میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

منگل، 1 جولائی، 2014

سنہرا قول



کتنا خوش کُن سنہری قو ل ہے ۔
زندگی کو رمضان جیسا بنا لو ، تو موت عید جیسی ہو گی ۔
معلوم نہیں ایس ا ہو گا بھی کہ نہیں ، بچپن سے اب تک میں رمضان جیسی زندگی گذار رہا ہوں ، مجھ میں اتنا تقویٰ پیدا ہو گیا ہے کہ اگر ماں کا دودھ نہ ملے ، تو روتا نہیں ۔ ماں کی چھاتیوں میں میرے لئے دودھ کیسے اترے؟
اُسے معلوم ہی نہیں کہ کھاناتین وقت کھایا جاتا ہے-
یا لوگ رمضان میں دو وقت کھانا کھاتے ہیں -
جو میرے بہن بھائیوں سے کچھ بچ جاتا ہے وہ ماں کھاتی ہے۔
میرے ایک بھائی کی موت آئی تو باقی بہن بھائیوں کے لئے عید کا سا سماں تھا ، کہ اب اُنہیں کھانے کو زیادہ ملے ۔
لیکن میرے مرنے پر عید کس کے لئے ہوگی ؟
کیوں کہ اور کوئی بھائی بہن  ماں کا دودھ تو نہیں پیتا    !

یا شائد میری ماں کے لئے !
لیکن میں نے ماں سے سنا تھا کہ ایک اور بہن یا بھائی آنے والا ہے ۔
یا پھر شاید میرے لئے ! 




خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔