میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

ہفتہ، 6 ستمبر، 2014

مباہلہ اور مساجد


قدرت نے جو مواقع عمران خان اور الطاف حسین کو دیئےاگر نوجوانوں کی اتنی تعداد اگر سراج الحق۔اور منور حسن کو مل جائیں تو پاکستان میں حقیقی معنوں کے اندر سیاست سمیت زندگی کے ہر شعبے میں ایک پرامن، اصلاحی، اخلاقی، تعمیری انقلاب آجائے۔ عمران اور الطاف نے نوجوانوں کی صلاحیتوں اورجزبات سے فائدہ نہیں اٹھایا انکو کوئ تعمیری رخ دینے کے بجائے تخریبی رخ دے دیا۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے ان کے دونوں کی اوپر کی منزل خالی ہے ۔ ان میں زمین کی سطح سے اٹھ کر سوچنے والا کوئ اعلیٰ نظریہ نہیں ۔ دور تک دیکھنے والاکوئ وژن نہیں۔ اخلاق کی بلندی نہیں ۔ کردار کی دھمک نہیں۔۔ کیرکیٹر کی طاقت نہیں۔ تو ظاہر بات ہے جیسے لیڈر ویسے ہی اسکے فالورز۔۔

 فیس بک کے ایک دردمند دوست  جناب شمس خان (جماعت اسلامی -لندن) نے یہ کمنٹس اپنی پوسٹ پر لکھے ہیں ۔
جن سے میں  لفظ " 
سیاست "  کے آنے  کی وجہ سے ،میں اِس پورے     جملے سے متفق نہیں ہوں ، ہاں اگر سیاست " کا لفظ حذف کر دیا جائے تو  پھر اتفاق کیا جا سکتا ہے ۔
  میرا پاکستان ملٹری اکیڈمی سے دوست ، مرزا سعید مجھ سے متفق نہ ہو ۔ مجھے نہیں معلوم کہ مرزا سعید کب" جمیعت طلبا "یا "جماعت اسلامی" کے متفقین (متاثرین ) میں شامل ہوا ۔  لیکن مرزا  ہے شریف آدمی اور شریف آدمی کا گمراہ ہوجانا ۔ ناممکن تو نہیں  ہاں اگر عقل رکھے تو مشکل ضرور ہوتا  ہے ۔
مرزا کے نزدیک تو میں مکمل گمراہوں میں شامل ہو چکا ہوں ۔ بلکہ اِس حد تک کہ اب راہ راست پر واپس آنا ممکن نہیں ۔ حالانکہ  ہم دونوں 
بشمول شمس صاحب"الکتاب " کی تلاوت  کرتے ہیں ۔


وَقَالَتِ الْيَهُودُ لَيْسَتِ النَّصَارَ‌ىٰ عَلَىٰ شَيْءٍ وَقَالَتِ النَّصَارَ‌ىٰ لَيْسَتِ الْيَهُودُ عَلَىٰ شَيْءٍ وَهُمْ يَتْلُونَ الْكِتَابَ كَذَٰلِكَ قَالَ الَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ مِثْلَ قَوْلِهِمْ فَاللَّـهُ يَحْكُمُ بَيْنَهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فِيمَا كَانُوا فِيهِ يَخْتَلِفُونَ - ( البقرۃ-113)

اور  یہود  (اب بھی ) بولتے ہیں ، " کہ نصاریٰ کسی شئے پر نہیں ہیں (چنانچہ وہ  بے دلیل  باتیں کرتے ہیں )  
اور  نصاریٰ   (جواباً ) بولتے ہیں ، " کہ یہودکسی شئے پر نہیں ہیں  ( لہذا  غیر منطقی باتیں کرتے ہیں )
اور وہ دونوں  ( یہود و نصاریٰ)  الکتاب کی تلاوت کرتے ہیں  ۔ اِسی طرح  وہ لوگ جنہیں علم نہیں  انہی    ( یہود و نصاریٰ)  کی مثال کی طرح بولا ، (لہذا) اللہ یوم القیامہ  ( ایسا سب بولنے والوں اور الکتاب کی تلاوت بھی کرنے والوں ) کے درمیان  فیصلہ کر دے گا کہ ( الکتاب کے ہوتے ہوئے )  وہ کس بات کا اختلاف کرتے رہتے ہیں ۔ 

  ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭



 
مارچ   2001میں ، جمیت کے  چند جذباتی توجوانوں سے گاڑی پار کرنے کے مسئلے پر تلخ کلامی ہوئی ، خیر معاملہ رفع دفع ہو گیا ویسے بھی اُن کا تعلق جمیعت سے تھا ۔
باتوں باتوں میں، میں نے اُنھیں بتایا کہ 1968 میں، میں جمیعت کا ممبر بنا لیکن مہینے بعد ، جمیعت چھوڑ دی ۔ ایک 35 سالہ نوجوان  (جو وجہ نزع تھا)نے پوچھا ، "کیوں ؟"

میں نے جواب دیا کہ " اُن کے قول و فعل میں تضاد ہوتا ہے" "

کوئی مہینے بعد میں دوپہر کو گاڑی کھڑی کر کے گھر آیا تو   وہی نوجوان میری گاڑی کے پیچھے گاڑی کھڑا کر کے چلا گیا ۔ میں  آفس جانے کے لئے آیا گاڑی  کھڑی دیکھی ۔ غصہ آیا واپس فلیٹ میں گیا ۔چھوٹے بیٹے کو کہا ،
گاڑی والے  کو ڈھونڈھ  کر گاڑی ہٹوائے"
"

بیٹا واپس آیا ، بولا ، "گاڑی والا  کہتا ہے ، کہ نہیں ہٹائے گا جو کچھ کرنا ہے کر لو"۔
میں  فلیٹ سے اتر کر  باہر نکلا  ، بیٹے نے اشارہ کر کر بتایا کہ وہ ہے ، یہ وہی نوجوان تھا کہ جس  نے پہلے بھی تلخ کلامی ہوئی تھی ۔

خیر جھگڑا ہوا معاملہ تھانے تک پہنچا ، اُس نے جو درخواست مصالحتی کمیٹی میں دی ،
 

اُس نے درخواست میں نہ صرف میرا نام ، میرے دونوں بچوں کا نام ، بلکہ ملازم کا نام  بشمول ، آلات مضروبہ " ڈنڈے اور پانا "بھی لکھوایا ۔


مغرب سے پہلے ،بیٹا اور میں  تھانے گئے ، اُس لڑکے کا والد ، وہ اور چار جمیعت کے لڑکے ساتھ تھے ، سب کی آنکھوں میں خون بھرا ہوا تھا ، میں نے حقیقی واقعہ مصالحتی کمیٹی اور  تھانے دار کے گوش گذار کیا ، کہ موصوف کو صرف میں نے مارا ہے ۔ اور ان تینوں افراد میں سے کسی نے میری مدد نہیں کی ، ہاں البتہ دو افراد یعنی ، چھوٹا بیٹا اور ملازم نے چھڑایا ضرور ہے ۔ بڑا بیٹا اِس وقت بھی اپنے کالج میں ہے ۔

مخالف پارٹی   اپنے بیان پر مُصر تھی  ۔ اتنے میں مغرب کی آذان ہوئی ، تھانے دار ، مصالحتی کمیٹی کے ممبر سمیت ہم سب مسلمان نماز پڑھنے ، آئی نائن تھانے کی دیوار سے ملحق مسجد میں اقام الصلوٰۃ کے لئے گئے ، فرض نماز کے بعد ، میرے ذھن میں یک دم ایک خیال آیا ، میں کھڑا ہوا اور امام مسجد کو مخاظب کر کے کہا ،

"امام صاحب اور تمام نمازیوں سے درخواست ہے کہ ایک مباہلہ کرنا ہے سب افراد بیٹھے رہیں"
اِس سے پہلے کہ امام صاحب کچھ کہتے ، میں نے  مباہلہ کی آیت پڑھی ۔


 فَمَنْ حَاجَّكَ فِيهِ مِن بَعْدِ مَا جَاءَكَ مِنَ الْعِلْمِ فَقُلْ تَعَالَوْا نَدْعُ أَبْنَاءَنَا وَأَبْنَاءَكُمْ وَنِسَاءَنَا وَنِسَاءَكُمْ وَأَنفُسَنَا وَأَنفُسَكُمْ ثُمَّ نَبْتَهِلْ فَنَجْعَل لَّعْنَتَ اللَّـهِ عَلَى الْكَاذِبِينَ ﴿آل عمران: 61﴾

پس  جب وہ تجھ سے  العلم(الکتاب) آنے کے بعد حاج  ( حجت )   کریں  ، پس انہیں کہہ ! آؤ ہم اپنے ابناء اور نساء کو بلاتے ہیں اور تم اپنے ابناء اور نساء کو بلاؤ  اور ہم اپنے نفسوں کو  اور تم اپنے نفسوں کو  ، پھر ہمبْتَهِلْ  ( مباہلہ ) کرتے ہیں ،   پس(پھر ) ہم  جھوٹوں پر اللہ کی لعنت قرار دیتے ہیں "

میں نے  تمام واقعہ  بیان کیا ، اور اُس نوجوان سے کہا ،

 "میرا بیٹا اور تمھارے والد مسجد میں موجود ہیں ، اگر تم اللہ کو گواہ بنا کر کہو کہ تمھیں ہم چاروں نے مارا ہے ، اگر تم سچے ہوئے ، تو اِس کا گناہ میرے سارے خاندان ، بیویوں دو بیٹیوں اور دو بیٹوں پر ہوگا، اور اگر تم جھوٹے ہوئے تو تم اللہ کے نزدیک مجرم ٹہرو گے ، اور تم اور تمھارے سارے خاندان پر اِس کا گناہ ہو گا" 

اُس نوجوان نے پورے یقین سے کہا ،
" میں قسم کھاتا ہوں ، کہ چاروں نے مجھے مارا ہے"
 


میں نے سامنے شیلف پر پڑا ہوا غلاف میں لپٹا قرآن اُٹھایا اور کہا ،
" ٹھیک ہے اِس پر ہاتھ کر کر قسم کھاؤ "۔


وہ ایسے  بُدکا جیسے اُسے کرنٹ لگ گیا ہو ،
" میں قرآن پر ہاتھ نہیں رکھوں گا"
 


یہ سننا تھا کہ اُس باپ نے اُسے گھونسہ مارا اور بُرا بھلا کہا ۔اُس نوجوان کے والد  نے  مجھ سے معافی مانگی ۔ اور اُس نوجوان کو میرا بھتیجا قرار دیتے ہوئے ، اُس کی بدتمیزی پر مجھے آئیندہ بھی اُس کی بدتمیزی پر مجھے اُس کی گوشمالی کا حق دیا ۔ خیر مسجد ہی میں معاملہ رفع دفع ہو گیا ۔


اُس دن مجھ پر ایک حقیقت روشن ہوئی ، کہ مسلمانوں کے لئے مسجد ایک نہایت اہم ادارہ ہے ۔

یہ اور بات کے ، مصالحتی کمیٹی کے اہم ممبر اے یو خان(سابقہ چئیر مین  اور ایڈیشنل سیکریٹری) نے مجھے ، اُس کمیٹی کا ممبر بنا لیا ۔ اور میں نے اللہ کی اُسی آیت کو بنیاد بنا کر اُسی مسجد میں ، انا و بغض کے کئے ، جھگڑے نمٹائے ۔
'پھر جب ، "مصالحتی کمیٹی" ، "مصلحتی کمیٹی"  ہو گئی ۔کیوں کہ اُس میں ریٹائرڈ  سرکاری ملازمین  کے علاوہ ، پراپرٹی ڈیلر شامل  تو ہم دو ممبر اُس سے الگ ہوگئے ۔

نوٹ : یاد رہے کہ یہ مصالحتی کمیٹیاں اسلام آباد میں ،ایس ایس پی ۔ ناصر خان درانی  (موجودہ آئی جی-   خیبر پختون خواہ )نے بنوائی تھیں ۔ اور آپس کے جھگڑے نپٹانے میں اِن کمیٹیوں نے بہت کام کئے اور عوام کو پولیس اور عدالتوں کے چکروں سے بچایا ۔
ریسکیو 15 بھ
ی ناصر خان درانی کا ایک شاندا رقدم تھا ۔جس نے اسلام آباد کے عوام کی بہترین مدد کی اور اب بھی کررہا ہے ۔
جس   پر بطور پروڈیوسر 2000 میں  بنایا ہوا ،میرا ایک ڈرامہ  " ریسکیو-15" 
جس کی چار اقساط ۔ پاکستان ٹی وی ، کے بلیک میلروں کے باعث   اب بھی میرے  ڈبوں میں بند ہے ۔

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔