میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

جمعہ، 6 جون، 2014

کبھی بھروسہ نہ کریں !

فوجیاں ہوشیار باش  !
 
 کمانڈنگ آفیسر :کے مُوڈ پر۔
سیکنڈ اِن کمانڈ :کے وعدے پر۔
ایڈجوٹنٹ: کی سوچ پر۔
کوارٹر ماسٹر :کے مشوروں پر۔
کینٹین :کے اُدھار پر۔
کمبائینڈ ملٹری ہسپتال :کے علاج پر۔
ملٹری سیکریٹری برانچ :کے انٹرویو پر۔
ہائر ھیڈکوارٹر: کے سٹاف آفیسر پر۔
کیرئیر آفیسر: کی عقل پر۔
نالائق آفیسر: کی پھرتی پر۔
سینئیر آفیسر : کی یاری پر۔
 ریٹائرڈ آفیسر: کے قصوں پر ( ہم اِ س میں شامل نہیں )
 ٭ ٭ ٭ ٭ ٭٭٭
دوسرے لنکس جو آپ یقیناً پڑھنا چاہئیں گے ۔

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔