میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

منگل، 12 اگست، 2014

تندرست و چست دماغ


انسانی دماغ اللہ کی ایک بہتری عطا ہے ، یوں سمجھیں دماغ پورے جسم کو کنٹرول کرتا ہے ، چوبیس گھنٹے  ہر وقت کام میں مشغول دماغ بالآخر وقت کے ساتھ ہار ماننا شروع ہوجاتا ہے ، بچپن سے دماغ کے کسی خانے میں محفوظ یادداشت  کمزور پڑنے لگتی ہے ، اور قریبی یاداشت  کاکیا کہنا ،اخبار دوبارہ پڑھنے کے لئے سارا گھر  میں  عینک ڈھونڈھنے میں ناکامی کے بعد آواز لگانا 
" ارے بچو عینک کہاں رکھی میں نے ، ذرا ڈھونڈو "
اور کسی بچے کا ہنستے ہنستے ،ہاتھ بڑھا کر  ماتھے پر رکھی ہوئی عینک کا آنکھوں پر گرانا ، اور پھر  گاڑی کی  چابی سے گھر کا تالا کھولنے کی کوشش کرنا ، یہ سب  اُس عمر میں شروع ہوتا ہے جسے ہم بڑھاپا کہتے ہیں ۔
بڑھاپے میں جہاں جسمانی اعضا کمزور ہوتے ہیں وہاں دماغ بھی  یاداشت کو واپس لانے میں مشکل محسوس کرتا ہے ،  اِس میں زیادہ ہمارا قصور ہے اور کم دماغ کا  ۔ وہ کیسے ؟
دماغ پر جو چیزیں اثر ڈالتی ہیں :-
٭- ناشتہ نہ کرنا
٭- بہت زیادہ کھانے کی عادت
٭ - سگریٹ نوشی
٭- چینی کا مٹھائیوں اور دیگر خوراک کی چیزوں میں بے تحاشا استعمال ۔
٭- بہت زیادہ سونا
٭- ٹی وی  دیکھتے یا کمپیوٹر پر کام کرتے ہوئے کھانا کھانا
٭ - رات کو جرابیں پہن کر سونا
٭۔ بیماری کی صورت میں آرام کے بجائے خوب پڑھنا یا فلمیں دیکھنا ۔
٭-  بہت زیادہ بولنے کی عادت
٭- پیشاب کو روکے رکھنا تاکہ کم سے کم ٹائلٹ میں جانا پڑے ۔
یہ وہ دس ایسے کام ہیں جو دماغ میں کمزوری پیدا کرنے کا سبب بنتے ہیں ۔
اِن سے پرہیز کرنے کرتے ہوئے اپنے دماغ  کو تندرست بناتے ہوئے اِس میں موجود اپنے ذہن کوچست و پھرتیلا بھی بنا سکتے ہیں ، جس سے آپ کی یاداشت  لمبی عمر تک آپ کا ساتھ دے سکتی ہے ۔
٭۔ ذہنی کھیل کھیلنا
 اگر آپ  روزانہ اخبارات میں کراس ورڈز یا دیگر معموں کو حل کرنے کے شوقین ہے تو یہ عادت آپ کے دماغ کیلئے فائدہ مند ہے، بنیادی ریاضی اور اسپیلنگ اسکلز کی مشق جیسے دماغی کھیلوں کا مطلب یہ ہے آپ اپنے دماغ کو زیادہ چیلنج دے رہے ہیں جو اسے تیز رکھنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔
٭- پڑھنا
کتابوں سے لیکر بلاگز یا تازہ ترین خبریں پڑھنے تک سب کچھ کے ساتھ مطالعہ آپ کے دماغ کو نئے الفاظ سیکھنے اور یاداشت بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔
٭۔ نئی زبان سیکھنا
انسان پانچ زبان آسانی سے سیکھ سکتا ہے اور اہلِ زبان کی طرح بول بھی سکتا ہے ، آپ کو کتنی زبانیں آتی ہیں ؟  تحقیقی رپورٹس میں یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ ایک سے زائد زبانوں سے واقفیت ایک بوڑھاپے میں صحت مند دماغ کا سبب بنتی ہے۔

٭۔جسمانی ورزش
آپ تیس   منٹ سے ایک گھنٹے تک روزانہ جسمانی  ورزش ، جیسے یوگا، چہل قدمی، سائیکلنگ، تیراکی اور دیگر وغیرہ بہت آسان بھی ہیں اور تفریح سے بھرپور بھی، جس سے دماغ کو گرمی کے موسم سے مطابقت پیدا کرنے میں مدد بھی ملتی ہے۔جسمانی ورزشیں درحقیقت دماغ کیلئے بھی فائدہ مند ثابت ہوتی ہیں۔
٭۔ متناسب اور صحت بخش خوراک
خوراک میں صحت بخش اجزاءکا استعمال ہی صحت مند دماغ کی ضمانت ہوتے ہیں، مضر صحت اجزاءجیسے تمباکو نوشی اور نشہ آور اشیاء   کا استعمال محدود بلکہ 40 سال کی عمر کے بعد ختم  کرنا چاہئے، زیادہ نمک کھانے سے بھی بچنا چاہیے  کیونکہ یہ ذیابیطس، ہائی بلڈپریشر اور فالج جیسے امراض کا سبب بھی بن سکتا ہے۔
٭۔  متحرک سماجی زندگی
کیا آپ کو معلوم ہے کہ کسی دوست کے ساتھ  چند منٹ کی  خوشگوارگفتگو آپ کو توانا کر دیتی ہے ۔  اپنے دوستوں سے کسی بھی موضوع پر بات کرنے کیلئے وقت نکالیں، اپنے دوستوں اور رشتے داروں سے  ملتے جلتے رہنا   دماغ کو چوکنا رکھنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔لیکن یاد رکھئے کہ بے کار اور ایسی بحث کہ جس کا اختتام تلخی پر ہو آپ کو نڈھال کر دیتی ہے
٭۔  ہے جستجوء خوب مگر خوب تر کہاں
یہ خوب تر کچھ بھی ہوسکتا ہے ، کسی نئے لفظ کا مطلب سمجھنا ، کھانا  یا سلاد بنانے کی  کوئی بہترین یا نئی ترکیب  (عورتوں کے لئے )،  لیکن مرد بھی یہ کوشش کر سکتے ہیں،   اپنی معمول کی  روزمرہ مصروفیات  سے باہر بھی جھانک کر دیکھیں ،  آپ کے دماغ میں ایک نیا جوش اور ولولہ پیدا ہوگا  پیدا کرنے کا سبب بنتا ہے۔

٭۔ طبی معائینہ   اور طمانیت
کیا آپ کو یاد ہے کہ آپ پچھلی مرتبہ کب ڈاکٹر کے پاس اپنی صحت کے بارے میں معلوم کرنے گئے تھے ؟  یاد رکھیں کہ 40 سال گذرنے کے بعد آپ کم از کم ہر سال اپنا مکمل طبی معائینہ ضرور کروائیں ۔ یاد رہے کہ پاکستان میں  اوسط طبی عمر  65 سال   (خواتین 55 سال)ہے  ، اِس عمر تک صحت مند پہنچنے کے لئے  وقت سے پہلے  صحت کو لاحق خطرات کا سدباب نہایت ضروری ہے ۔ اگر آپ کی عمر 55 سال سے اوپر ہے تو اپنی دماغی صحت کے حوالے سے بھی  ڈاکٹرز سے چیک اپ کرواتے رہیں، کیونکہ اکثر ذہنی امراض کا آغاز 55 سال کی عمر کے بعد ہی ہوتا ہے۔

٭۔  پانی کا وافر استعمال
یاد رکھئیے پانی کی وافر مقدار پینے سے  جو روزانہ کم از کم چھ سے 8 گلاس بنتی ہے ، نہ صرف آپ کے مکمل جسمانی نظام بلکہ مند دماغ کےلئے بہت ضروری ہے۔
٭۔ کائینات میں بکھری ہوئی موسیقی ۔
کسی ایسے پارک میں جہاں پرندے آزادانہ اُڑتے ہوں ، جانور پھرتے ہوں  اور جھرنے  گرتے ہوں اگر آپ جائیں تو آپ کو  کائیناتی موسیقی ضرور سنائی دے گی ۔ یہ سب آوازیں انسان نے سن کر  ، اِسے  مختلف آلات کی مدد سے دوبارہ زندگی دی ہے تاکہ وہ افراد جن کی قدرتی موسیقی کی طرف  رسائی نہیں وہ بھی لطف اندوز ہوسکیں ۔  موسیقی سے توجہ مرکوز کرنے کی صلاحیت بہتر بنانے میں مدد ملتی ہے، اور موسیقی سے دماغی افعال میں بہتری آتی ہے ، جبکہ ڈیمنیشیا جیسے دماغی مرض پر قابو پانے میں بھی مددگار ثابت ہوتی ہے۔جس  کی وجہ سے انسان  سوچنے اور  نطق کی صلاحیت کم زور ہوجاتی ہے اور یہ 65 سال سے اوپر جانے پر بڑھتی جاتی ہے ۔

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔