میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

اتوار, جون 15, 2014

پدرم سلطان بود !



پدرم سلطان بود !
(میرا باپ سلطان تھا )
بود، بودند ، بودی، بودید، بودم، بودیم
ہماری فیس بک کی  اِس پوسٹ پر ایک" فیس بُکی"کی دوست  "ابنِ تمیم "  نے ۔ نقطہ (پوائینٹ) ڈالتے ہوئے لکھا کہ ،
"  فعل ماضی کی گردان اِس لئے الاپتے ہیں کہ ہمارے پلے کچھ نہیں "۔

فیس بک پر نشتر زنی کرنے والے نوجوان و پیر  (ہماری طرح) کی ایک کثیر تعداد موجود ہے ۔ ارے ہاں ، کہیں اِس  لفظ " پیر " سے یہ نہ سمجھ لینا کہ ہم گدی نشین پیر ہیں ، نہیں دوستو ! ہم  "پیرِ مغاں "ہے جس کا اب کام جسمانی درد ہے "آہ فغاں " بلند کرنا ہے اور ہمارے دوست سمجھتے ہیں کہ ہم قوم کے یا مسلمانوں کی حالتِ زبوں پر روتے ہیں ۔چلو اُنہیں یہی سمجھنے دو ۔

ہمارے ، لیپ ٹاپ کا کیمرہ ٹھیک ہوا تو ہم نے اپنے کئی اچھے پوز میں تصاویر بنائیں ، اُن میں سے ایک پروفائل پر ڈال دی ، ہمارے ایک دوست نے   پسند کرتے ہوئے لکھا ، " آپ تو علامہ اقبال  سے ملتے ہیں " ۔  ہمیں سخت شرمندگی ہوئی ، کہاں اقبال کہاں ہم شریف النفس ، ہم نے فوج میں رہتے ہوئے کبھی بھارتی دشمن پر گولی نہیں چلائی اور کہاں اقبال جی ، جنھوں نے بالا خانے پر جاکر (شاید اُنہوں نے وکیلانہ گاؤن پہنا تھا یا نہیں ) ایک طوائف کو اپنے ذاتی طپنچے سے ملک عدم کی راہ دکھائی ، شاید وہ کم نصیب اُن کی راہ پر نہیں آرہی تھی ۔اور پھر ببانگِ دھل کہا ،
" مومن ہے تو بے تیغ لڑتا ہے سپاہی "
 پھر غالباً عدالت میں اگر کیس چلا ہوگا ، تو یقیناً یہ وہیں کہا ہوگا ،
" اللہ کے شیروں کو آتی نہیں روباہی "
چونکہ ہم اللہ کے شیر (شیر اللہ ) نہیں عبداللہ(غلام  اللہ )   ہیں ، لہذا ہم نے اپنی تصویر فوراً  ہٹا دی ۔

بیگم نے پوچھا ، " یہ آپ نے اپنی تصویر کیوں اتاری ؟ اچھی خاصی تھی ، اُس میں آپ کی اصلی عمر نظر آتی تھی "

ہم نے جواب دیا ، " بیگم ہمیں بھی اقبال کی طرح شیر بننے دو "

وہ غالباً ہمارا مطلب سمجھ گئیں اور طنزیہ مسکراہٹ سے بولیں ۔
" اللہ کا شیر تو بالا خانے پر چڑھا تھا ، کہیں ایسا نہ ہو کہ کہیں میں آپ کو تہہ خانے میں اتار دوں "
 کیوں کہ وہ اچھی طرح جانتی ہیں، کہ شیر نکاح کے بندھن میں نہیں پھنستا  ، اور اُس کے گرد موجو شیرنیوں کی تعداد بھی چار سے کچھ زیادہ ہی ہوتی ہے  ۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

اضافی نوٹ : 
ایک دوست نے لکھا ، " جناب آپ کی پوسٹ بہت لمبی ہوتی ہے ہم پڑھتے پڑھتے اُکتا جاتے ہیں ویسے بھی آفس میں اتنا ٹائم نہیں ہوتا،۔

چنانچہ اب اِس کی اگلی قسط میں سامنے والی مارکیٹ سے ، بیگم کے حکم کے مطابق ، آلو ، مرچیں ، دھنیا ، بھنڈی اور دیگر خوراک ِ ، غلامانِ اللہ لا کر باقی قسط لکھوں گا
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔