میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

پیر، 7 جولائی، 2014

اتحاد بین المسلمین ایک سعی لا حاصل

اتحاد بین المسلمین ایک ایسی سعی لا حاصل ہے ، جو نہ جانے  کب سے جڑ پکڑنے کی کوشش کر رہی ہے ،.
کافی عرصہ  پہلے کی بات ہے ، کہ کچھ درد مند دوستوں نے اِس پلیٹ فارم پر ،  اِسی ٹرین کو لانے کی کوشش کی جسے اتحاد بین المسلمین کہتے ہیں ، ہمیں بھی دعوت دی گئی .
ہمارے بارے میں مشہور ہے کہ ، ہمارا ہر جملہ " نہ " سے شروع ہوتا ہے ، کہا جاتا ہے کہ جب سرسری طور پر ذکر کیا  گیا کہ اُس کو بھی بلاتے ہیں ، تو ہمارے بزرگ دوست  ظہیر الاسلام عباسی(اللہ تعالیٰ اُن کے درجات بلند کرے)  نے  حیرانی سے کہا ، 
"خالد ؟  وہ کہے گا ، نہ یہ کیا کر رہے ہیں آپ لوگ ، ایسا ممکن ہی نہیں ، پھر کہے گا ، اچھا چلیں تو پھر آجاؤں گا "
لیکن ایسا نہیں ہوا  اور ہم ایک دن بعد از الصلوٰۃ الجمعہ ، ایف ایٹ مرکز میں ، یارانِ ہمہ صفت ، لیکن جُہتِ مختلف بیٹھے تھے ، طارق عبدالمجید نے ، اِس " الجمع " کے اغراض و مقاصد بیان کئےسب بولے اور خوب بولے سوائے ہمارے  ۔

چنانچہ چائے کی پیالیوں میں طوفانِ درد  اورطوفانِ بدتمیزی اُڑانے کے بعد ، سب بشمول ہمارے متفق ہو گئے ، کہ
"کوئی تو ہو جو میری وحشتوں کا ساتھی ہو ۔
" یعنی تم میں ایک جماعت ایسی ہو ۔ ۔ ۔ ۔  ۔۔!"
اقبال شاہد کی مہمانداری میں ، چائے کا دور چل رہا تھا  کہ    جنرل صاحب گویا ہوئے ،
" اِس مجلس کا امیر کس کو منتخب کریں گے "۔

جنرل ، ظہیر الاسلام عباسی خلافت موومنٹ کے بہت داعی تھے ۔ مسلم تاریخ کے کئی خلیفاؤں کی فہرست ، کو ترتیب دینے اور اِن کا سلسلہ جاری رکھنے میں مصروفِ عمل تھے  اور  باقی جو  حضرات بیٹھے تھے ، سب اپنی اپنی جماعتوں کے چھوٹے بڑے امیر تھے ، سوائے ہمارے جو ہمیشہ  غریب ہی رہے ۔
اُن کے اِس سوال نے ، طارق کے چہرے پر شرارتی مسکراہٹ لائی ، اُس نے سوال محفل میں لڑھکا دیا ، طارق کے ساتھ ، اقبال شاہد تھے ، پھر شمس الحق اعوان اور پھر ہم ، انہوں نے   ، ترتیب وار  پوچھنا شروع کیا ۔
"کیا امیر ہونا چاھئیے ؟"

شمس الحق اعوان کے بعد ، اُنہوں نے ہمیں پھلانگ کر  قاری ظفر الحق سے سوال پوچھا ، ہم بھی چپ بیٹھے رہے ، جب کوئی نو افرادِ میٹنگ سے سوال پوچھ بیٹھے اور سب نے کہا ،
"جی امیر تو ہونا چاھئیے "
آخر میں ، جنرل عباسی کی طرف دیکھ کر بولے ،
" جی میجر صاحب ، آپ بتائیے ؟"

" امیر کی کیا ضرورت ہے ؟" ہم نے جواباً سوال داغا

وہ سب جنہیں ہم سے توقع تھی  کہ ہم کہیں گے ،" نہیں ، امیر نہیں ہونا چاھئیے "

اُنہوں نے مسکرا کر ایک دوسرے کی طرف دیکھا ، گویا   ہم نے حسبِ عادت  یہ جملہ تو نہیں کہا ، البتہ اُن کے نزدیک جملہ یہی تھا ۔
" کیوں نہیں ہونا چاھئیے ؟" جنرل صاحب چمک کر بولے ۔
"وہ اِس لئے  کہ ہم سب امیر ہیں " ہم نے رسانیت سے جواب دیا " سوائے میرے، تو یہاں کوئی غریب نہیں  اورمیں نے ، طارق کے ہاتھ سے کاغذ لے کر وہاں بیٹھے افراد  کے نام ، جماعتوں اور امارت ، کے ساتھ گنوا دئیے ، اب بتائیے کہ اتنے امیروں میں ، ایک امیر کا ہونا یا نہ ہونا برابر ہے "۔

" لیکن نبیﷺ نے فرمایا ہے ، کہ اگر تم دو افراد سفر پر جارہے ہو تو ایک کو امیر چُن لو "  جنرل صاحب نے ہمیں حدیث سے ہمیں قائل کرنے کی کوشش کی ۔

" ٹھیک ہے جناب جب سفر پر جائیں گے ، تو امیر چن لیں گے  ، ابھی تو ہم بیٹھے ہیں  " ہم نے جواب دیا

"لیکن جس مقصد کے لئے ، ہم جمع ہوئے ہیں اُس کے لئے بھی تو ایک امیر ہونا چاھئیے " جنرل صاحب  نے ہمیں سمجھانے کی کوشش کی ۔
" سر ! ہم کس مقصد کے لئے جمع ہوئے ہیں ؟ " ہم نے سنجیدگی اختیار کرتے ہوئے پوچھا ۔

قاری ظفر الحق سے ہماری یہ پہلی ملاقات تھی ، اُنہوں نے ہنستے ہوئے ، طنزاً کہا ،
" طارق صاحب ، میجر صاحب ، اب تک یہ سمجھ رہے تھے  کہ  اقبال شاہد نے  ہم سب کو ،بسکٹ کھانے اور چائے پینے کے لئے بلایا ہے "
"اچھا ، تو اور کس لئے بلایا ہے ، اپنے قاری  ظفر الحق ، ساکنِ واہ "
ہم نے جواباً وہی سکہ اُن کی طرف لڑھکا دیا ۔
قاری صاحب ، علم حدیث و فقہ کے ماہر ، قران اور سنت کے شیدائی  ہیں ، اُنہوں نے گلا کھنکھار کر ہمیں بتایا ۔

" میجر صاحب ، ہم یہاں اِس لئے جمع ہوئے ہیں کہ ایک ایسا لائحہ عمل تیار کیا جائے ، کہ مختلف مسلک اور دینی سوچ کی جماعتیں ، "ایک پیج " پر آجائیں  اور آپس کے اختلاف بھلا دیں  تاکہ  امت واحدۃ بن جائیں "

" یہ تو طارق  صاحب ، افتتاحیہ میں بتا چکے ہیں "۔ ہم نے جواب دیا 
"اور  میں اُن کی پوری تقریر  ہوش و ھواس میں سنی ہے، کہیں تو دھرا دوں ، بلکہ یوں کہئیے ، اِس پر ہم دونوں  ، بحث  بھی کر چکے ہیں  ۔ میری رائے میں ،ہمیں کسی امیر  کی ضرورت  نہیں ، اگر ہمارا مقصد وہی ہے جو ہم سب سمجھے ہیں   اور جہاں تک امیر ہونا چاہئیے  کا سوال ہے تو ، میرے ہمدرد ساتھیو ، ہم میں امیر موجود ہے ، لہذا کسے نئے امیر کی ضرورت نہیں "

جنرل صاحب پھڑک کر طارق کو مخاطب کرتے ہوئے بولے ،
" طارق صاحب ، آپ لوگوں  نے میٹنگ سے  پہلے امیر مقرر کر لیا ، تو ہمیں بلانے کا مقصد ؟"

طارق عبدالمجید ہڑبڑا کر بولے ،" ایسا تو نہیں ہوا ، کیوں میجر صاحب ، امیر کون ہے ؟"

" محمد رسول اللہ " ہم نے جواب دیا  تو طارق صاحب کے چہرے کا رنگ واپس آیا۔

"کیا مطلب ؟ " جنرل صاحب بولے ۔

"ہم جس مقصد کے لئے جمع ہوئے ہیں ، اگر اُس کی امارت ، محمد رسول اللہ  کے پاس رہنے دیں تو ہم یوں سمجھیں  "ایک پیج "  پر ہیں ، ورنہ اقبال شاہد بھائی ، چائے بہت مزیدار تھی اور بسکٹ تو نہایت خستہ اور عمدہ ، آئیندہ کب بلا رہے ہیں ؟"

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔