میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

پیر، 9 جون، 2014

سکول کی فیس



یہ 2004 جون کی بات ہے میں راولپنڈی سے اپنے آفس کی طرف آرہا تھا ، کوئی ایک بجے کا وقت تھا ۔ اسلام آباد ہائی وے پر  ، آئی 8 کے چوک پر سرخ بتی کی وجہ سے رک گیا ، ایک دس گیارہ سال کا  معصوم سا بچہ ، سکول کی یونیفارم پہنے ، گاڑی کے پاس آیا اور پوچھا کہ کیا میں اُسے بلیو ایریا میں ، سٹی بنک کے پاس  لے جا سکتا ہوں  ، میری ٹریول ایجنسی بھی وہیں تھی میں نے بٹھا لیا – میں سمجھا کہ شاید وہیں اُس کے والد کام کرتے ہوں ۔ اُن کے پاس جارہا ہو ۔

میں نے اُس کا نام پوچھا ،  اُس نے عرفان بتایا
کلاس پوچھی  ، معلوم ہوا کہ وہ  چوتھی جماعت میں پڑھتا ہے  ۔
پوچھا کہ وہ کس کے پاس جارہا ہے ؟ تو کہنے لگا وہاں کام ہے ۔
کیا آپ کے والد وہاں کام کرتے ہیں ؟
"نہیں " اُس نے جواب دیا ۔ وہ مختصر بات کر رہا تھا ۔
"کہاں رہتے ہو ؟" میں نے پوچھا
  "پیر ودھائی کے پاس " اُس نے جواب دیا
آفس کے  پاس ، میں نے گاڑی روکی ، تو اُ س نے اترنے سے پہلے پوچھا  ، " سر پانی مل جائے گا "
" ہاں ہاں کیوں نہیں " میں اُسے آفس میں لے آیا اور اپنے ملاز م جاوید سے کہا اِس پانی پلاؤ اور اِیک جوس لاؤ ۔
جاوید نے ڈسپنسر سے پانی پلایا اور جوس لینے چلا گیا ۔
"ہاں منے میاں اَب بتاؤ کہاں جانا ہے ، یہ بلو ایریا ہے  ؟" میں نے پوچھا ، " میرا ملازم تمھیں چھوڑ آئے  گا "
اُس کی آنکھوں میں آنسو آگئے ، " کہیں نہیں جانا "
میں حیران ہوا ، سوچا کہیں یہ بچہ گھر سے بھاگ کر تو نہیں آیا ؟
" کیا بات ہے بیٹے پوری بات بتاؤ  " میں نے پچکارا 
" سر ، پرنسپل نے مجھے سکول سے نکال دیا ہے ، اور کہتا ہے کہ فیس لاؤ تو سکول میں بیٹھنے دوں گا " اُس نے جواب دیا ۔ اُس نے باتوں میں بتایا کہ وہ یتیم ہے سب سے بڑا ہے باقی تین بہنیں ہیں ، ماں لوگوں کے گھروں میں برتن دھوتی ہے ، لیکن اُسے صاف اور اچھے کپڑے پہنا کر سکول بھجواتی ہے ۔
" اچھا یہ بتاؤ کھانا کھایا ہے ؟ " میں نے پوچھا
"   نہیں ۔ " اُ س نے جواب دیا ۔
میں اپنا کھانا  ، گھر سے لے کر آتا تھا ، میرے چند بے تکلف ،" مفتے" دوستوں کو میری عادت معلوم تھی کہ میں دو بجے کے وقت کھانا کھاتا ہوں ، وہ نہ صرف دھونس جماتے ہوئے کھانا بھی کھاتے اور چائے بھی پیتے ،  جو بھی مجھ سے ملنے کے لئے آتا اُس کے لئے یہی وقت مناسب ہوتا ۔ لیکن شکایت بھی کرتے ، کہ یار ، تم ہر وقت دال کیوں کھاتے ہو اور دال کو بھی ڈھونڈھ کے نکالنا پڑتا ہے ، فوج کی عادت نہیں گئی ، آج دال کی کتنی تاریخ ہے  یا تمھارے دالوں کے کھیت ہیں ۔لیکن بھابی دال اچھی بناتی ہیں ، کبھی اُن کے ہاتھ کا مرغی اور گوشت بھی کھلاؤ ؟
جواباً میں کہتا ، کہ اتوار کو فیملی کے ساتھ گھر آؤ ، تو سب چیزیں کھلاؤں گا ۔
اب مجھے کیا معلوم کہ ، دوپہر کو کون کون میرے ساتھ کھانا کھائے گا ۔شروع میں بڑی کوفت ہوتی تھی دوستوں کے لئے ہوٹل سے کھانا منگوانا پڑتا تھا اور اچھا خاصا خرچ ہوجاتا ، کیوں کہ تین یا چار سالن منگوانا پڑتے ، بیگم سے  پوچھا ، انہوں نے کہا کہ کیا میں اب الگ ہانڈی آپ کے دوستوں کی بناؤں، ہم نے کہا نہیں تم ایسا کرو  ، آدھا پاؤ دال کو ایسا پکاؤ کہ وہ تین ٹفن کے ڈبوں میں آجائے ، اُنہیں نے کہا ، مذاق اڑواؤ گے ، خیر ہمارے اصرار پر انہوں نے دال بنائی ۔ اُس شام ہمارے بچوں اور ہم نے وہ دال  ندیدوں کی طرح کھائی ، بلکہ آخر میں چمچوں سے پی بھی ، صبح آفس بھی لے گئے ، دوستوں کی تعریف بھی مفت میں سمیٹی کیوں کہ ، گرم گرم بلبلے والے نان نے لطف دوبالا کر دیا  اور پھر روزانہ  دال آنے لگی ۔

جاوید نے کھانا لگایا تو بچے نے دال دیکھ کر کہا ، " مجھے بھوک نہیں ہے " ۔
میں نے جاوید کو کہا اِس کے لئے چکن لے آئے ۔ وہ ہمارے پڑوس کے ہوٹل سے چکن کا سالن لے آیا ، بچے نے پیٹ بھر کر کھایا ۔دوست کھانا کھا کر چلے گئے ، تو میں نے بچے سے پوچھا ،"کتنی فیس ہے "
"ساڑھے تین سو روپے "اُس نے جواب دیا ۔
میں نے بچے کے اسکول کا ایڈریس معلوم کیا ، اُس کے پرنسپل کا ، اور بچے کو کہا کہ وہ اب سیدھا گھر جائے ، میں کل سکول آکر فیس دے دوں گا ۔ بچے کو جانے کا ویگن کا کرایا دیا اور جاوید کو کہا کہ اِس آفس کے سامنے سے گذرنے والی ، پیر ودھائی کی ویگن میں بٹھا دے ۔
جاوید نے واپس آکر پوچھا ، " سر یہ کون تھا ؟"
" تھا ایک غریب بچہ" میں نے جواب دیا ۔
دوسرے دن میں آفس آنے کے بجائے ، پیر ودھائی  بچے کے بتائے ہوئے سکول ٹھیک بتائے ہوئے وقت پر  پہنچا ۔ کہ اگر وقت پر نہیں پہنچا کہ اُس بچے کو مایوسی نہ ہو کہ میں نے اُسے ٹرخا دیا ۔
وہ سکو ل  پانچویں کلاس کی  پانچ لڑکیوں کا  دوکمروں  پر مشتمل تھا ، اُس کی پرنسپل ایک خاتون تھی اور ا"س کا شوہر کہیں ملازم تھا ، اُس نے  بتایا کہ اُس کے پاس لڑکے نہیں پڑھتے اور نہ ہی وہ کسی عرفان نامی ، گیارہ سالہ بچے کو جانتی ہے ، مزید معلومات دیں ، کہ آپ جیسے یہاں بہت  لوگ آتے ہیں اور مختلف بچوں کا نام لے کر پوچھتے ہیں کہ وہ کیا آپ کے پاس پڑھتا ہے ؟
میں نے اُس سے لڑکوں کے سکول کے بارے میں پوچھا ، اُس نے ایک پرائیویٹ سکول کا بتا یا وہاں گیا ، وہاں بھی یہی صورت حال تھی ، پرنسپل کا نام وہ نہیں تھا جو بچے نے بتایا ، عرفان نامی چھ بچے اُس سکول میں تھے  لیکن ، وہ عرفان نہیں تھا  ۔ پرنسپل نے میرے اصرار پر گیارہ  سال تک کےسارے بچوں کو جمع کیا ۔ لیکن وہ بچہ اُن میں بھی نہیں تھا اور سارے بچے سکول آئے تھے ۔
 پرنسپل نے کہا  ، " سر یہاں بہت سے بچے فیس نہیں دے سکتے  لیکن ہم اُنہیں نکالتے نہیں " ۔
میں نے  پانچ سو روپے ، پرنسپل کو دئے اور اُس سے رسید لے کر واپس آگیا ۔ آفس میں میرے  اَسسٹنٹ مینیجر نے دیر سے آنے کی وجہ پوچھی تو میں نے سارا واقع بتایا ۔ وہ ہنسا اور کہنے لگا ، " سر کل جاوید نے مجھے کہا تھا کہ یہ لڑکا فراڈ لگتا ہے " ۔
میں نے کہا ، " نہیں بھئی وہ چھوٹا بچہ تھا شاید پہلی دفعہ اِس طرح گھر سے نکلا ہو ، غلط ایڈریس بتا دیا ہو، اگر وہ دوبارہ آئے ، تو اُس کے ساتھ سکول چلے جانا اور پرنسپل کو فیس دے دینا "۔ لیکن وہ بچہ نہیں آیا ۔
یہ تصویر دیکھ کر   مجھے یہ وقعہ یاد آگیا ۔
 
 

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔