میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

پیر، 9 جون، 2014

پاکستان کا دشمن




کیا پاکستان اور اُس کے عوام کے دشمن کو پہچاننا مشکل ہے ؟
یہ ایک ایسا سوال ہے جو سب سوچنے والے کے ذہن میں اُٹھتا ہے ۔
لیکن اِس کا جواب اتنا مشکل نہیں ۔
جب دشمن پاکستان کے عوام ، پاکستان کی  حفاظت کرنے والوں ، پاکستان کی قیمتی تنصیبات کو نقصان  پہنچائیں ، لوگوں کو اغواء کریں ، تو   جن کی زبان بند رہتی ہے ۔
جب پاکستان کے قانونی ادارے ، بھرپور کاروائی کریں اور ایسے لوگوں کو گرفتار کریں ، تو شور مچانے والے کہ کاروائی بند کریں اور لوگوں کو رہا کریں ۔
جب  پاکستان کی سالمیت کو نقصان پہچانے والوں کو تفتیشی ادارے پوچھ گچھ کے لئے ، لے جائیں  تو انہیں فوراً  ، گمشدہ قرار دے کر  میڈیا  پر شور مچایا جائے ، کہ معصوم لوگوں کو رہا کیا جائے ۔

مجرم کون ؟ یہ فیصلہ کون کرے گا ،  پاکستان کی عدالتیں  ، گواہوں کی بنیاد پر ؟
مجرم پہچاننا مشکل نہیں ، صرف  قوموں کا ضمیر زندہ ہونا چاہئیے ، لاشوں اور زخموں پر سیاست کرنے والوں کو پہچانے ۔ 
گلا پھاڑ کر شور کرنے والوں کو پہچانیں ،
تفتیش سے پہلے ، ملزم کو معصوم قرار  دینا ، کسی بھی طور پر زندہ قوموں کی   پہچان نہیں   ۔

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔