میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

پیر, جولائی 7, 2014

رقم تیرے کتنے نام ؟


رازق کا دیا ہوا ،اس کا نام " زکوٰۃ"
مسجدوں میں اس کا نام " چندہ" مزاروں میں اس کا نام " نذرانہ"
شادی میں اس کا نام " جہیز"
طلاق   اس کا نام " نان نفقہ"
کسی کو دینا ہو اس کا نام " قرضہ"
گورنمنٹ میں اس کا نام " ٹیکس"
ریٹائرڈ ملازمین میں اس کا نام " پنشن"
ملاز مین میں اس کا نام " تنخواہ"
عدالت میں اس کا نام " جرمانہ"
دیہاڑی داروں میں اس کا نام " مزدوری"
بچوں میں اس کا نام " پاکٹ منی"
پولیس میں اس کا نام " خرچہ پانی"
وکیلوں میں اس کا نام " کیس کی کاپی"
ٹھیکیداروں میں اس کا نام " کمیشن"
ویٹرز میں اس کا نام " ٹِپ"
غریبوں میں اس کا نام " بھیک"
این جی اوز  میں اس کا نام " ڈونیشن"
بیوی کا دیا ہوا نام ، " جیب خرچ"
معاشیات دانوں کا دیا ہوا نام " زر "





خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔