میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

پیر، 8 ستمبر، 2014

الیکشن کمیشن زندہ باد

ڈیرہ اسماعیل خان کی صوبائی سیٹ پر ضمنی انتخاب میں احتشام جاوید کی کامیابی پر پی ٹی آئی  کی خوشی یقیناً قابلِ دید ہے ۔ پی ٹی آئی کی قیادت نے دل سے تو تسلیم کر لیا ہے کہ ، خرابی الیکشن کمیشن آف پاکستان میں نہیں پی ٹی آئی کی قیادت میں ہے ، جس نے ایسے ایسے چلے ہوئے کارتوسوں کو تیار کیا اور انہیں  ایسی بندوق سے چلایا ، کہ جسے مختلف کمپنیوں کے پرزے لگا کر تیار کیا گیا ہو لیکن تھوڑے نمک برابر سچ کو آٹے میں ملا کر  برف کی آگ پر نان بنانے والوں نے ،  اتنا پرپیگنڈا کیاکہ عمران  خان نیازی نے خود کو مستقبل کا وزیر اعظم سمجھنا شروع کردیا ،  ہر اُس امیر خاندان کا بچہ جسے انٹر نیٹ پر رسائی حاصل تھی اُس نے کم از کم دس سے زیادہ فیس بک پر اکاونٹ بنائے ، یوں فیس بک پر ایسی ٹڈیوں کی بہتات ہو گئی جسے اپنے موت آپ مر جانا تھا
پاکستان میں سیاست  میں گھوڑے پالے جاتے ہیں اور اُن کو تیار کیا جاتا ہے ، لیکن اگر گھوڑا مطلوبہ میعار کا نہ نکلے تو   گھوڑا خرید لیا جاتا ہے ۔  یہ خرید و فرخت بڑی دلچسپ ہوتی ہے ۔ بس یوں سمجھو ،  Beg, Borrow or Steal  کے قانون سے ملتا جلتا قانون چلتا ہے ۔
پنجاب کے حلقہ پی پی - 162  شیخو پورہ میں کیوں کہ جیتنے کا امکان کم تھا لہذا وہاں الیکشن کمیشن آف پاکستان  پی ٹی آئی کے امیدوار زبیر رسول سیہول   کے لئے قابلِ اعتبار نہ تھا لیکن یہی کمیشن پی کے 68 ڈیرہ اسماعیل خان کے لئے قابلِ اعتبار ٹہرا کیوں ؟
جاوید اکبرخان
، پی کے 68 ڈیرہ اسماعیل خان-V،  پچھلے چار الیکشن میں اسی سیٹ سے جیتے یہ احتشام  خان کے والدہیں ۔ جن میں دو دفعہ  جاوید اکبر خان نے مسلم لیگ سے ٹکٹ لیا اور دو بار آزاد امیدوار کے طور پر  ، جمیعت علمائے اسلام (ف) کی مدد سے جیتے ۔یہ اِن کی خاندانی سیٹ ہے  اور خاندانی سیاست کس پارٹی میں نہیں ۔
جاوید اکبر خان ، بدقسمتی سے گریجوئیٹ نہیں ہیں ۔ لہذا وہ 2002 میں عالم فاضل کے طور پر ایمان تقویٰ اور جھاد فی سبیل اللہ کے کانٹوں سے لیس ہو کر مدرسے کی سند گریجوشن کی ڈھال لے کر کارزارِ سیاست میں کودے ، لیکن ناکام ہوئے ۔ کیوں  ؟ شاید
پی کے 68 ڈیرہ اسماعیل خان والے جاوید اکبر کے قول و فعل کے تضاد کو پہچان گئے ۔ اور یہ کامیاب نہ ہوسکے ۔
2008 میں گریجوئیٹ ، احتشام  جاوید اکبر خان نے والد کی کھوئی ہوئی سیٹ پر دوبارہ قسمت آزمائی کرنے کی کوشش کی  ، لیکن کامیابی نہیں ہوئی ،
احتشام  جاوید اکبر خان نے 28,281  ووٹ لئے اور مخدوم زادہ سید مرید کاظم شاہ (جے یو آئی)نے 28،484 ووٹ لئے  ، یوں  احتشام اکبر خان  آبائی سیٹ سے 203 ووٹ سے ہار گیا ۔ یہاں رجسٹر ووٹر  57،968 تھے  - سیاست دانوں  کارناموں سے غصے ہونے کی وجہ سے   1،025ووٹروں نے ووٹوں کو خود خراب کیا اور یا  تعلیم نہ ہونے کے سبب  ووٹ خراب پائے گئے ۔باقی  خاندانی ووٹ    عنصر خان علیزئی (93 ووٹ) ، انور لطیف خان(256 ووٹ)، جنید طارق قریشی (389 ووٹ) ، فقیر زادہ اقبال واجد(176 ووٹ)  ، مخدوم زادہ سید آفتاب حیدر شاہ (325 ووٹ) ، میں تقسیم ہوئے ۔ مئی 2013کے الیکشن میں چونکہ گریجویشن کی شرط نہیں تھی اسلئے احتشام کے والد جاوید اکبر ایک بار پھر آزاد امیدوار کے طور پر میدان میں آئے اور جے یو آئی کے تعاون سے اپنی سابقہ سیٹ جیت لی، جاوید اکبر خان نے 41،112 اور کاظم شاہ نے 31،001 ووٹ حاصل کئے- اور پی ٹی آئی کے نامزد امیدوار ر محمدھمایوں خان  1،605 ووٹ حاصل کئے ۔  اس سے اندازہ لگالیں کہ پی ٹی آئی کو اس حلقے میں کتنی عوامی حمایت حاصل  تھی۔ لیکن بات عوام کی نہیں ، امیدوار خریدنے کی کی ہوتی ہے ۔      جاوید اکبر خان ،کے حریف امیدوار مرید کاظم شاہ نے  ، ان کیخلاف جعلی ڈگری کیس دائر کرایا  ہوا تھا ،وہ ان کے خلاف دوبارہ عدالت میں گئے اورطویل جدوجہد کے بعد بالآخر جاوید اکبر خان کو نااھل قرار ددے دیا گیا ،لیکن اب ایک بار پھرجاوید اکبرخان کے بیٹے احتشا م جاوید ان کے حریف امیدوار کے طور پر سامنے آئے۔
جاوید اکبر خان کیا سب امیدواروں کی یہ سوچ ہوتی ہے  کہ اپوزیشن میں محض ایم پی اےبن کر  اپنے حلقے میں ترقیاتی کاموں یا عوامی بہبود کے حواے سے کوئی کارنامہ انجام نہیں دیا جا  سکتا اس لئے ضمنی الیکشن آزاد امیدوار کے طور پر لڑنے کی بجائے انہوں نے اپنے بیٹے کیلئے پی ٹی آئی سے ٹکٹ کا مطالبہ کی-
ایک بندے کو سو روپے ملے وہ ایک ہوٹل میں گیا اور تین سوروپے کا بہترین کھانا کھایا ،بل نہ دے سکنے کے باعث ہوٹل والوں نے اُسے پولیس کے حوالے کردیا ، ھوٹل سے باہر نکلنے کے بعد تھانے کے راستے میں اُس نے سنتری بادشاہ کو منا لیا اور 100 روپے دے کر جان چھڑا  لی ۔ذھانت زندہ باد
پی ٹی آئی کو  ٹانگے کے گھوڑے کے مقابلے میں ریس کا بہترین  گھوڑا مل رہا تھا۔ جس کو صرف تھوڑا  سا  چارہ ڈالنے کی ضروت تھی جس کئے بعد ممکن نہیں کہ وہ ریس ہار جائے ۔ اور وہ چارہ 
محمدھمایوں خان کے   1،605 ووٹ اور کچھ بارشوں کے موسم میں نکلی ہوئی نئی کونپلیں ۔
اگر جاوید اکبر خان ، اپنی انویسٹمنٹ سے مطمئن ہوئے ، تو یہ ساتھ آگے چلے گا ورنہ کئی اور "باغیوں" سے پی ٹی آئی کو سامنا کرنا پڑے گا ۔ اور اگلے انتخاب میں  احتشام جاوید اکبر خان  آزاد امیدوار ہوگا ۔  
 وو

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔