میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

بدھ، 3 ستمبر، 2014

جیتوں تو تجھے پاؤں ، ہاروں تو پیا تیری

اس شرط پہ کھیلوں گی پیا پیار کی بازی
جیتوں تو تجھے پاؤں ، ہاروں تو پیا تیری
ہر لحظہ خیال تیرا رکھوں گی صرف اتنا
بیٹھ جاؤں تو بھی تیری اٹھ جاؤں تو بھی تیری
کچھ کر لوں گی حال اپنا ایسا میں ہمسفر
آنکھ لگے تو بھی تیری آنکھ کھلے تو بھی تیری

تیری ہر آہٹ پہ پالوں گی تعبیر ایسی
ہنس جاؤں تو بھی تیری روٹھ جاؤں تو بھی تیری

میں ساتھ تیرا کچھ ایسے دوں گی جانء جہاں
زنرہ ہوں تو بھی تیری مر جاؤں تو بھی تیری

(پروین شاکر)

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔