میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

پیر, اگست 25, 2014

پختو خواہ اَو مہ خواہ !


 یہ سب بچے ، بسوں اور ٹرکوں میں بھر کر یا سبزی منڈی اسلام آباد سے ، انقلاب چوک یا آزادی چوک یا دھرنا چوک میں لائے گئے ہیں ، تاکہ اِن کو نیا پاکستان دیا جاسکے۔ نئے پاکستان کی بنیاد ، کن اصولوں پر پڑ رہی ہے  اور اِن بچوں کا اِس میں کیا کردار ہوگا ۔ اُس کے خد وخال عمران خان کے جلسے میں نظر آتے ہیں ۔ لیکن میرے خیال میں اِن بچوں کی وسمت یہی رہے گی جو ، پختون خواہ کے خوانین بناتے ہیں ۔

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔