میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

پیر، 1 ستمبر، 2014

چاقو بُرا نہیں ، غلط استعمال بُرا ہے

 بہت پرانی بات ہے ،جب ٹی وی نیا نیا آیا ۔  ٹنڈو الہ یار میں بوسٹر لگنے سے میرپورخاص میں بھی ، ٹی وی بکنے لگے سب کو شوق تھا ۔ لیکن ہمارے گھر میں شیطان کا داخلہ سختی ہے ممنوع تھا ۔کیوں کہ تصویر اور ٹی وی نہ تھا ۔
پھر یوں ہوا کہ میری منگنی ہوگئی ، جہاں ہوئی اُن کے گھر ٹی وی تھا ۔ یہ نہیں کہ "
ابّا" ٹی وی نہیں خرید سکتے تھے ۔وہ اِس شیطانی چرخے کو اپنے گھر میں گھسنا ہی دینا نہیں چاہتے تھے ، لیکن  میرے  چاروں چھوٹے بہن بھائیوں نے وہاں جا کر ٹی وی دیکھنا شروع کردیا ۔
میں چھٹی پر آیا تھا دوستوں سے مل کر رات کے کھانے پر  واپس آیا ۔ تو گھر میں موت کی سی خاموشی تھی ۔ میں حیران کہ ہمارے گھر کو آج کیا ہوا ؟
چھوٹی بہن نے بتایا کہ ، کہ اُس سے بڑا بھائی ، فلاں دوست کےگھر دوستوں کے ساتھ مل کر وڈیو دیکھ رہا تھا ۔ ایک واقف کار اُسے وہاں سے پکڑ کر لایا اور ابّا کے حوالے کیا ۔ ابّانے خوب پٹائی کی ہے ۔ میرے ماموں نے ، ماموں زاد کو  باتھ روم کے اوپر بنی ہوئی مچان میں چھپ کر وی سی آر پر فلمیں دیکھنے پر اُسے  گود میں اُٹھا کر پہلی منزل سے وی سی آر اور ٹی وی سمیت نیچے سڑک پر پھینک دیا تھا ۔
دوسرے دن ابّاسے بات کی ، انہوں نے کہا کہ میں نے ، تمھارے سسرال میں جاکر ٹی وی دیکھنے کی اجازت دی ہے (کیوں کہ وہاں میرے سسر اور ساری خاتون ہیں) لیکن اِس نے باہر جاکر کیوں دیکھا ؟
خیر میرے سمجھانے پر  ابّا  راضی ہوگئے میں نے واپس جاکر ، رنگین ٹی وی ، باڑے (پشاور) سے خرید کر گھر بھجوادیا ۔  ماموں نے بھی میرے سمجھانے پر ٹی وی خرید لیا ۔ جس پر خبریں اور ڈرامے خود لگایا کرتے ، اُس کے بعد تالا۔
پھر وی سی آر بھی لایا ، جس پر صرف کارٹون فلمیں دیکھی جاتی تھیں ۔
میرے بچوں نے اپنا بچپن وڈیو گیم کھیل کر ، کارٹون فلمیں دیکھ کر گذارا یا فوجی سینما میں ہمارے ساتھ فلمیں دیکھ کر ۔
جب  چم چم ہمارے گھر آتی ہے ، تو میں اور میری بیوی کے لئے ٹی وی  ممنوع  ہوجاتا ہے ۔ جب تک چم چم  سوتی نہیں کارٹون چینل دیکھتی ہے ۔ اور بار بار دیکھے جانے والے کارٹون دیکھ کر زور زور سے ہنستی ہے ۔
 چاقو بُرا نہیں ہوتا اُس کا  غلط استعمال بُرا ہوتا ہے ۔

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔