میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

جمعہ، 20 جون، 2014

مجھ سے عشق کرو گے ؟


اُس نے مجھ سے کہا ، "مجھ سے عشق کرو گے"۔
میں نے پوچھا ، " وہ کیا ہوتا ہے "
وہ میری طرف غصے میں بولی ، " تمھیں نہیں معلوم عشق کیا ہوتا ہے ، عشق ، عشق ہوتا ہے "۔

ہم دونوں گھر کی منڈیر پر بیٹھے ، چھلیاں ، کھا رہے تھے جو میری ماں نے ، گھی کے کنستر میں میٹھا سوڈا ڈال کر ابالی تھیں ۔ باقی بہن بھائی ، گھر کے سامنے گھاس کے میدان میں کھیل رہے تھے ، وہ مجھ سے دوسال چھوٹی تھی اور دو کلاس ہی پیچھے تھی ، وہ اپنے  تین بھائیوں اور ایک بہن جو میری کلاس فیلو تھی ، اُن کے ساتھ سکول جاتی ، چونکہ ہمارے والدین کی ہجرت کے بعد سے  واقفیت تھی   ، واپسی پر سب بہن بھائی ہمارے سکول کے راستے میں پڑنے والے سکول رک جاتے ، امی نے کھانا بنایا ہوتا سب مل کر کھاتے ، اپنے گھر کا کام کرتے ، اُس کے بعد ہم سب محلے کے باقی بچوں کے ساتھ ، گھر سے باہر کھیل کھیلتے ۔

سکول میں تو میں ، اُس کی اپنی کلاس فیلو بہن سے بالکل انجان بن جاتا ، بلکہ اپنی بڑی بہن اور چھوٹی بہن سے بھی دور بھاگتا ، کیوں کہ لڑکے تنگ کرتے تھے ، لیکن گھر  کے سامنے کرمچ کی بال سے " پٹھوگرم" کھیلتے ہوئے دو ٹیمیں بنتیں ، ایک میری اور دوسری میرے چھوٹے بھائی کی ، میری ٹیم میں وہ ، اُس کا چھوٹا بھائی، میری چھوٹی بہن  ، محلے کا ایک لڑکا اور چھوٹے بھائی جی ٹیم میں ، اُس کی بہن جو میری کلاس فیلو تھی ،   اور محلے کے دو بہن بھائی ۔ یہ ہمارا روز کا معمول تھا ۔ہاکی بھی کھیلی جاتی ، اور فٹ بال بھی ۔ لیکن چینجو ہمارا پسندیدہ کھیل تھا ۔

" کیسے کیا جاتا ہے " میں نے پوچھا۔
"بس تم میری ایک  بات مانو" ٹھیک ہے ۔

اُس نے اپنے اُردو کی  کتاب  اور گھر کے کام کی کافی موٹی کاپی اپنے بستے سے نکالی ، جس میں تمام کتابوں کا گھر کا کام کیا جاتا تھا ۔اردو  " زیڈ" کی نب سے اور انگلش " جی " کی نب سے ۔

" میری اردو کی لکھائی خراب ہے نا تو ماسٹر صاحب ڈانٹتے ہیں اور کھڑا بھی کر دیتے ہیں ، بس تم یہ کر دو "  اُس نے کہا
" ٹھیک ہے لیکن ، پھر تم بھی میری  ایک بات مانو گی " میں نے کہا
"ٹھیک  ہے ،" وہ بولی ،
" تم کسی بھی کھیل میں ، میرے چھوٹے بھائی کی ساتھی نہیں بننا " میں نے کہا ۔

اُس نے سر ہلا دیا اور ہمارا عشق شروع ہوگیا  ۔ لیکن ہفتے بعد ،  اِس عشق نے  ایک ھنگامہ کھڑا کر دیا ، جس پر بزرگوں نے فیصلہ کیا کہ کھیل کے دوران دونوں ٹیم کیپٹن  قرعہ اندازی کے ساتھ اپنے  اپنے ساتھی چنیں گے ، وہ بھاگنے میں تیز تھی ، اُس کی بہن آہستہ ،جب وہ چھوٹے بھائی کی ساتھی بنتی  تو ہماری ،  ٹیم اکثر ہار جاتی ۔ لیکن ہمارا عشق جاری رہا اور اب تو عشق میں ،  میں اُس کی اردو ، دینیات اور معاشرتی علوم کا بھی کام کرکے دیتا ۔وقت آگے بڑھتا رہا ، ہم بھی اور ہمارا عشق بھی ۔ چھٹی جماعت میں سالانہ امتحان کے بعد ۔ اُس کے ابا کی پوسٹنگ کوئیٹہ ہوگئی ، اُس کے جانے کے بعد میں بہت ہلکا ہوگیا تھا ، کیوں کہ اب عشق کے لئے اُس کاکام نہیں کرنا پڑتا تھا ۔ دو مہینوں کے بعد ، ہمارے ابا کی پوسٹنگ نوشہرہ ہوگئی ، نیا سکون ، نیا محلہ نئے لوگ  اور نیا ماحول  ، لیکن ہم بچے دو دنوں بعد ہر قسم کے ماحول میں گھل مل جاتے ہیں ۔

دو ماہ بعد معلوم ہو ا کہ ابا کی پوسٹنگ ، بھی کوئٹہ ہو گئی ۔ ہمیں خوف لاحق ہو گیا کہ اب پھر دوبارہ عشق کرنا پڑے گا ۔
لیکن وہاں پہنے تو معلوم ہوا ، کہ اب وہ خود اپنا کام کرنے لگی ہے ، اُس کا سکول بھی الگ تھا اور ہمارے ہاں آنا بھی مشکل ۔

اتوار کے دن ، وہ اپنی امی ، بہن اور چھوٹے بھائی کے ساتھ ہمارے گھر آئے ، امی کی بنائی ہوئی بالو شاہی اور نمکو کھانے کے بعد ہم بچے ، گھر کے باہر آگئے وہاں پہنچ کر چھوٹے بھائی نے گلا پھاڑ کر ٹارزن کی آواز نکالی ، گھروں سے باقی بچے بھی آگئے اور" پٹھو گرم "،شروع  ہوگیا۔

جب ہماری باری آئی تو ، اپنی باری لے کر آوٹ ہو کر برآمدے میں آکر بیٹھا ، دوسرے نمبر پر میری ٹیم کی ساتھی اپنی باری لینے گئی ، تو  اُس نے پوچھا ،
" کیا اب تم اُس سے عشق کرتے ہو ؟"
"نہیں " میں نے کہا ، " وہ مجھ سے عشق کرتی ہے " ۔

اِس عشق کے نتیجے میں ، ہم آٹھویں کلاس میں فیل ہوگئے ، ایک تو ابا کی جلدی جلدی پوسٹنگ سے اور دوسرے عشق سے ، جب عشق میں آپ اپنے سکول کا کام دوسرے سے کروائیں  اور خود ، کھیل موجیں اُڑائیں ، تو پھر عشق کا تو یہی انجام ہونا تھا نا

پچھلے  مہینے ،  چم چم  کے نرسری کے امتحان ہونے تھے ، بیٹی نے ماں سے کہا ،  اسے ہوم ورک کی کاپی سے پڑھا دو ، بیوی نے پڑھانے کی کوشش کی ، تو وہ بھاگے ،بیوی اُسے  میرے پاس لائی کہ اِسے ہوم ورک سے پڑھا دو ورنہ یہ لوئر کلاس میں چلی جائے ، میں نے کاپی اٹھائی ، کچھ صفحوں کے بعد ہوم ورک میں لکھائی تبدیل لگ رہی تھی ۔
پوچھا ، "یہ کام کس نے کیا ہے ، بوبو (پھوپی ) نے؟"
  کہنے لگی ، "میرے فرینڈ نے ، وہ مجھ سے محبت کرتا ہے "



۔

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔