میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

اتوار، 6 جولائی، 2014

انسانی جسموں میں بریف کیس ایٹم بم

بریف کیس  ایٹم بم اب انسانی جسموں میں ، امریکہ نے دنیا کو دہشت زدہ کرنے کے لئے ایک اور افسانہ گھڑ لیا ۔
 
واشنگٹن (نیوز ڈیسک) دنیا کو دہشت زدہ کرنے کے شوقین امریکہ کو آئے روز کوئی نئے سے نیا خوف گھیر لیتا ہے اور اب اس پر یہ خوف طاری ہے کہ دہشت گرد ایسے بم بنارہے ہیں جنہیں انسانی جسم کے اندر فٹ کرکے یا موبائل فونوں کے اندر خفیہ طور پر نصب کرکے امریکہ پر حملہ کیا جائے گا۔ نئی قسم کے خفیہ بموں کے خوف کے بعد تمام ہوائی اڈوں پر سیکیورٹی انتظامات انتہائی سخت کردئیے گئے ہیں اور امریکہ نے یورپ، مشرقی وسطیٰ اور افریقی ممالک کو بھی خبردار کردیا ہے کہ وہ اپنے ایئرپورٹوں کے سیکیورٹی انتظامات سخت کریں تاکہ انسانی بموں اور موبائل بموں کو امریکہ پہنچنے سے روکا جاسکے۔

امریکی خفیہ اداروں کا دعویٰ ہے کہ القاعدہ کا اہم رکن 32 سالہ سعودی شخص ابراہیم الاسیری یہ خفیہ بم بنانے میں مہارت حاصل کرچکا ہے اور اُس کے تیار کردہ بم عراق اور شام میں لڑنے والے برطانوی جنگجو
ں کے پاس پہنچ چکے ہیں جو برطانیہ واپس جاکر وہاں سے امریکہ جانے والی پروازوں کو نشانہ بنائیں گے۔ امریکی پریشان ہیں کہ شدت پسند یہ بم لے کر جہازوں مکیں سوار ہوسکتے ہیں کیونکہ انہیں پکڑنا بہت مشکل ہے-یاد ہے آپ کو ،  نو ستمبر کے حملے کے بعد امریکہ نے دعویٰ کیا تھا

کہ القائدہ نے روس سے بریف کیس میں آنے والے ایٹم بم خرید لئے ہیں ۔ اور پوری مغربی دنیا کو ایک دہشت میں مبتلاء کر کے خود اِس کوشش کو روکنے کے لئے ، چوہدری  بن بیٹھا  ؟

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔