میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

ہفتہ، 6 ستمبر، 2014

داستانِ پنکچر

پاکستان کے اب تک جتنے الیکشن ہوئے ہیں ۔جس ایم این اے اور ایم پی اے ،سے ممکن ہوا اُس نے پنکچر لگائے ۔ پنکچر لگانے کی داستان  نئی نہیں بہت پرانی ہے ، ہر ہارنے والا شور مچاتا کہ الیکشن میں جیتنے والے نے ، الیکشن کمیشن  کے پولنگ بوتھ کے ذمہ دار افراد  کے ساتھ یا ڈسٹرکٹ  منیجمنٹ گروپ کے ساتھ مل کر   دھاندلی کروائی ہے ۔"دھاندلی" کا موجودہ الیکشن 2013 میں جدید نام" پنکچر" سے  نوجوانوں نے تبدیل کردیا ۔

اپنی فوجی سروس کے دوران میں نے ، 1984 کا ریفرنڈم ، 1985 کا الیکشن ، 1988 کا الیکشن، اِن میں سکیورٹی کی ڈیوٹی کپتان اور میجر کی حیثیت سے انجام دیں
1989 میں میری پوسٹنگ حیدر آباد ہوگئی ، جس سے چالیس میل دور میرا آبائی شہر میرپورخاص تھا ۔ یہاں آیا تو معلوم ہوا کہ ہماری یونٹ کی ذمہ داری میں میرپورخاص اور ٹنڈو محمد جام آتا ہے اور ایک بیٹری ہماری چھور میں ہوتی ہے ۔ مہینے بعد میں اپنی بیٹری لے کر چھور چلا گیا ۔ فیملی میرپورخاص رہتی تھی 15 دن بعد ویک اینڈ پر آجاتا ۔
چھ ماہ پورے ہونے کے بعد میری بیٹری واپس حیدر آباد آگئی ۔ چاندنی سینما کے سامنے کنٹونمنٹ بورڈ کے تین کمروں کے   فلیٹس میں عارضی رہائش ملی ۔ یہاں سے پانچ منٹ کے پیدل راستے پر  یونٹ تھی ۔ سامنے سینما کے  پیچھے بس سٹینڈ تھا ،  تین ماہ بعد  قاسم چوک کے پاس گھر الاٹ ہوا ، تو والد نے ویٹو کر دیا ۔ کیوں کہ سارے خاندان والوں کو اِس فلیٹ میں آنے کی آسانی تھی ۔ کیوں کہ کراچی ، میرپورخاص اور نوابشاہ  کے درمیان چلنے والی بسیں  سامنے اڈے پر آتیں ۔ رشتہ دار  ، بریک میرے گھر کرتے  کھانا وغیرہ کھا کر اگلے سفر پر روانہ ہوجاتے ۔
حیدر آباد ، ٹنڈو الہ یار میں  ، انٹرنل سکیورٹی ڈیوٹیاں دیں ۔ پکا قلعہ آپریشن  بھی اُن دنوں ہوا ۔ لیکن اُس میں فوج کا کوئی رول نہیں تھا ۔ پھر  بے نظیر کی حکومت ختم کردی گئی اور  الیکشن کا شیڈول اعلان کردیا ۔ ہم سب نے کمانڈنگ آفیسر کے ساتھ میرپورخاص ، ٹنڈو الہ یار اور ٹنڈو محمد خان کا چکر لگایا ۔


کمانڈنگ آفیسر کی خواہش تھی کہ  میں اُن کے ساتھ میرپورخاص میں ڈیوٹی دوں کیوں کہ میں سیکنڈ اِن کمانڈ تھا ، جبکہ میں ، ٹنڈو محمدخان میں دلچسپی رکھتا تھا ۔  اُنہوں نے زیادہ کریدا تو بتایا کہ چند دوستوں کے علاوہ کسی کو نہیں معلوم کہ میں فوج میں ہوں  اور اگر خدانخواستہ کوئی سختی کرنا پڑگئی تو میرا میرپورخاص میں رہنا مشکل ہوجائے گا ۔  یہ بات اُن کی سمجھ میں آگئی لیکن مجھے  ٹنڈو الہ یار میں تعینات کر دیا ۔   ہماری الیکشن کی ذمہ داریوں کو بخیر و خوبی انجام دینے کے لئے  میرپورخاص میں
ڈپٹی کمشنر   اور الیکشن کمیشن کے افسران کے ساتھ  میٹنگ ہوئی ۔ وہاں معلوم ہوا کہ  تمام سیاسی جماعتوں نے کافی تعداد میں جعلی ووٹ بنائے ہوئے ہیں ۔ اور جو لوگ ووٹ ڈالنے نہیں آتے اُن کے ووٹ بھی ڈال دئے جاتے ہیں ۔  جن میں اور میری بیوی بھی شامل تھی ، ہم نے  2008 کے الیکشن میں پہلی بار ، اسلام آباد میں خود ووٹ ڈالے ۔
میٹنگ کے بعد ، میں نے ڈپٹی کمشنر سے درخواست کی کہ وہ ہمیں  پورے ضلع کا شناختی کارڈ رکھنے والوں کا ریکارڈ دے دیں ، ٹنڈو الہ یار اور ٹندو جام کا ریکارڈ ہم نے  حیدر آباد سے لیا تھا ۔
24 اکتوبر 1990کو صوبائی اسمبلیوں اور 27 اکتوبر 1990کو قومی اسمبلیوں کے انتخاب تھے ، میں نے ٹنڈو الہ یار میں 20 اکتوبر کو الیکشن میں حصہ لینے والے  تمام امیدواروں سے میٹنگ رکھی ۔ میٹنگ میں بس ایک پوائنٹ پر شور تھا ۔
٭- شہر والوں کا شکوہ تھا کہ دیہات والوں نے تین سو گنا جعلی شناختی کارڈ بنا رکھے ہیں ،

٭ - دیہات والے کہتے نہیں ہم پارسا ہیں شہر والوں نے جعلی شناختی کارڈ بنا رکھے ہیں اُن کو استعمال سے روکا جائے ۔
اصل میچ  پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کے درمیان تھا ۔ جس میں یقینی تھا کہ شہر سے ایم کیو ایم اور دیہات سے پیپلز پارٹی صوبائی انتخاب جیتے گی  اور قومی اسمبلی کی نشت   سے آئی جے آئی کے جیتنے کا امکان تھا ۔
دیہات سے صوبائی اسمبلی کا امیدوار ، امید علی شاہ (پیپلز پارٹی) تھا جو میرے دوست کا تایا زاد بھائی تھا ، جس کی حمایت کے لئے وہ میرے ٹنڈو الہ یار آنے کے دوسرے دن امید علی شاہ کے ساتھ مجھ سے ملنے پہنچ  گیا ۔ یہ خبر دوسرے دوست سلیم آزاد نے لیک کی ، کہ اُس نے  غلام رسول شاہ  کو بتایا تھا ۔  اُن کی بسکٹ اور چائے سے تواضع کی تھی ۔
   تیسرے دن گیٹ کی چوکی سے فیلڈ ٹیلیفون ، پر  اطلاع آئی کہ آپ کے بھائی ملنے آئے ہیں ۔ میں حیران !خیر  فیلڈ ٹیلیفون پر کہا کہ  بھجوادو ، تھوڑی دیر بعد ایک گول مٹول جسم کمرے میں داخل ہوا ، یہ آغا طارق تھا ۔ نعرہ مار کر پسلیاں توڑ معانقہ کیا ساتھ دو اور افراد تھے ۔ چائے کے دوران ایک لسٹ دی اور حکم دیا :
"اِن  سوزوکیوں  کو چھوڑ دو  "
یہ بیس سوزوکیوں کی لسٹ تھی جو الیکشن ڈیوٹی کے لئے ،  ڈی سی آفس کی طرف سے آئیں تھیں،   سب میرپورخاص میں تھیں ۔ اب مجھے سمجھ میں نہ آئے کہ کمانڈنگ آفیسر سے کیسے کہوں ۔
بہرحال مدد تو کرنا تھی ،پوچھا کہ اِن میں سب سے اہم سوزکیاں کون سی ہیں ؟ 
تین سوزوکیاں سکول بچوں کی تھیں ، اُنہیں چھوڑنے کا وعدہ کیا ، اور کہا کہ جو سوزوکیاں چھڑانی ہوں ، اُن کی جگہ سوزوکی دے دینا ۔ وہ وعدہ کرکے چلا گیا ، ساتھ اُس کو سختی سے منع کیا کہ کسی اور کو نہ بتانا کہ میں یہاں ہوں ۔

اکتوبر 20 کو میں نے تمام امیدواروں ، صوبائی انتظامیہ کو چائے پر بلوایا ، جس میں نے تمام امیدواروں کو بتایا :
٭ -  ہمارا پولنگ بوتھ کے  احاطے کے اندر داخلہ منع ہے -
٭- ہماری ڈیوٹی کسی جھگڑے پر فریقین کو الگ رکھنا ہے ۔
٭ - جعلی یا اصلی ووٹ  کی شناخت  الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے ہماری نہیں ۔
٭- جس کے انگوٹھے پر سیاہی کا نشان نہیں ہوگا صرف وہ پولنگ سٹیشن کے اندر جاسکتا ہے ۔
٭- ہمارے پاس پورا ریکارڈ ہے کہ اندازاً کتنے جعلی شناختی کارڈ بنے ہیں  ۔
٭- میری بس یہ خواہش ہے کہ کسی قسم کا دنگا فساد نہیں ہونا چاہئیے ۔
٭- اگر جعلی پولنگ کو بنیاد بنا کر گوٹھ والوں نے  شہر میں  شور مچایا ، یا شہر والوں نے   گوٹھ والوں کے متعلق شور مچایا تو میں ، جس جگہ شور مچایا ہے اُس پولنگ  سٹیشن کو اور شور مچانے والوں کے چار  پولنگ سٹیشن کو بند کروادوں گا ۔ 
صوبائی الیکشن میں زیادہ شور نہ ہوا ، کیوں کہ سب کو معلوم تھا کہ کون جیتے گا ۔ لیکن قومی اسمبلی  کے انتخاب میں مجھے ، شہر کا ایک اور دو گوٹھوں کے الیکشن تین گھنٹوں کے لئے  بند کروانے پڑے  ۔ بڑے پرسکون انداز میں الیکشن 1990 ٹنڈو الہ یار میں انجام پائے ، ٹنڈو آدم میں کافی جھگڑے ہوئے ۔ لیکن میرپورخاص میں بھی کوئی مسئلہ نہ ہوا ۔ یار لوگوں نے جتنے شناختی کارڈ بنوائے وہ سارے ووٹ بُھگتائے ، یہاں تک کہ آخری گھنٹوں میں لُٹ مچ گئی ۔ یار لوگوں نے بڑے بڑے پنکچر لگائے ۔

لیکن جو قانون کے مطابق ہمیں ڈیوٹی دی تھی ، کہ ہر صورت میں امن و امان قائم کرنا ہے ۔ وہ ہم نے پوری ایمانداری سے نمٹائی ،
"کھسیانی بلی کھمبا نوچے" والی مثال  کے مصادق ، کچھ ہارنے والوں نے خاص طور پر میرا نام لے کر  شور مچایا کہ فوج نے جیتنے والوں کی مدد کی ۔  جبکہ جیتنے والوں کی فوج نے نہیں ، الیکشن کمیشن کی طرف سے تعینات کئے گئے ،  سکول اور دیگر صوبائی اداروں کے سرکاری ملازموں نے  ، جیتنے والوں کی مدد کی ۔
یہ ایسا سچ ہے کہ جس سے کوئی انکار نہیں کرسکتا ، کیوں کہ یہ صوبائی ملازمین ، سیاست دانوں نے ملازم کروائے ، پھر زبان اور  زبان اور برادری    ( سندھی ، پنجابی ، اردو سپیکنگ ، قائم خانی  )نے بھی  اثر ڈالا ۔
انتخابات  2013 میں ۔ "پنکچر "لگانے کا نعرہ ،  عمران خان کے جنونیوں نےمشہور صحافی  و نگران وزیر اعلیٰ ، نجم سیٹھی سے  موسوم کیا ۔ جبکہ  ہر ایم این اے اور ایم پی اے ،سے جس سے  ممکن ہوا اُس نے پنکچر لگائے ۔
٭-  سب سے پہلے اُس نے گریجوئیٹ ہونے کا "پنکچر "ر لگایا ۔
٭- اُس کے بعد اُس نے قائداعظم کا"پنکچر " لگایا ۔
٭-اُس کے بعد اُس نے جعلی ووٹوں کا "پنکچر "   لگوایا  ۔
٭- "پنکچر "لگوانے میں  بلا واسطہ (Direct  )مدد ، خیبر پختون خواہ میں دیکھی گئی جہاں ،  طالبانوں نے تو ، پکا   "پنکچر " لگانے کا ایسا انتظام کیا ، کہ عوامی نیشنل پارٹی کے امیدواروں کو اگلے جہاں میں الیکشن لڑنے کے لئے روانہ کر دیا ،  چنانچہ  جیتنے والی پارٹی  کے "پنکچر "  کا  خرچہ بچ گیا ۔
الیکشن 2013 صوبے میں زندہ باد ، ملک میں مردہ باد۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔