میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

پیر، 23 جون، 2014

وحی متلو سے غیر متلو تک کا سفر

 اللہ کی  کی وحی کرہ ارض کے انسانوں کے  محمدﷺ   پر   بذریعہ روح القدّس ،    بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ   سے مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ     تک  نازل ہونے والی الکتاب   ، اللہ کے منتخب حفّاظ کو حفظ کروا ئی جو  اِس وقت لاکھوں حفّاظ کے سینوں میں محفوظ ہے  اور ناقابلِ تبدیل ہے ۔

جن کے مطابق ،وحی محمد رسول اللہ پر ،اللہ کی جانب سے  القرآن کی صورت میں  نازل ہوئی ۔ جس کی ابتدا ۔
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّ‌حْمَـٰنِ الرَّ‌حِيمِ
اقْرَ‌أْ بِاسْمِ رَ‌بِّكَ الَّذِي خَلَقَ ﴿1﴾ خَلَقَ الْإِنسَانَ مِنْ عَلَقٍ ﴿2﴾ اقْرَ‌أْ وَرَ‌بُّكَ الْأَكْرَ‌مُ ﴿3﴾ الَّذِي عَلَّمَ بِالْقَلَمِ ﴿4﴾ عَلَّمَ الْإِنسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمْ ﴿5﴾سورة العلق

اور اِس نزول وحی کا سفر برائے، کل  انسان  کل کرہ ارض    -

 ۔ ۔ ۔ ۔  الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَ‌ضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا ۚ ۔ ۔ ۔
پر مکمل ہو۔    جو 114 سورتوں میں 6،236 آیات اور تیس سیپاروں  پر مشتمل ہیں اور القرآن کا حصہ ہیں ۔ 
لیکن  جسے لکھنے والوں نے  ،      بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ   سے مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ     تک ہی لکھا ۔جس کی بنیاد پر  محمدﷺ نے اعلان کیا کہ وہ رسول اللہ ہیں ۔ کوئی لکھا ہوا ورق نہیں ، کسی کی شہادت نہیں ،بس اپنی زُبانِ مبارک سے ادا ہونے والے الفاظ کو اللہ کی آیات کہا۔
ایمان والوں نے تسلیم کیا ۔محمدﷺ   کی زبان مبارک سے ادا ہونے والے الفاظ ، جنہیں وہ وحی کہہ رہے ہیں ، اللہ کی طرف سے ہیں ۔ مانیں تو اُن کا فائدہ نہ مانیں تو اُن کا نقصان !

روح القدّس نے محمدﷺ  پر اللہ نے اپنی آیات لوگوں کو سنانے کے لئے ، مختلف طریقوں سے نازل کیں-
 


وَمَا كَانَ لِبَشَرٍ‌ أَن يُكَلِّمَهُ اللَّـهُ إِلَّا وَحْيًا أَوْ مِن وَرَ‌اءِ حِجَابٍ أَوْ يُرْ‌سِلَ رَ‌سُولًا فَيُوحِيَ بِإِذْنِهِ مَا يَشَاءُ إِنَّهُ عَلِيٌّ حَكِيمٌ ﴿42:51
 ٭٭٭٭٭
لہذا آپﷺ نے جب یہ آیات انسانوں کو بتائیں تو اُن میں صاحب علم بھی تھے اور اِن پڑھ بھی ، مالدار بھی تھے اور غریب بھی ، ایمان والے بھی تھے اور منافق بھی ۔ اُن سب کو اللہ کی طرف سے نازل ہونے والی آیات مبارکہ میں سے جو نہ سمجھ آئیں وہ محفل میں تنہائی میں ، دویا دو سے زیادہ کے گروپ میں آپ ﷺسے  پوچھ لیں ۔


  کئی ایسے تھے ، جو اُس وقت مجلس میں موجود نہ  تھے ،  اُنہیں  سننے والوں نے بتادیں ، کچھ نے مزید  دو یا تین اصحاب سے سن لیں ،اب لازمی بات ہے کہ ایک واقعہ کو دو افراد سے سنا جائے تو فرق لازما! آئے گا ، لہذا ،   اُن میں معمولی سافرق دیکھ کر  غالباً بیان کرنے والوں نے ، اُس کے الفاظ کو بہتر کرنے کی کوشش کی  ، آپ ﷺسے رجوع کیا تو ،آپ ﷺنے سن کر  فرمایا کہ ایسا ہی ہے ، یعنی ٹھیک ہے ۔

  پھر لوگوں نے متقی بننے کے لئے ، اِن کی بھی تلاوت غالباً کثرت سے شروع کردی۔
 فَبِمَا رَحْمَةٍ مِّنَ اللّهِ لِنْتَ لَهُمْ وَلَوْ كُنتَ فَظًّا غَلِيظَ الْقَلْبِ لاَنفَضُّواْ مِنْ حَوْلِكَ فَاعْفُ عَنْهُمْ وَاسْتَغْفِرْ لَهُمْ وَشَاوِرْهُمْ فِي الْأَمْرِ فَإِذَا عَزَمْتَ فَتَوَكَّلْ عَلَى اللّهِ إِنَّ اللّهَ يُحِبُّ الْمُتَوَكِّلِينَ ﴿3:159
تو آپ ﷺنے خوش دلی سے (ڈانٹے بغیر) بتایا کہ اللہ کی وحی (وحی  متلو) کون سی ہے اور  میری زُبان میں وضاحت (وحی  غیرمتلو)کون سی ہے ۔
 لہذا  اللہ کے منتخب حفّاظ کو آپﷺ نے    اپنے قلب  سے ، بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ   سے مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ     تک ہی  حفظ کروایا   ۔
 ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
کیوں کہ ،  وحی  متلوکو وحی غیر متلو سے متمیز کرنے کا حق صرف آپ ﷺکے پاس تھا ۔لہذا آپﷺنے اپنا فریضہ ادا کرتے ہوئے ، اللہ کے حکم کے مطابق ، وحی غیر متلوکو  حفاظ کو حفظ کروا دیا ۔ لیکنوحی غیر متلوکے بارے میں بس  کہا کہ انہیں ، قرآن میں مت ملانا اور نہ ہے میرے اوپر کوئی ، وحی غیر متلو منسوب کرنا ۔ 
 

منافقین، فاسقین اور کافرین نےلوگوں کو بھٹکانے کے لئے۔وحی غیر متلو  میں اضافہ کیا ۔

تاریح کے مطابق رسول اللہ  کی وفات کے بعد ، وہ  وحی  متلو  کے بجائے  وحی غیر متلو کو دور دراز علاقوں میں لے گئے ، لہذاوحی غیر متلو میں اضافہ ہونا شروع ہوا ۔کیوں کہ اُنہی کو انسانوں نے اپنے ایمان کا حصہ ماننا شروع کر دیا ۔ کیوں کہ وہ اُنہیں ۔
  بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ   سے مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ     تک اللہ کی  عملی اور فعلی وضاحت سمجھتے تھے ، اور آج بھی سمجھی جاتی ہیں ۔ جس کی وجہ سے  مختلف  افعال اور اعمال کو رسول اللہ کی طرف  منسوب کیا جانے لگا ، یوں   افعال اور اعمال کی بنیاد پر مختلف ، مذہب وجود میں آنے لگے ۔
  پہلا فرقہ  : کوفہ اور بصرہ میں وجود میں آیا  ۔جو  غالباًحضرت ابوبکر ؓ   کی خلافت 11 ہجری (جون 632 عیسوی)  کی وجہ سے حزبِ اختلاف نے بنایا ، اور حزبِ اختلاف کے امام  علی ابنِ ابوطالب (پیدائش 600 وفات 661)قرار پائے ۔ اور شیعاً کے نام سے مشہور ہوئے ، محمدﷺ کی اِ س وارننگ کے باوجود:
دوسرا فرقہ :  80 ہجری کے بعد نعمان بن ثابت المعروف امام ابو حنیفہ(پیدائش 699 وفات 767) نے بغداد میں  بنایا ۔ جسے حنفی مذہب کہا جاتا ہے۔  جس میں وحی غیر متلو کو  صرف عبادات کے لئے  استعمال کیا گیا ۔ قانونی مسائل کے لئے اسلامی  فقہہ  کا لفظ ایجاد ، جس میں اللہ کے احکام کی تشریح اُس وقت کے امام کی صوابدید پر رکھ دی گئی ۔

تیسرا فرقہ  :  93 ہجری یعنی محمد بن قاسم کے 711 عیسوی  میں ہندوستان پر حملے ،کے بعد مدینہ میں بنایا  جب ،  وحی غیر متلو اور کچھ حصے  وحی  متلو   ملا کر ، امام مالک(پیدائش 699 وفات 767)نے  موطاء لکھی  جن میں کم و بیش  2400  قول منسوب   الی الرسول شامل کی گئیں۔وحی متلویعنی الکتاب کی آیات کتنی ہیں ، وہ صرف حوالہ جات  کے لئے استعمال کی گئیں ۔
  چونکہ اِس میں" حدثنا " کے بعد  ، قول منسوب (ایسا قول جو راوی منسوب کر کہ یہ کہا گیا ہے ) بتایا گیا ، لہذا  یہ بطور حدیث مشہور ہوگئیں ۔
جیسے  حدثنا  ابنِ عمر ، قالا رسول اللہ  ، یا قالا ۔ اورقالا ابنِ  عمر ،  
جو  بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ   سے مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ     تککی وضاحت کے لئے رسول اللہ سے منسوب کئے ، تاکی سند بن جائیں  اور  رسول اللہ نے  اللہ کے احکام پر عمل کرتے ہوئے جو  افعال کئے وہ سنت  کہلائے  ، حقیقت میں جنہیں أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ ہنا چاھئیے تھا، جو   وحی غیر متلو ، کا حصہ بن گئے   ۔
لَّقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّـهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِّمَن كَانَ يَرْجُو اللَّـهَ وَالْيَوْمَ الْآخِرَ وَذَكَرَ اللَّـهَ كَثِيرًا ﴿33:21
چوتھا فرقہ :  149 ہجری کے بعدمحمد بن ادریس شافی    (پیدائش 767 وفات 819) نے مصر میں  بنایا ۔
پانچواںفرقہ :  163 ہجری کے بعداحمد بن حنبل   (پیدائش 780 وفات 855) نے بغداد میں  بنایا ۔
پانچوں فرقے ، اپنے دعوے کے مطابق ،  اللہ  کی آیات کے ساتھ اسوہءِ رسول اللہ پر گامزن تھے ۔  اور رسول اللہ سے منسوب اعمال و افعال  کی تشریحات  200 ہجری تک 6 لاکھ تک جا پہنچیں ۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
     وحی غیر متلو میں اضافہ جاری رہا ، کیوں اِس کا علم اللہ ہی کو ہے ، پھر لگ بھگ 200 ہجری میں بغداد کے علما ء کو خیال آیا کہ ، محمدﷺ کے اقوال میں کچھ ایسے اقوال بھی شامل ہوگئے ہیں ، جو کسی بھی طور پر ایک ایسے دین کے شایانِ شان نہیں ، جو تاقیامت رہے گا اور پھر قرآن کی چونکہ ابھی تک اتنی کثرت سے چھپائی نہیں ہوئی تھی ، زیادہ تر حفاظ کے سینوں میں تھا لہذا وحی غیر متلو نے مقبولیت حاصل کر لی اور اں کی تعداد 200 ہجری کے لگ بھگ چھ لاکھ تک جا پہنچی ،


لہذا بخاری، نیشاپوری ، ترمذی ، سیستانی ، قزوینی وغیرہ کے دل میں خیال آیا کہ دین اسلام کے لئے کچھ کرنا چاھئیے (جیسے آج کل کئی دیندار لوگ کر رہے ہیں، کتابوں پر کتابیں لکھ رہے ہیں وحی غیر متلو کو اپنے اسلوب میں بیان کر رہے ہیں)

چنانچہ اِن بغداد و کوفہ کے مقیم عالموں نے پورے فہم و دانش ، فکر و تدبر ، ایمان و تقویٰ اورپیدل سفر کرکے اِن وحی غیر متلو کو تلاش کیا تو اُنہیں چھ لاکھ  وحی غیر متلو  ملیں ، بطریق منادلہ انہوں نے ، ایک لاکھ کو قبول کیا ، اُس کے بعد اُنہوں نے کئی سال اِن ایک لاکھ وحی غیر متلو کو ، خوب چھانا اور پھٹکا ، قرآن کے سامنے پیش کیا ۔
وحی غیر متلو  کے مؤلفین  نے اپنی اپنی  " صحیح " مرتب کیں :-
٭- مدنی (194-90 مالک ھجری) ، روایات 2400 صحیح

٭- بخاری ( بخاری 194-256 ھجری)   ،  روایات 7563 صحیح
٭ - خراسانی (ابوداؤد- 202-275 ہجری )،  روایات 1813 صحیح
٭ - نیشاپوری
(مسلم- 206-261 ہجری )
،  روایات 7563 صحیح
٭-قزوینی (ابنِ ماجہ- 209-273 ہجری ) ،  روایات 1222 صحیح
٭ - ترمذی (ابوداؤد- 209-279 ہجری )،  روایات 1948 صحیح
٭ - نسائی (ابوداؤد- 214-303 ہجری ) ،  روایات 2060 صحیح
کل تعداد روایات  24،569 صحیح
اُن چھ عالموں نے بغداد میں جمع ہو کر ایک دوسرے سے بطریق منادلہ ، متفقہ طور پر 24،569 کو اپنی تصنیف میں شامل کر کے چھ صحیح تصانیف بنائی اور ساتویں موطاء امام مالک کو شامل کرنے کے بعد اَنہوں نے ، متفق علیہ ہو کر اُنہیں صحاح ستہ کا ٹائیٹل دے کر دنیا بھر کے مسلمانوں کے لئے ایک گراں قدروحی غیر متلو ،علم کا خزانہ تیار کیا ۔جس کے بغیر قرآن کو سمجھنا ، صحاح ستہ کے مؤلفین کے نزدیک بہت مشکل تھا کہ اَن پڑھ یا عجمی ، عوام الناس اِس کو سمجھ پائیں ۔ لیکن پھر مزید تصانیف کا اضافہ ہوا  ۔
  لیکن یہ سنّی فرقے   کے لئے تھا ،  لیکن شیعہ فرقے والوں کی الگ کُتُب ہیں ۔

آئیے بغیر کسی ، جھگڑے کے ، وحی متلو اور وحی غیر متلو سے ، اللہ تعالیٰ احکامات اور نبی پاک ﷺکے احکامات ، افعال کو سمجھتے ہیں ۔

آپ کے ریمارکس ہمارے لئے قابلِ قدر ہوں گے ۔ فی الحال ہم آپ کی پوسٹ کو شائع نہیں کریں گے ۔

جس کے لئے پیشگی معذرت ۔ شکریہ  
 ٭٭٭٭٭اگلا مضمون ٭٭٭٭٭٭

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
پہلے مضامین:

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔