میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

پیر، 16 جون، 2014

جو حلال تها وه حرام ہے

پتہ نہیں پہلے زمانے کے لوگوں کی نظر کمزور تهی یا یہ حلال حرام تهوڑا هومیوپیتهک تها  ۔
اب تو حلال حرام کا دیسی ڈاکٹر وه ڈوز دیتا ہے کہ انٹی بائیوٹک ایک ملی گرام "بی ڈی" بهی عاجز  ہے ۔
اور مریض بدقسمتی سے کسی مخالف فرقے کا  ہو تو سیدها سٹیرائڈ چڑها دیتا ہے۔


میرا پس منظر دیہات کا  ہے. مجهے یاد ہے کہ ہمارے دیہات میں کچھ رسمیں ہوا کرتی تهیں. ہماری شادیوں میں ایک رقص ہوتا تها جس کو ہم" اتنڑ "کہتے ہیں. اس" اتنڑ "کی صف کے شروع میں ہمارے گاؤں کے مولوی صاحب ہوتے تهے۔


گاؤں میں ایک چرواہا  ہوا کرتا تها جو سارے گاؤں کی بهیڑ بکریاں پہاڑوں چراتا تها اور رات کو ایک میدان میں وه چروا ہا بانسری بجاتا ۔پورے گاؤں کو چرواهے کی بانسری کا انتظار ہوتا تها. یہ بانسری ہمارے بچپن کی لوری تهی. اور ہمارے بوڑهوں کی" لیگزاٹنل " ہوا کرتی تهی
ہر جمعرات کی رات گاؤں کے سارے نوجوان میدان میں جمع ہوتے تو مسجد میں رہنے والے طالب ایک "بانڈار "کرتے تهے. بانڈار کو آپ غزل نائیٹ سمجھ لیں. ان طالبان میں کمال کے سوز رکهنے والے طالب ہوتے تهے. ڈهولک کی طرح ایک انسٹرومنٹ ہوا کرتا تها جس کو "دریا " کہا جاتا تها اور اس کے بجانے والے طالب بہت بڑے استاد سمجهے جاتے تهے اور اکثر آس پاس کے دیہات سے بلائے جاتے تهے. اسی محفل میں کبهی کبهی مولوی صاحب بهی شریک ہوتے. اور جس دن مولوی صاحب ہوتے اس دن گاؤں کے بڑے بوڑهے سارے آتے تهے کیونکہ مولوی صاحب سیف الملوک کی طرز پر قصہ یوسف و زلیخا اس ترنم میں گاتے کہ سب مدهوش سے ہو جاتے. اور پهر چرواہے کی "بانسری "یا  "رباب " سماں باندھ دیتا تها.
شادیوں پر عورتیں یہی دریا بجاتی تهیں. کئی مرتبہ تو مجهے خود یاد ہے کہ مولوی صاحب ہم بچوں کو کسی شادی والے گهر پیغام دیتے کہ تهوڑی دیر کے لیے دریا بند کرو میں آذان دینے والا  ہوں.
رمضان کی آمد پر تو ہم بچوں خوشی کی انتہا نہیں ہوتی تهی. گاوں میں بجلی تو نہیں.. نہ  ہی الارم گهڑی ابهی آئی تهی.. ہوتی بهی تو ایک آدھ گهر میں۔مسجد میں ایک بیٹری سے لاوڈ سپیکر چلتا تها. سحری کے وقت لوگوں کو جگانے کے لیے کوئی طالب بہت پرسوز آواز میں نعت پڑهتا تها جس کو گاؤں کے لوگ "صلوٰۃ "  تهے. صلوٰۃ کے علاوه هماری دوسری پسندیدہ چیز ستائیسویں رمضان پر ختم قرآن پر مٹهائی کی تقسیم تهی جو گاؤں کے لوگ پیسے جمع کر کے لاتے تهے اور سارے گاؤں میں بانٹتے تهے۔.
پهر عید آتی اور اس کی خوشی کے تو کیا کہنے. عید کے دن ہماری مسجد میں صبح کی جماعت کے بعد سارے لوگ ایک دوسرے سے گلے مل کر عید کی مبارکباد دیتے. جو جس سے بهی ناراض ہوتا اس دن صلح  ہو جاتی بغیر کسی تکرار اور پنچائیت کے. عید پر ہماری ایک مشہور رسم انڈے لڑانے کی ہوتی تهی. ہر گهر میں استطاعت کے مطابق انڈے ابالے جاتے تهے. پهر اس پر خوبصورت رنگوں سے کشیده کاری کی جاتی. اور عید کے دن ہم بچوں بڑوں سب میں تقسیم ہوتے. پهر ہم وه انڈے لڑاتے. انڈه لڑانا بہت آسان کهیل تها. ایک انڈه دوسرے پر مارا جاتا اور جس کا انڈا ٹوٹ جاتا وه  ہار جاتا ( ٹوٹا ہوا انڈہ جیتنے والے کو مل جاتا )
عورتوں کی چوڑیوں کے لیے خصوصی طور پر ایک آدمی شہر بهیجا جاتا اور وه کارٹن کے حساب سے چوڑیاں لاتا اور گاؤں کی ساری عورتیں رمضان کی آخری رات چوڑیاں پہنتیں۔
کچی مسجد.... کشاده دل لوگ....هنسی خوشی....امن سکون..عورتوں کا "گودر "جانا اور مٹکوں میں پانی بهر کے لانا...
پورے گاؤں میں صرف ایک اباجی کی تهری ناٹ تهری کی بندوق تهی. جو صرف اس دن کام آتی جب کسی کے گهر بچہ  ہوتا تو وه ابا جی بندوق لے جا کر تین فائر کرتا. اور فائر کرنے والے کو بچے کی دادی ایک دیسی مرغا تحفے میں دیتی. یا پهر کسی کا نکاح پڑهایا جاتا تو تین فائر ہوتے تهے اس کے علاوہ ابا کی بندوق کی کبهی ضرورت نہیں پڑی تهی۔
بندوق کی گولی کی آواز مہینے دو میں سننے والوں کے لیے خوشی کا سامان  ہوتا تها.
لیکن پهر وقت بدل گیا...ہم نے سنا کہ افغانستان میں "سرخ کافر " آگئے ہیں اور سرخ کافروں کے خلاف جہاد شروع ہو گیا ہے۔
 گاؤں میں بندوق کی جگہ کلاشنکوف نے لے لی اور ہر مہینے گاؤں میں جنازے آنے لگے،عورتیں سہم گئی،بچے ڈر گئے، چرواهے نے بانسری بجانا بند کر دی۔۔۔
طالب جہاد پر چلے گئے،دریا بجانا چهوڑ دیا گیا،ابا کی بندوق اب خوشی کے تین فائر نہیں کرتی تهی،مولوی صاحب نے اتنڑ میں شرکت سے معذرت کر لی، پورے گاؤں  سے خوشیاں کوچ کر گئیں۔
پتہ نہیں وقت بدل گیا یا پهر دین بدل گیا۔سب سے پہلے لاوڈ سپیکر غنڈه ہو گیا۔
اب اس میں سے میٹهے سروں والے صلوٰۃ سنائی نہیں دیتے تهے۔ بلکہ کانوں میں زهر اگلتا تها ۔
ہمارے گاؤں میں نہ کافر ہیں،نہ مشرک ہیں نہ طاغوت ہیں،نہ لارڈ میکالے  ہے،نہ عراق کا تیل یہاں سے نکلتا  ہے،نہ خمینی رہتا  ہے،نہ حامد کرزئی کی قراقلی  ہے،نہ اقوام متحده کا ہیڈ کوارٹر  ہے،نہ کوئی اسلاف کو جانتا   ہے،نہ اسلاف دشمنی  ہے۔
لیکن ہمارا لاوڈ سپیکر روز کافروں، مشرکوں طاغوتوں، لارڈ میکالوں اور ان کےہمنواوں کو نقد نقد سناتا ہے..بلکہ اب تو معاملہ جمعے جمعے سے روز روز پر آ گیا ۔
عراق کے تیل کا مقدمہ  ہمارا لاوڈ سپیکر لڑتا ہے،خمینی پر لعنت بهی بهیجتا  ہے،حامد کرزئی کی قراقلی کی کهال اتارنے کے درپے رہتا ہے،اقوام متحده ہمارے گاؤں کا بہت بڑا دشمن  ہے۔
اور اسلاف شاید ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبروں میں سے کچھ لوگوں کے نام ہوں گےاور جو بهی ان سے روگردانی کی سوچتا  ہے،ہمارا لاوڈ سپیکر اس پر چار حرف بهیجتا  ہے
بس،پھر اس کے بعد

رسمیں ذبح  ہونے لگیں،رباب اور بانسری کافر ہو گئے،رمضان کی صلوٰۃ مشرک ہو گئیں،ختم قرآن کے لڈوں نے بدعت شروع کر دی،عید کے دن مسجد میں گلے ملنا حرام ہو گیا، ہمارے انڈے لڑانا "سُود  "ہو گیا۔
 پتہ نہیں حلال حرام بدل گیا یا لوگوں کی نظریں کمزور ہو گئیں۔
نماز پہلے بهی  ہوتی تهی،روزه پہلے بھی لوگ رکهتے تهے،حج پہلے بهی کرتے تهے،عورتیں پہلے بهی پرده کرتی تهیں،ایمانیات پورے گاؤں کو یاد تهے، سُود پورے گاؤں میں نہیں تها، پهر کیا بدل گیا؟؟؟
رمضان آ رہا ہے ۔ ۔ ۔ ۔
مجهے گاؤں جانا  ہے ۔ ۔ ۔ ۔
کیا کروں گا  ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔  گاؤں  جا کر ؟

وه چرواہا نہیں هے جو بانسری بجاتا تها۔ ۔ ۔ ۔
وه طالب نہیں  ہے جو بانڈار کرتا تها ۔ ۔ ۔ ۔
وه مولوی صاحب نہیں هے جو سیف الملوک سناتا تها ۔ ۔ ۔ ۔
شادی پر اب دریا نہیں بجتا ۔ ۔ ۔ ۔
ستائیسویں پر اب لڈو نہیں تقسیم هوتے ۔ ۔ ۔
مسجد میں اب عید کے دن لوگ گلے نہیں ملتے..کچہریوں میں پیشیاں بهگتاتے ہیں ۔ ۔ ۔
چوڑیاں اب نہیں آتی ۔ ۔ ۔

گودر ویران ہو گیا ۔ ۔ ۔ ۔
اب وہاں کچرے کے ڈهیر پڑے رهتے هیں ۔ ۔ ۔ ۔
بچے اب عید پر  انڈے نہیں لڑائیں گے  ۔ ۔ ۔ ۔

ابا جی کی تهری ناٹ تهری بندوق اب خوشی کا پیغام نہیں لاتی۔ ۔ ۔ ۔
اب گاؤں کے نوجوانوں کے کاندھوں پر کلاشنکوفیں سجی ہیں اور گولی کی آواز سے دل د ہلتے  ہیں  ۔ ۔ ۔ 
ان کے لیے بانسری حرام  ہے ۔۔۔۔۔
میرے لیے انسانی خون حرام  ہے ۔۔۔۔
وه بهی لڑ رہے  ہیں۔۔۔۔۔
میں بهی لڑ رہا  ہوں  ۔۔۔۔۔

اُن کی جنگ کسی ان دیکهے طاغوت کے خلاف ہے۔ ۔  ۔
میری جنگ میری خوشیوں کی واپسی کے لیے  ہے۔۔ ۔
یاد رکهنا ۔ ۔ ۔ ۔
کبهی نہ کبهی تو مجهے توفیق ملے گی ۔ ۔ ۔ ۔
میں وعده کرتا  ہوں کہ میں تمهاری بندوقوں کے نالوں سے بانسریاں بناوں گا  
کیونکہ مجهے اپنی خوشیوں کا خراج چا ہیے ۔ ۔ ۔

دل کو چھو کر ، آنکھوں سے خاموش پیغام دینے والی ،
 ید بیضاء کی تحریر  

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔