میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

منگل، 29 جولائی، 2014

نقشِ قدم مسیح عیسیٰ ابنِ مریم

ستمبر  1929 میں پیدا ہونے والی لڑکی اپنی عمر کے دسویں سال میں ، جنگ کی خون آشامیوں کا شکار ہوگئی ، خوف و دہشت  کی فضاء نے اُسے مایوسیوں کی اتھاہ دلدل میں نہیں دھکیلا بلکہ عزم و ہمت  کی نئی منزلیں اُس کے شعور میں پروان چڑھائیں ۔
1939 سے 1945 تک اُس نے کٹھن دن گذارے بالآخر ، جرمنی کے مشرقی حصہ پر روسی قبضہ کی وجہ سے ، اُس کا خاندان مغربی جرمنی ہجرت کر گیا ، جہاں سے اُس نے  1950 میں ڈاکٹری کی تعلیم مکمل کی ، کچھ اور کرنے کی لگن اُسے   کیتھولک مذہب کی طرف لے گئی اور اُس نے ،
'Daughters of the Heart of Mary' نامی تنظیم میں شمولیت حاصل کی اور اِس طرح وہ  مذاہب سے بالا تر ہو کر انسانیت کی خدمت کے میدان میں اپنا قدم رکھ دیا ۔
 
8 مارچ 1960 کو ڈاکٹر رُتھ ، انڈیا کے چرچ مشن جانے کے لئے ، جرمنی سے کراچی پہنچی ، یہاں وہ  آئی آئی چندریگر   روڈ، پر موجود جذام کالونی میں لے جائے گئی ، وہاں مریضوں کو دیکھ کر اُس کے دل میں ایک جذبہ جاگا ، لیکن اُس  کی منزل ، مشن اسٹیشن انڈیا تھی ، مگر اُس کا انتخاب تو ربِ کائنات نے کراچی کے لئے کیا تھا ، لہذا ویزہ کی کچھ معمولی مشکلات نے   اُس کا ارادہ ترک کروادیا اور وہ ،  تیس سالہ  نن (سسٹر)کراچی میں رُک گئی۔ 

  کوڑھ (جذام) میں مریض کا جسم گلنا شروع ہو جاتا ہے‘ جسم میں پیپ پڑجاتی ہے اور اس کے ساتھ ہی انسان کا گوشت ٹوٹ ٹوٹ کر نیچے گرنے لگتا ہے۔  جسم سے شدید بو بھی آتی ہے‘ کوڑھی اپنے اعضاء کو بچانے کے لیے ہاتھوں‘ ٹانگوں اور منہ کو کپڑے کی بڑی بڑی پٹیوں میں لپیٹ کر رکھتے ہیں۔یہ مرض لا علاج سمجھا جاتا تھا چنانچہ جس انسان کو کوڑھ لاحق ہو جاتا تھا اسے شہر سے باہر پھینک دیا جاتا تھا اور وہ ویرانوں میں سسک سسک کر دم توڑ دیتا تھا۔پاکستان میں 1960ء تک کوڑھ کے ہزاروں مریض موجود تھے۔

 ملک کے مختلف مخیرغیر مسلم حضرات نے کوڑھیوں کے لیے شہروں سے باہر رہائش گاہیں تعمیر کرا دی تھیں ۔   یہ رہائش گاہیں کوڑھی احاطے کہلاتی تھیں‘ لوگ آنکھ‘ منہ اور ناک لپیٹ کر ان احاطوں کے قریب سے گزرتے تھے‘ لوگ مریضوں کے لیے کھانا دیواروں کے باہر سے اندر پھینک دیتے تھے اور یہ بیچارے مٹی اورکیچڑ میں لتھڑی ہوئی روٹیاں جھاڑ کر کھا لیتے تھے۔ ملک کے قریباً تمام شہروں میں کوڑھی احاطے تھے‘ پاکستان میں کوڑھ کو ناقابل علاج سمجھا جاتا تھا چنانچہ کوڑھ یا جزام کے شکار مریض کے پاس دو آپشن ہوتے تھے‘ یہ سسک کر جان دے دے یا خود کشی کر لے۔

کوڑھ کے مریضوں اور ان کے لواحقین نے اس فرشتہ صفت خاتون کو حیرت سے دیکھا کیونکہ اس وقت تک کوڑھ کو اﷲ کا عذاب سمجھا جاتا تھا‘ لوگوں کا خیال تھا یہ گناہوں اور جرائم کی سزا ہے۔چنانچہ لوگ ان مریضوں کو گناہوں کی سزا بھگتنے کے لیے تنہا چھوڑ دیتے تھے‘ ان کے لیے پہلا چیلنج اس تصور کا خاتمہ تھا کہ
یہ بیماری نہیں بلکہ اللہ کا عذاب ہے ۔
ڈاکٹر رُتھ کو بیماری ثابت کرنے میں بہت وقت لگ گیا اور اس کے بعد مریضوں کے علاج کا سلسلہ شروع ہوا، یہ عظیم خاتون اپنے ہاتھوں سے ان کوڑھیوں کو دوا بھی کھلاتی تھی اور ان کی مرہم پٹی بھی کرتی تھی۔جن کو ان کے سگے بھی چھوڑ گئے تھے۔اس کا جذبہ نیک اور نیت صاف تھی چنانچہ اﷲ تعالیٰ نے اس کے ہاتھ میں شفا دے دی، یہ مریضوں کا علاج کرتی اور کوڑھیوں کا کوڑھ ختم ہو جاتا۔
 
إِذْ قَالَ اللَّـهُ يَا عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ اذْكُرْ نِعْمَتِي عَلَيْكَ وَعَلَىٰ وَالِدَتِكَ إِذْ أَيَّدتُّكَ بِرُوحِ الْقُدُسِ تُكَلِّمُ النَّاسَ فِي الْمَهْدِ وَكَهْلًا ۖ وَإِذْ عَلَّمْتُكَ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَالتَّوْرَاةَ وَالْإِنجِيلَ ۖ وَإِذْ تَخْلُقُ مِنَ الطِّينِ كَهَيْئَةِ الطَّيْرِ بِإِذْنِي فَتَنفُخُ فِيهَا فَتَكُونُ طَيْرًا بِإِذْنِي ۖ وَتُبْرِئُ الْأَكْمَهَ وَالْأَبْرَصَ بِإِذْنِي ۖ وَإِذْ تُخْرِجُ الْمَوْتَىٰ بِإِذْنِي ۖ وَإِذْ كَفَفْتُ بَنِي إِسْرَائِيلَ عَنكَ إِذْ جِئْتَهُم بِالْبَيِّنَاتِ فَقَالَ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْهُمْ إِنْ هَـٰذَا إِلَّا سِحْرٌ مُّبِينٌ ﴿5:110﴾

جذام (برص) کے  مرض مبتلاء لمحہ   بلمحہ موت کی طرف سرکتے ہوئے انسانوں کو حیات  بِإِذْنِ اللَّـهِ      ملی  اور وہ  زندہ انسانوں میں شامل ہوگئے ۔

2  دسمبر 1914 میں سیالکوٹ کے ایک گاؤں  ، آغاں میں پیدا ہونے والے  ڈاکٹر آئی کے گِل (عیسائی) نے 1942 سے 1948 تک فوج میں بحیثیت فزیکل ٹریننگ انسٹریکٹر رہنے کے بعد ، سول میں مختلف عہدوں پر رہنے کے بعد 1955 میں جرمنی میں فزیکل ایجوکیشن کی اعلیٰ تعلیم کے لئے جرمنی چلے گئے اور وہاں سے 1962 میں ڈاکٹریٹ کرنے کے بعد واپس پاکستان میں آکر سلم کالونی  آئی آئی چندریگر   روڈ پر واقع  " میری ایڈلیڈ   جذام سنٹر " کو جوائن کر لیا ۔
ان دونوں  کی ٹیم نے پاکستانی ڈاکٹروں‘ سوشل ورکرز اور پیرامیڈیکل اسٹاف کی ٹریننگ کا آغاز بھی کر دیا ۔یوں یہ سینٹر 1965ء تک اسپتال کی شکل اختیار کر گیا‘ان ہوں نے جذام کے خلاف آگاہی کے لیے سوشل ایکشن پروگرام شروع کیا۔
 
ڈاکٹر رُتھ کیتھرینہ مارتھا فاؤ ،   جرمنی  کے  عیسائی عوام ، لپروسی فاونڈیشن  اور پاکستانی مخیئر دردمند افراد کی مدد سے ،  پاکستان میں جذام کے سینٹر بناتی چلی گئی یہاں تک کہ ان سینٹر کی تعداد 156تک پہنچ گئی۔ اس دوران 60 ہزار سے زائد مریضوں کو  بِإِذْنِ اللَّـهِ  زندگی دی۔ہم مانیں یا نہ مانیں لیکن یہ حقیقت ہے ڈاکٹر رُتھ،اس کی ساتھی سسٹر بیرنس اور ڈاکٹر آئی کے گل پاکستان نہ آتے اور اپنی زندگی اور وسائل اس ملک میں خرچ نہ کرتے تو شاید ہمارے ملک کی سڑکوں اور گلیوں میں اس وقت لاکھوں کوڑھی پھر رہے ہوتے اور دنیا نے ہم پر اپنے دروازے بند کر دیے ہوتے‘ ہمارے ملک میں کوئی آتا اور نہ ہی ہم کسی دوسرے ملک جا سکتے۔

اِن کی کوششوں سے سندھ‘ پنجاب‘ خیبرپختونخوا اور بلوچستان سے جذام ختم ہو گیا اور عالمی ادارہ صحت نے 1996ء میں پاکستان کو ’’لپریسی کنٹرولڈ‘‘ ملک قرار دے دیا۔ پاکستان ایشیاء کا پہلا ملک تھا جس میں جذام کنٹرول ہوا تھا۔ حکومت نے 1988ء میں ڈاکٹر رُتھ  کو پاکستان کی شہریت دے دی۔
ہلال پاکستان‘ ستارہ قائداعظم‘ ہلال امتیاز اور جناح ایوارڈ بھی دیا گیا اور نشان قائداعظم سے بھی نوازا گیا۔
1968: The Order of the Cross from Germany.
1969: Sitara-e-Quaid-e-Azam from Government of Pakistan.
1979: Hilal-e-Imtiaz from Government of Pakistan.
1985: The Commanders Cross of the Order of Merit with Star from Germany.
1989: Hilal-e-Pakistan from Government of Pakistan.
1991: Damien-Dutton Award from USA.
1991: Osterreischische Albert Schweitzer Gasellschaft from Austria.
2002: Ramon Magsaysay Award from Government of Philippines.
2003: The Jinnah Award from the Jinnah Society Pakistan.
2003: In The Name of Allah Award by Idara Wiqar-e-Adab Pakistan.
2004: Honorary Degree of Doctor of Science (D.Sc.) from Aga Khan University Pakistan.
2004: Life-time Achievement Award from the Rotary Club of Karachi Pakistan.
2005: Marion Doenhoff-Prize, Germany.
2006: Life-time Achievement Award from the President of Pakistan.
2006: Woman of the Year 2006 Award by City Karachi Pakistan.
2006: Certificate of Appreciation from the Ministry of Health Pakistan.
2009: Nesvita Women of Strength Awards by TVONE Pakistan.
2009: Life-time Achievement Khidmat Award by Al-Fikar International Pakistan.
یہ تمام اعزازات‘ یہ تمام ایوارڈ بہت شاندار ہیں لیکن یہ فرشتہ صفت خاتون، کے لئے اصل انعام وہ صدقہ ء جاریہ ہے جو لاکھوں ، زندگی کی طرف لوٹنے والے  ، دعا کی صورت میں اِسے دیتے ہیں ۔

جوانی میں اپنا وہ وطن چھوڑ دینا جہاں آباد ہونے کے لیے تیسری دنیا کے لاکھوں لوگ جان کی بازی لگا دیتے ہیں اور اس ملک میں آ جانا جہاں نظریات اور عادات کی بنیاد پر اختلاف نہیں کیا جاتا ۔ بلکہ انسانوں کو مذہب اور عقیدت کی بنیاد پر اچھا یا برا سمجھا جاتا ہے ۔

اور لوگ اِس بات پر اطمینان کا سانس لیتے ہیں ، کہ
ڈاکٹر رُتھ کیتھرینہ مارتھا فاؤ  ،  سسٹر بیرنس اور ڈاکٹر آئی کے گل  مسلمان نہیں  ،  ورنہ شاید  یہ  عوام کے پیسوں سے چندہ جمع کرکے ، پیسہ کمانے کے لئے ہسپتال بنا کر خود کو اسلام کی سب سے اونچی سیڑھی پر بٹھا دیتے ۔

اِ س مضمون کو لکھنے کے لئے میں نے چاہا کہ  60 سال سے انسانیت کی خدمت میں مگن ، اِن تینوں  مسیح  عیسیٰ ابنِ مریم صفت ، انسانوں کی جوانی کی تصویر گوگل سے ڈھونڈ کر اِس مضمون میں لگاؤں  ۔لیکن 
  سسٹر بیرنس اور ڈاکٹر آئی کے گل کی تصویروں کے سلسلے میں ناکامی ہوئی !
******************************
For more information please read this link
******************************

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔