون ٭٭٭٭٭٭


٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
پہلے مضامین:
 

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔