میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

جمعہ، 4 جولائی، 2014

ہیروئن کا سفر

 پاکستان سے کتابوِں، سوٹ کیسوں اور کپڑوں میں ہیروئن چھپا کر دنیا کے درجن بھر ممالک میں لے جانے والے گینگ کا سرغنہ طاہر محمود بالآخر برطانیہ میں گرفتار ہونے کے بعد جیل کی سلاخوں کے پیچھے پہنچ گیا ہے۔

برطانیہ کی کرائم ایجنسی کا کہنا ہے کہ اس گینگ نے پاکستان 46 کلو گرام اے کلاس ہیروئن سمگل کی جس کی قیمت عالمی منڈی میں اربوں روپے ہے۔ یہ گینگ برطانیہ، نیدر لینڈ، جرمنی، آسٹریا، سپین، دبئی اور پاکستان میں کام کررہا تھا۔ اس گروہ کے کارندے پاکستان سے دبئی کے راستے یورپی ممالک کو ہیروئن سمگل کرتے تھے۔ یہ لوگ اس مقصد کے لئے خاص طور پر تیار کردہ لباس استعمال کرتے تھے جس کے خفیہ خانوں میں ہیروئن چھپائی جاتی تھی۔ اسی طرح کتابوں اور سوٹ کیسوں میں بھی خفیہ جگہیں بنا کر ہیروئن سمگل کررہے تھے۔

 برطانوی پولیس کے مطابق طاہر محمود اور اس کے دست راست بشیر نے برمنگھم ایئرپورٹ کے باہر ایک کارندے سے ملاقات کی جس نے ہیروئن چھپانے والا مخصوص لباس پہن رکھا تھا۔ بعد ازاں پولیس نے ایک جگہ گاڑی روک کر اس کارندے کو گرفتار کرلیا۔ اسی طرح دیگر کارندوں کے ساتھ میل جول کے ثبوت بھی حاصل کئے گئے اور مقدمہ عدالت میں پیش کردیا گیا۔

 عدالت نے 53 سالہ سرغنہ طاہر محمود کو 16 سال جبکہ اس کے دستِ راست انور بشیر کو 15 سال قید کی سزا سنائی۔

کیا آپ کو معلوم ہے کہ ہیروئن کا سفر کہاں سے شروع ہوتا ہے ؟

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔