میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

پیر، 7 جولائی، 2014

بابے کو کیا ہوا



فیس بُک کے جوان دوست ،
پریشان ہوں گے ،
کہ بابے کو کیا ہوا ،
رمضان کا مہینہ ،
پہلا عشرہ اور
گانوں پہ گانے پوسٹ کر رہا ہے
'
آہ بابا بھی کبھی نوجوان تھا ،
ایک بابے نے پہلا گانا پوسٹ کیا۔
وہ سننا تھا ،
کہ دھڑ دھڑ کرکے سالوں سے بند کھڑکیاں کھلتی گئیں ۔
بابا ، گانے پہ گانا سنتا رہا ۔
'
بیوی آئی ۔
اس نے چھوٹی سکرین پہ شبنم کو دیکھا
اچھا اب سمجھ آئی کہ راتوں کو جاگ کر کیا کرتے ہیں ۔
ارے میں بھی تو کہوں ، کان پر یہ ٹونٹی لگا کر ،
کیسے انہماک سے اللہ اور رسول کا کام ہو رہا ہے ۔
یہ تو آج معلوم ہوا۔
'
آہ یہ بڑھاپا بھی کیا چیز ہے ۔
ذرا سی جوانی کو آواز دی ،
تو آواز کی راہ میں پہلی رکاوٹ ،
تسبیح گھماتی بیوی ہی آئی ۔
'
اب بابا کیا کرے ، کسی ،مسجد کی چوکھٹ کے باہر بیٹھ جائے َ
'
اور تان لگائے ،
،
ہمارے سانسوں میں آج تک وہ حنا کی خوشبو مہک رہی ہے ۔
'
لیکن نہ جانے ، محلے کی کتنی حناؤں کے پوتے پوتیوں کے کان کھڑے ہوجائیں گے ۔
'
اِن کمبختوں کو کیا معلوم ، حنا کسے کہتے ہیں ۔
جسے بڑی بوڑھیائیں ایسے سل بٹے پر رگڑتی تھیں ۔
جیسے وہ اپنی بہوؤں کو رگڑتیں ۔
'
اب  حنا تو نہیں، البتہ مہندی کون میں ملتی ہے ۔

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔