میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

بدھ، 10 ستمبر، 2014

ہمیں خبر ہے لٹیروں کے ہر ٹھکانے کی​


مرا نصیب ہوئیں تلخیاں زمانے کی
کسی نے خوب سزا دی ہے مسکرانے کی
مرے خدا مجھے طارق کا حوصلہ ہو عطا
ضرورت آن پڑی کشتیاں جلانے کی
میں دیکھتا ہوں ہر اک سمت پنچھیوں کا ہجوم
الٰہی خیر ہو صیاد کے گھرانے کی
قدم قدم پہ صلیبوں کے جال پھیلا دو
کہ سرکشی کو تو عادت ہے سر اُٹھانے کی
شریکِ جرم نہ ہوتے تو مخبری کرتے
ہمیں خبر ہے لٹیروں کے ہر ٹھکانے کی
ہزار ہاتھ گریباں تک آ گئے ازہر​ؔ
ابھی تو بات چلی بھی نہ تھی زمانے کی
( ازہر  درانی)


2 تبصرے:

  1. بهائي ان اشعار كو ديكهكر خوف طاري هؤا هي ،، كيا حالات اتني سنكين هوئي جارهي هين هزار هاته كًريبان تك اكًئي ازهر
    ابهي تو بات جلي بهي نه تهي زمانه كي

    جواب دیںحذف کریں
  2. بهت دن سي ابكي طرف سي كوئي حالات بر تبصره نهين هؤا ، يه خاموشي كسي طوفان كا بيش خيمه محسوس هو رهي هي باكًل خان كو عقل نهين ارهي ملك باني سي دوب رها هي !! قادري خان كو دهرنون كي سوجهي هوئي مجه خان كي حماقتون كا اندازه تو تها مكًر قادري كا قيام اور افواج باكستان تجاهل عارفانه سي كيون كام ليا جارها هي

    جواب دیںحذف کریں

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔