میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

بدھ، 6 اگست، 2014

میرے عزیز ہم وطنو!


 میرے عزیز ہم وطنو !
جیسا کہ آپ کو معلوم ہے کہ ہمارے عظیم ملک کو اِس وقت  چاروں طرف سے مہیب خطرات کے بادل آہستہ آہستہ ، طاغوتی طاقتوں کی مدد سے گھیرے میں لے رہے ہیں۔
پاکستان فوج نے آسمان سے گرنے والے یا زمین سے نکلنے والے ہر اللہ کے عذاب کا جوانمردی اور حوصلہ مندی سے مقابلہ کیا ہے اور پاکستان کے عوام کا ہر بھرپور ساتھ دیا ہے۔ جس کو ہر محبِ وطن پاکستانی نے سراہا ہے ۔
پاکستانی فوج نے کبھی نہیں چاہا اور نہ چاہے گی کہ پاکستانیوں کا خون پاک سرزمیں میں جذب ہو ، لیکن کہیں اسلام کے نام پر جو امن کادین ہے تو کہیں جمہوریت کے نام پر ،یہودی و عیسائی بھیک و  چندے سے  خریدے ہوئے ، لوگوں نے ، پاکستان کے مقدس ترین دن 14 اگست پر پاکستانی خون کو جس بے دردی سے بہانے کا جو بھیانک اور درد اندوز منصوبہ بنانے کے لئے ، پشاور و لاہور سے اسلام کی و جمہوریت کی عبا اوڑھے دہشت گردوں کو جمع کرکےپاکستانی عوام کی ووٹ کی طاقت کو کچلنے کا پروگرام بنایا ہے ۔
اُس کو      پاکستانی بصیرت کے ساتھ نمٹنے کے لئے ، حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ پورے پاکستان میں ایک مہینے کے لئے عوام کی حفاظت کے لئے ، آئین کے آرٹیکل 245 کے مطابق ، پر امن پاکستانیوں کو شرپسندوں سے بچانے کے لئے ، غیر معینہ مدت تک ہنگامی بنیادوں تک فوج کی حفاظتی تحویل میں دیا جاتا ہے ۔
پاکستانی بصیرت کے ساتھ نمٹنے کے لئے ، حکومت نے فیصلہ کیا ہے کں عوام کی حفاظت کے لئے ، آئین کے آرٹیکل 245 کے مطابق ، پر امن پاکستانیوں کو شرپسندوں سے بچانے کے لئے ، غیر معینہ مدت تک پورے پاکستان کو  ہنگامی بنیادوں پر فوج کی حفاظتی تحویل میں دیا جاتا ہے ، موجودہ حکومت برقرار رہے گی  تمام جلسے جلوس احتجاج کو کسی بھی صورت میں سڑکوں پر کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی ۔جو بھی شخص ایسی جگہوں سے گرفتار ہوگا اُس کے بنیادی حقوق    اِس بنیاد پر معطل سمجھے جائیں گے کہ اُس نے دوسرے اِنسانوں کے بنیادی حقوق کو اُن سے چھینے کی کوشش کی ہے ۔ جس کی آئین کسی بھی صورت میں اجازت نہیں دیتا ۔ 

رات دیکھے گئے ایک خواب سے اقتباس

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔