میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

جمعرات، 3 جولائی، 2014

درخت کی ٹھنڈی چھاؤں

 یہ ایک موچی ہے ، ہم جب بھی اِس کے پاس سے گذرتے ہیں ، اِسے غریب اور مسکین سمجھ کر اِس سے ہمدردی کرتے ہیں ۔لیکن  اسے غریب نہ سمجھو ، اِس کے کم از کم آٹھ لڑکے ہیں ، جو اعلیٰ قسم کے ہنرمند مزدور ہیں ۔اور چار لڑکیاں بھی ہیں جن کے اپنے تین تین بیٹے بھی ہیں ، بیٹوں کے لئے وہ اپنے رب کی ذات سے وہ  مایوس نہیں ہوا  تھا ، پھر اللہ تعالیٰ نے لگاتار اُسے  بیٹوں سے نوازا ، ہاں اِس کی پہلی بیوی ،تین بیٹیوں کو جنم دینے کے بعد چوتھی بیٹی کی پیدائش پر  جو اِس کے بچوں میں آٹھواں  نمبر ہے ، اللہ کی رضا سے فوت ہوگئی ، تو ، لوگوں نے مشورہ دیا کہ اپنی بیوہ سالی سے شادی کر لو، جس کے  دو بیٹے  اور تین لڑکیاں تھیں ۔ اُس سے مزید  اِس  کے تین بیٹے ہوئے ۔ 
اِس کی بیوی بوڑھی ہوچکی ہے ۔ جو نواسوں اور پوتوں کے دو سیکشن کو سنبھالتی ہے ۔ ساتھ اس کا بھائی ، ایک بیوہ بہن بھی رہتے ہیں ، جس کی تین بٹیاں ہیں ، ابھی وہ دس سال سے چھوٹی ہیں ، بس کچھ عرصہ بعد  جو نہی وہ سمجھ دار ہوں گی ، اُن کی شادی  اپنی دوسری بیوی کے بیٹوں سے کر دے گا ۔ہاں اِس کے بیٹے ، کراچی سے پشاور تک پھیلے ہوئے ہیں ،دوسب سے بڑے   کراچی میں ہیں ، ایک حیدر آباد میں ، تین  لاہور میں  دو اِس کے پاس  ، اسلام آباد کی سبزی منڈی  میں رہتا ہے  ہیں ۔ سب بچے اپنی کمائی سے اسے 45 ہزار  روپے مہینہ  بھجواتے ہیں جو اِس کے پورے خاندان پر خرچ ہوجاتا ہے  ۔
مجھے اکثر کہتا صاحب جو مزہ اِس درخت کی ٹھنڈی چھاؤں میں ہے وہ ائر کنڈیشنڈ میں کہاں ۔ جب جسم پر بہنے والے پسینے سے ہوا ٹکراتی ہے ، تو جسم کو منجمند کر دیتی ہے ۔ اس ٹھنڈک کا مزہ ہم اگلے گھنٹے تک لیتے ہیں ۔
یہ افطاری پر ملک شیک میں بھیڑ کا خالص ٹھنڈا دودھ پیتا ہے ، دھی سے روٹی کھاتا ، آم کی لذت سے لطف اٹھاتا  ہے اور اللہ کا شکر ادا کرتا ہے  کہ اس کو کوئی بیماری نہیں ۔

جو مزہ چھجو کے چوبارے وہ نہ بلخ نہ بخارے ۔
 آپ کی گلی کا کردار اور میری گلی کے اِس  کردار میں کوئی فرق نہیں دونوں عظمت کے نشان ہیں ۔

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔