میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

جمعہ، 6 جون، 2014

راجپوتانہ سے اُٹھنے والے مکڑ (ٹڈیاں)



 ایک متعصب " مکڑ" کا مضمون ، جو خود کو قائم خانی کہلاتا ہے اور اپنے ہندو آباء و اجداد پر فخر محسوس کرتا ہے ۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
 جو لوگ اپنے آپ کو مہاجر قوم کہتے ہیں جب ان سے پوچھا جاتا ہے کہ بھائی آپ کو پاکستان بننے سے پہلے کس قومیت کے نام سے پکارا جاتا ہے تو بغل جھانکنا شروع کر دیتے ہیں۔
ایک دو نے جواب دیا کہ "ہندوستانی"۔ تو میں نے جواب دیا : بھائی، ھندوستانی کوئی قومیت نہیں ہے۔ انڈیا میں بسنے والے تمام لوگ ھندوستانی ہیں۔ جیسے لاہور میں بسنے والا ہر شخص کو لاہوری کہا جاتا ہے اسی طرح انڈیا کا ہر شہری "ھندوستانی" ہے۔
یہ حال ہے اس قوم کا جس کے بارے میں یہ افواہ ہے کہ یہ ایک تعلیم یافتہ قوم ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ ایک جاہل اور گنوار قوم ہے۔

مہاجر قوم اصل میں وہ لوگ ہیں جو انڈیا کے صوبے "اتر پردیش" سے ہجرت کرکے پاکستان آئے جن کی مادری زبان "اردو" ہے۔ "اتر پردیش" صوبے کا نام انگریزوں کے زمانے میں "متحدہ" صوبہ تھا۔ اسی لئے الطاف ھسین نے اپنی سیاسی مافیا کا نام "متحدہ قومی موومنٹ" رکھا۔

مسلمان کی کی آمد سے بھی پہلے "متحدہ" صوبے کا نام "ھند" تھا۔ مسلمانوں کے زمانے میں زیادہ تر دارالحکومت دہلی شہر ہوتا تھا۔ جو "ھند" صوبے کا سب سے بڑا شہر تھا۔ تو مسلمانوں نے برصغیر کے جس جس علاقوں تک حکومت کی ان سب کو بھی "ھند" کے نام سے پکارا اور منسوب کیا۔ اور "متحدہ" صوبے سمیت تمام برصغیر کے رہنے والوں کو "ھندی" کے نام سے پکارا۔
جب برصغیر پر فارسی حکمران قبص ہوئے تو انہوں نے "ھند" کو "ھندوستان" کا نام دے دیا اور یہاں کے رہنے والوں کو "ھندی" کے بجائے "ھندو" کہا۔
آج کل یہ بھی غلط فہمی پھیل گئ ہے کہ ھندومت کو ماننے والوں کو "ھندو" کہا جاتا ہے تو یہ بات بالکل غلط ہے۔
ہندومت کے پیروکاروں کو اصل ميں "سناتنا دھرما" کہتے ہیں جو کہ سنسکرت کے الفاظ ہیں جن کا مطلب ہے ‘‘لازوال قانون’’.( کسی ھندو سے پوچھیں کہ اُس کا مذھب کیا ہے ۔ تو وہ خود کو سناتنا دھرما نہیں کہے گا  )
"ھندو" اور "ھندی" ان لوگوں کو کہا جاتا ہے۔ جن کی مادری زبان "اردو/ھندی" ہو اور ان کا وطن اتر پردیش/متحدہ صوبے ہو۔
یاد رہے کہ ھندی اور اردو ایک ہی زبان ہے۔ جس طرح شاہ مکھی پنجابی اور گرومکھی پنجابی ایک زبان ہے۔ ان میں فرق صرف رسم الخط کا ہے۔ بولنے میں دونوں زبانیں ایک ہی زبان ہيں۔( ایک نئی سوچ، اِس کے لئے" جودھا اکبر" دیکھیں )
یعنی پاکستان میں جن لوگوں کی مادری زبان "اردو/ھندی" ہے۔ اور وہ لوگ اتر پردیش صوبے سے آئے ہیں وہ پاکستان بننے سے پہلے "ھندو قوم" کہلاتے تھے۔
کیونکہ ایسے کبھی بھی نہیں ہو سکتا ہے ایک زبان بولنے والے گروہ کو کسی بھی نام سے نہ پکارا جاتا ہو۔
"ھندو" لفظ صرف ھندومت کے پیروکاروں کی طرف سے منسوب ہونے کے بعد ھندو قوم کے مسلمانوں نے اس لفظ سے پرہیز کرکے اپنے آپ کو ھندو قوم کے بجائے مسلمان قوم کا لقب دے دیا۔
پاکستان بننے سے پہلے ھندوقوم اپنے آپ کو مسلمان قوم ہی کہتی تھی۔

 
آج اردو بولنے والے لوگ اپنے آپ کو "ھندو قوم" کہتے ہوئے شرماتے ہیں۔ اور مسلمان قوم تو پاکستان کی ہر قوم بنی ہوئی ہے۔ اس لئے وہ مہاجر قوم بن گئے۔ ہمارا ان کو مشورہ ہے کہ اگر وہ اپنے آپ "ھندو قوم" نہیں کہلانا چاہتے ہیں تو اپنے آپ کو "اردو قوم" کی حیثیت سے شناخت کریں۔ مہاجر کوئی شناخت نہيں اس سے لوگ آپ لاوارث اور حرامی قوم کہیں گے۔
ویسے بھی زبان ہر قوم کی شناخت ہے۔ جیسے سندھی زبان سندھی قوم کی شناخت، پنجابی زبان پنجابی قوم کی شناخت وغیرہ۔
انڈیا کے جھنڈے میں ، گول دائرے کا نشان راجپوت قوم کے لوگوں کے لئے ہیں کہ وہ اس بات کو سمجھیں کہ راجپوت قوم کی سرزمین میں سندھ اور پنجاب کا علاقہ بھی آتا ہے۔ راجپوت قوم کے کچھ لوگ انڈیا سے پاکستان آئے بھی ہیں تو وہ اپنے ہی علاقوں میں آئے ہیں۔ اپنی ہی علاقوں میں آنے جانے کو ہجرت نہیں کہا جاتا ہے۔ یعنی راجستھان/راجپوتانہ صوبے سے آنے والے مہاجر نہیں ہے۔  ( تحریر : عابد قائم خانی  عرف عابد قرانی )



جواب :
قائم خانی نے اپنے آپ کو " سن آف سائل" تسلیم کروانے کے لئے یہ ، نفرت انگیز مضمون لکھا ہے ۔
بنگلہ دیش سے لے کر دریائے سندھ تک سب "ھند استھان " کہلاتا تھا ۔ جو ھندوستان ہو گیا ۔
"چین و عرب ہمارا ہندوستان ہمارا "
یہ شعر سیال کوٹ  کے ، ایک ھندوستانی پنجابی شاعر نے کہا تھا ۔
لیکن اردو بولنے والوں کو ۔ پنجابی تحقیر میں" ہندوستانی" کہنے لگے ، آج بھی یہ پنجابیوں کی نظر میں ہندوستانی ہی ہیں ۔
سندھ کے قائم خانی ہوں ، یا انڈیا سے آنے والی دیگر اردو بولنے والی قومیں ، اپنی علاقائی ہجرت کی وجہ سے مہاجر ہی کہلائی گئیں ۔  یہاں تک کہ، پنجاب میں پنجابی  مہاجروں کے گاؤں کے نام سے کئی گاؤں آباد ہیں ۔
لیکن  سندھ میں یہ راجپوتانی ہونے کے باوجود "مکڑ" کہلاتے ہیں ۔ یعنی "ٹڈیاں" جو راجپوتانہ کے صحراؤں سے اُٹھتی ہیں اور تمام ہریالی چَٹ کر جاتی ہیں ۔


خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔