میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

منگل، 10 جون، 2014

حسبِ حال

موٹر وے پولیس نے پٹھان کار ڈرائیور کو روک کر کہا:
انسپکٹرموٹر وے : خان صاحب آپ نے سیٹ بیلٹ  باندھی ہے ، اِس پر پولیس کی طرف سے آپ کو دو ہزار روپے انعام دیا جاتا ہے ۔ یہ بتاؤاِن پیسوں کا کیا کرو گے ؟

 پٹھان : میں اِ س سے اپنا ڈرائیونگ لائیسنس بنواؤں گا ۔

پٹھان کی ماں بولی  : اِس کی بات کا یقین مت کرو یہ ہیروئین پی کر کچھ بھی بول سکتا ہے ۔

پٹھان کا باپ نیند سے جاگ کر بولا : مجھے پتہ تھا کہ چوری کی کار میں ہم زیادہ دور نہیں جاسکتے ۔

ڈگی سے آواز آئی : خان صاحب ہم نے باڈر کراس کیا کہ نہیں ؟

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔