میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

منگل، 5 اگست، 2014

یہودی و عیسائی اشیاء کا بائیکاٹ

  بوڑھا  اور بڑھیا، چم چم  کو اُس کے دادا کے گھر چھوڑنے ہفتہ کی صبح جارہے تھے ، ٹنچ روڈ سے گذرتے ہوئے اُس کی نظر ، گرم گرم پوریوں پر پڑی  اور وہ مچل گئی کہ حلوہ پوری کھانی ہے ، میں نے کار روکی ، بڑھیا نے کہا  کہ،
" درجن پوریاں لے لینا اور اُسی حساب سے حلوہ بھی "۔
بوڑھا کار سے نیچے اترا  اور حلوہ پوری کی دکان کی طرف بڑھا  ایک نہایت تیز رفتار آتی ہوئی موٹرسائیکل اور خود کی مڈبھیڑ سے بچایا ، موٹر سائیکل کا 13 سالہ  ماہر  لہرا کر آگے جا کر ایک کھڑی ہوئی سائیکل سے ٹکرایا  اور غصے میں میری طرف آیا ،
"دیکھ کر نہیں چلتے  میری بائیک  کا نقصان کر دیا "۔اونچی آواز میں چیخا
بوڑھے نے پوچھا ،" اتنی تیزی سے کیا آگ بجھانے جا رہے تھے ؟"
"میں آگ بجھانے جاؤں یا لگانے ۔یہ سڑک  ہے اِس پر موٹر سائیکل تیز چلیں گی آپ کو احتیاط کرنا چاہئیے "اُس نے بھنکتے ہوئے کہا ۔
"برخودار ، ایسا کرتے ہیں کہ ٹریفک پولیس کو بلا لیتے ہیں ، وہ فیصلہ کریں گے ، کہ غلطی کس کی ہے ، اور ساتھ پولیس کو بھی ، کیوں کہ آپ نے  کھڑی ہوئی سائیکل کا رِم ٹکر مار کر ٹیڑھا کر دیا ہے " -پولیس کے نام پر وہ اپنی تربیت کے مطابق پولیس والوں کو اور مجھے بکتا جھکتا  چلا گیا ۔
بوڑھےنے ، حلوہ پوری  بنانے والے کو ، آرڈر دیا  ،مجھے سے پہلے چھ گاہک اور کھڑے تھے ، اُس نے از راہ ہمدردی مجھے ایک سٹول دیا کہ اُس پر بیٹھ جاؤں ، بوڑھے نے شکریہ کے ساتھ انکار کر دیا ۔اور کھڑا ہوکر اُس کی پوریاں تلتے دیکھنے لگا ۔ تھوڑی دیر بعد اُس کے مدد گار نے ، ایک ڈبے سے تیل کڑھائی میں انڈیلا ، جو استعمال شدہ   تھا ، یہ دیکھ کر 
بوڑھا  کار کی طرف گیا اور
چم چم سے کہا ،" عالی  ! میرے خیال میں یہاں کی پوریاں ، ہائی جینک نہیں ، میں اگلے ویک اینڈ پر تمھیں پوریاں کھلاؤں گا ۔"
"وعدہ"۔چم چم  نے کہا
"وعدہ"۔ میں نے جواب دیا
اور پوری والے کے پاس واپس جاکر 
بوڑھے نے کہا ،
" بھائی میرا آرڈر کینسل کر دو"

" سر ! بس پانچ منٹ لگیں گے آپ کار میں بیٹھیں میں وہیں لادوں گا "۔ بوڑھے نے کہا،
"شکریہ مجھے جلدی ہے ، پھر کبھی سہی "۔
یہ کہہ کر 
بوڑھا کار میں آبیٹھا اور روانہ ہو گیا ۔
چم چم  کے دادا کے ہاں ، اُن سے پوچھا  کہ وہ عالی کو پوریاں کہاں سے لا کر دیتے ہیں ، تو انہوں نے بتایا کہ عابد مجید روڈ پر گلی میں نرالا سوئیٹ ہے وہاں سے ۔مجھے یاد  آگیا ، اُس کے پاس والی دکان سے ہم گوشت لیتے تھے ۔ لیکن غالبا یہ نرالا کی فرنچائز نہیں بلکہ ، نیو نرالا کے نام سے مٹھائی کی دکان ہے ۔ جس سے ٹنچ بھاٹہ والے مستفید ہوتے ہیں ۔
اُس کے بعد ، وہی باتیں شروع ہوئی ملاوٹ  کرنے کی ، چونکہ وہ سارا سامان ، سی ایس ڈی سے لیتے ہیں اِس لئے ہماری طرح  وہ ملاوٹی اشیاء  محفوظ ہیں ۔ لیکن پاکستان میں رہنے والی  70 فیصد آبادی اِس کا شکار ہے ۔
جو تیس فیصد ہیں ، وہ سی ایس ڈی ، یوٹیلٹی سٹور ، میٹرو اور دیگربڑے بڑے شاپنگ پلازوں سے خریداری کرتی ہے۔جہاں گھر لاکر چیز خراب نکلنے پر ، بل دکھا کر واپس کر کے دوسری چیز لے جائی جاسکتی ہے ۔
دوائیاں ، ڈی واٹسن ، شاہین اور دیگر قابلِ اعتماد میڈیکل سٹوروں سے لیتی ہے ، جہاں اُنہیں یقین ہوتا ہے کہ جو پیسے وہ دے رہے ہیں  اُس کے بدلے میں دو سے دس نمبر کی شئے نہیں خرید رہے ۔
پاکستان میں دس فیصد لوگ ، امپورٹڈ اشیاء خریدتے ہیں ، یہ وہ لوگ ہیں جو ، غیر ملک جا کر امپورٹڈ اشیاء کے خالص ہونے کے فائدے دیکھ چکے ہیں ۔
دبئی یا سعودی عرب میں ملنے والی ، پیپسی ، کوک اور پاکستان میں تیار ہونے والی پیپسی اور کوک میں وہی فرق ہے جو کنویں کے پانی اور کمیٹی کے پانی میں ہے ۔
پیرا سیٹامول  جو سعودی عرب میں ہم نے خریدی اور پاکستان میں جو ہم نے استعمال کی ، تو معلوم ہوا کہ ، ایک سعودیہ میں ملنے والی پیرا سیٹاموال اوردس پاکستان میں بننے والی پیرا سیٹا مول برابر  ہیں ۔
پوری مسلمان دنیا    سوائے پاکستان ،یہود ونصاریٰ کے ملکوں  کے سٹینڈرڈ کے مطابق بنائی ہوئی ہر اشیاء کو استعمال کر رہی ہے ۔  مشرکوں (بدھ، ہندو اور لا مذھبوں )   کی بنائی ہوئی کاریں ، ٹرک اور مشینری پر اعتبار کرتے ہیں، جن کی بعد از فروخت وارنٹی ہوتی ہے ، جو ذرا سی خرابی پر پوری دنیا سے اپنے کاریں بلین ڈالرز کا نقصان اٹھا کر منگوا لیتی ہیں ، تاکہ اُن کی بحیثیت انسان ساکھ کو نقصان نہ پہنچے ۔
جو اپنی بنائی ہوئی  طویل المدت دوائیو ں اور اشیاء کو تاریخِ میعاد سے  تین مہینے پہلے سٹوروں سے تلف کرنے کے لئے اٹھا لیتی ہیں ۔ یہ کچرا ، تمام ممالک سے جمع ہوکر ، نماز، روزہ ، حج و عمرہ کرنے والی ایک خاص زبان کی قوم کے افراد اِسے اٹھا لیتے ہیں اور یہ دبئی کے راستے ، ایران سے ہوتی ہوئی  بلوچستان اور  خیبر پختونخواہ کے راستے  پاکستان میں اور کسٹم کے افراد کوپیسہ دینے کے بعددبئی سے  ڈرم پیکنگ میں کراچی سے پاکستان آجاتی ہیں  اور غیر ملکی اشیاء کے نام  پر نئی  معیاد کے لیبلز کے ساتھ پاکستان میں بکتی ہیں ۔
اصلی دوائیاں وہ ہوتی ہیں جو غیر ممالک سے پاکستان آنے والے مسافر اور ائر سروس کے افراد لاتے ہیں ، جو پہلے الیکٹرانک کی اشیاء لاتے تھے ۔

سو سے دس نمبر اشیاء کا کاروبار کرنے والے ، کیسے اُن غیرملکی کمپنیوں کی اشیاء کا بائیکاٹ کریں گے ، جو اُن کے لئے بے تحاشا منافع کاذریعہ ؟
وہ جنہیں پاکستان کی دوائیوں اور دوسری چیزوں کے میعار پر اعتبار نہیں ، وہ  کیسے بائیکاٹ کر سکتے ہیں ؟
دل کی شریانوں کو کھلا کرنے والابیس ہزار ، میں ملنے والے اُس سٹنٹ کا بائیکاٹ کیسے کرنے دیں گے جو وہ  ، ایک لاکھ پچاس ہزار میں  مریضوں کو لگاتے ہیں ؟





،

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔