میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

منگل، 28 اکتوبر، 2014

ایڈز سے ایبولا تک



1986 سے پہلے ایڈز نے دنیا میں اک خطرے کی لہر دوڑا دی -  جو نزلہ ،   گلے کی خرابی، بخار ، پیٹ کا درد ،  جسم پر سرخ نشانات ، گلے اور شرمگاہ میں  خارش، عضلات میں درد  اوروزن میں کمی - 
A diagram of a human torso labelled with the most common symptoms of an acute HIV infection
اب دنیا  ایبولا وا ئریس  کے شور سے جاگ اٹھی ہے جس  وجہ سے مغربی افریقہ میں ایبولاوائریس سے  2600 افراداس کا شکار ہو کرموت کے منہ جا چکے ہیں ۔ جن میں سوڈان ، یو گنڈا ، کانگو ،  گونیا ، لائبیریا ، نائجیریا  اور سیرا لیون شامل ہیں ۔




ایڈز پر تو جلد ہی قابو پا لیا ، لیکن یہ بیماری انسان کے ہاتھوں آنے والی اُن مہلک بیماریوں کی شروعات ہیں جو انسان نے انسانوں کو ہی تباہ  کنے والے جرثوموں کا نتیجہ ہیں جو امریکن لیباٹریوں میں پالے گئے اور اُن کی ھلاکت خیزی کا نتیجہ دیکھنے کے لئے خاموشی سے اِن افریقی علاقوں میں  استعمال کئے گئے ۔ #Ebolavirus developed by US Bio-warfare lab, says US don 

اتوار، 19 اکتوبر، 2014

جادو کے صرف تین جملے!

ایک دفعہ کا ذکر ہے ، کہ ایک چھوٹے سے قصبے سے ایک کنبہ شہر میں آیا ، میاں بیوی کے بارے میں یہ مشہور ہو گیا کہ دونوں آپس میں بے انتہا محبت کرتے ہیں اور میاں بیوی کی عمر جتنی زیادہ ہورہی تھی، باہمی محبت اور خوشی اُتنی ہی بڑھ رہی تھی۔ اردگرد کی عورتوں کا خیال تھا :٭ -  شاید وہ ایک بہت ماہر اور اچھا کھانا پکانے والی ہے؟
٭ -  شاید  اُس کی خوب صورتی اُس کا راز ہے ، جو عمر کے ساتھ برقرار ہے ؟
٭ -  شاید اُس کی اولاد کی وجہ سے شوہر اُس کا گرویدہ ہے ؟
٭ -  شاید یا وہ اعلیٰ نسب کی خاندانی عورت ہے؟
٭ -  شاید وہ کوئی ، ایسا ٹوٹکا یا جادو جانتی ہے ۔ جس سے اُس کا شوہر اُس کے پلو سے بندھا ہے !

بالآخر عورتوں نے ، اُس کی دائمی محبت اور خوشیوں بھری زندگی کا راز جاننے کے لئے پوچھا ۔ کہ ہماری آپ کے بارے میں اِن سوچوں میں سے کون سی سہی ہے ۔ یا ہمیں بھی وہ گُر بتائے کہ ہمارے شوہر بھی ہماری محبت کا دم بھرنے لگیں ۔

تو عورت نے مسکرا کر جواب دیا ،
٭ -  اچھے کھانے یقیناً، ہر شوہر کو قابو میں رکھنے کا گُر ہیں ۔ لیکن کبھی کبھی کھانا پکانے میں اونچ نیچ ہو جاتی ہے،اور بعض دفعہ کھانا بھی وجہ نزع بن جاتا ہے ۔
٭ -   جسمانی خوب صورتی  رفتہ رفتہ عمر کے ساتھ ڈھلتی جاتی ہے ، لیکن اُس کو عمر کے ساتھ برقرار رکھا جا سکتا ہے ۔ لیکن بیماریاں انسان کے تعاقب میں ہوتی ہیں ، معمولی غفلت جسمانی خوبصورت کو گھن کی طرح کھا جاتی ہے ۔
٭ -  اچھی سعادت مند اولاد ،شوہر کا فخر ہوتی ہے ۔ لیکن اولاد کی تمام غلطیاں ماں کے کھاتے میں جاتی ہیں اور اچھائیاں باپ کے ، اور ممکن ہی نہیں کہ بچوں سے غلطیاں سرزد نہ ہوں جو شوہر کی نظر میں نہ آئیں ؟
٭ -   بیوی کے اعلیٰ نسب یا خاندانی وجاہت سے گرویدہ شوہر بالآخر اُکتا جاتا ہے ۔
٭ -   ٹوٹکا یا جادو ایک اہم نکتہ ہے جس سے شوہر کو بیوی اپنے پلو میں باندھ سکتی ہے ۔عورتوں نے جب ٹوٹکے اور جادو کا سُنا تو بضد ہوگئیں کہ ہمیں بھی یہ سکھائیے ۔
" جب ایک لڑکی بیوی بن کر ، شوہر کے گھر جاتی ہے تو وہ ایک خاندان سے دوسرے خاندان کی طرف اپنی مستقبل کی خوشیوں بھری زندگی کی طرف منتقل ہوتی ہے ۔شادی سے پہلے اُس کا شوہر اُس کے لئے ایک محبوب ہوتا ہے اور عورت اُس کے لئے محبوبہ ، شادی کے بعد یہ رشتہ بظاہر ختم ہو جاتا ہے اور میاں بیوی کا رشتہ قائم ہوجاتا ہے ۔ لیکن ایسا نہیں ہے محبوب اور محبوبہ کا رشتہ برقرار رہتا ہے لیکن آہستہ آہستہ بیوی خود اِس تعلق کو پیچھے دھکیلنا شروع کر دیتی ہے ۔"عورتیں توجہ سے بزرگ خاتون کی بات سن رہی تھیں ، وہ سانس لینے کو رکی ، عورتوں نے کہا
" یہ تو ہم جانتے ہیں آپ ہمیں ٹوٹکا بتائیے ۔  کہ شوہر کو کیسے قابو کیا جائے ؟"
بزرگ خاتون مسکرائی اور گویا ہوئی ۔

 " 
خوشیوں بھری زندگی کے اسباب  خود بیوی کے اپنے ہاتھوں میں ہیں۔ اگر بیوی چاہے تو وہ اپنے گھر کو جنت کی چھاؤں بنا سکتی ہے اوروہ اپنے گھر کو جہنم کی دہکتی ہوئی آگ سےبھی بھر سکتی ہے!

ہمارے دور میں ایسی محبتوں کا رواج نہ تھا جیسی اب ہوتی ہیں ، منگنی ہوئی تو منگیتر نے محبوب کا درجہ اختیار کرنا شروع کر دیا ۔ اُس کی عادتوں پسند یا ناپسند کے بارے میں نندوں سے پوچھنا شروع کیا ، اُنہوں نے لازماً اپنے بھائی کی تعریف ہی کرنا تھی ، اپنے حلوے کو کون برا کہتا ہے !  
 کہنا کہ بھائی کو غلط بات پر غصہ آتا ہے ۔ ورنہ بھائی بہت محبت کرنے والے اور خوش مزاج ہیں ، بچوں میں تو اُن کی جان ہے ۔ وغیرہ وغیرہ

میں جب شادی ہو کر نئے گھر آئی تو ، حسبِ معمول میری ماں اور باپ نے مجھے بے شمار نصیحتیں کیں ، کیوں کہ انہیں معلوم تھا کہ اُن کی بیٹی ، دکھ بھری نہیں بلکہ سکھ اور خوشیوں سے بھرپور زندگی گذارنے جا رہی ہے ۔ اُس کے ساس اور سسر نے اُن کی بیٹی کو اپنے بیٹے کی مستقبل کی ساتھی کے طور پر کئی لڑکیوں کو دیکھنے کے بعد ، اپنی ، بہو ، بیٹے کی بیوی ، بیٹیوں اور بیٹوں  کی بھابی کے طور منتخب کیا ہے ، تاکہ وہ اُن کے خاندان کے اضافے کا باعث ہو ۔ میں نے اپنے والدین کی بات کو پلے سے باندھ لیا ، لہذا سب سے پہلا مرحلہ اپنی ساس ، سسر ، نندوں اور دیوروں پر  جادو کرنے کا تھا ۔
میرا شوہر یوں سمجھو اڑیل گھوڑے کی طرح تھا ، کہ زین ڈالو تو بُدک کر بھاگے، چارہ ڈالو تو مشکوک نظروں سے دیکھے ، اپنے والدین کے ہاں جاؤں تو ساتھ جائے اور واپسی پر ساتھ لے آئے ،  نہایت غصیلا تھا ، شوہر پر جادو کرنا بڑامشکل اور صبر آزما مر حلہ تھا ۔ لیکن جادو تو کرنا تھا تاکہ اُسے قابو میں کیا جاسکے عمر بھر کے لئے ، تو میں نے جادو کے صرف "تین جملے" استعمال کرنے کا فیصلہ کیا ۔"عورتیں  یک دم بولیں، " وہ تین جملے کیا ہیں جلدی بتائیے ؟ "
ذرا صبر کرو  بتاتی ہوں ، بتاتی ہوں ۔
وہ تین جملے تھے ، جی اچھا ، بہت بہتر ، ابھی کرتی ہوں ۔
یہ تین جادو بھرے لفظوں نے سب گھر والوں ، بشمول شوہر کو رام کرنا شروع کیا ، اِس کے علاوہ " عمل " سے بھی کام لیا اُس کے بغیرتو جادو ناممکن ہے ۔ 
 "آپ نے عاملات کی مدد لی یا حاضرات کی ؟ " عورتوں نے پوچھا
" عاملات سے بھی مدد لی اور حاضرات سے بھی ، اِن کے بغیر تو شوہر پر قابو پانا ناممکن تھا "
خواتین ہمہ تن گوش ہو گئیں ۔
 " ہاں ، میں نے بتایا کہ میرا شوہر غصیلا ہے ۔ جب اُسے غصہ آتا تو میں خاموش ہو جاتی اور چپ کر کے اُس کی باتیں سنتی رہتی، کمرے سے اُٹھ کر نہ جاتی اور چہرے کو نہ مضحکہ خیز بناتی اور نہ مسکراتی ، بس پریشانی کے تاثر لاتی ،کیوں کہ مجھے معلوم تھا کہ اُنہوں نے مجھے سنانی ضرور ہیں ، کمرے سے باہر جانے پر، کمرے سے بلکہ گھر سے باہر والے سنتے ، جب وہ سناتے سناتے  دل کی بھڑاس نکال چکتے تو میں خاموشی سے باہر جاتی اور اُن کے لئے چائے یا شربت یا کوئی میٹھی چیز لاتی، اُن کے پاس رکھ کر ، کچھ کہے بغیر کمرے سے باہر چلی جاتی، بچوں کو بتایا ہوا تھا کہ جب اُن کے ابو غصے میں ہوں تو کمر ے میں مت آئیں اور جب وہ اُن پر غصے ہوں تو کمرے سے نہ نکلیں ، 
کمرے سے نکل کر اپنے باقی کام کرتی ، اور دماغ میں اُن کے غصے کو وجوھات  اور حل تلاش کرتی ، تاکہ آئیندہ کے لئے سدباب کیا جاسکے اور مجھے حل مل جاتا ۔ آدھے گھنٹے بعد آکر دیکھتی کہ اُنہوں نے چائے یا شربت پی لیا ہے یا نہیں ، سوئے ہوئے ہیں یا جاگے ہوئے ۔ اگر وہ جاگے ہوئے ہیں اور چائے یا شربت پڑا ہوا ہے ، تو اِس کا مطلب یہ ہوتا کہ غصہ شدید ہے ابھی بھڑاس باقی ہے ۔مجھے اندازہ ہوتا کہ غصے کے باعث ، ضائع ہونے والی توانا ئی کو واپس لانے کا کیا طریقہ ہوتا ہے، لہذاپھل کاٹ کر اُن کے پاس لاکر رکھ دیتی ، چائے یا شربت  اُٹھا کر لے جاتی۔
"تو کیا آپ اپنے شوہر کے بلاوجہ غصہ پر ناراض نہ ہوتیں اور بولنا نہیں چھوڑتیں" ؟ ایک نے پوچھا ۔
"آپ بتائیے کہ کتنے دن تک ناراض رہ کر شوہر سے بات کرنا چھوڑا جا سکتا ہے ؟ انہوں نے سوال کیا ۔
"جب تک شوہر نہ منائے " ؟ اُس نے جواب دیا ۔
"اور اگر شوہر ، تین دن یا ہفتے تک نہ منائے تو ! اِس کا مطلب یہ ہے کہ آپ اُس کو خود سے دور رکھنے کا عادی بنا رہی ہیں ۔ یاد رکھیں اگر وہ اِس کا عادی ہوگیا تو آپ کی اپنے آپ سے دشمنی کا آغاز ہو گیا ۔
کبھی ایسا نہ کرنا ، کبھی نہیں ۔اِس کا مطلب یہ ہے کہ تم سے بات چیت چھوڑنے کا مطلب ، اُسے گھر سے باہر نکلنے کا راستہ دکھانا ہے ۔ ایسا ہر گز نہ کرنا ۔بیوی کو شوہر کی نباض ہونا چاہئیے ، جراح نہیں ۔ جراحی کا کام وقت پر چھوڑ دو ۔ مرد اور عورت ایک دوسرے کے سکون کے لئے ساتھ رہتے ہیں ، عورت کو اپنے لئے محفوظ قلعہ چاہئیے اور مردکو عورت سے اپنا سکون۔  میں شوہر کو کبھی نہیں جتاتی کہ وہ غلط ہے اور میں صحیح ، میں اپنے شوہر کو احساس ہی نہیں ہونے دیتی کہ میں اُس سے ناراض ہوں ، اُس کے بار بار پوچھنے پر بھی ، میں کہتی ، آئیندہ غلطی نہیں ہو گی ، جب میں دوسروں کی غلطیوں کو بھی اپنا لیتی تو اُس کا رویہ مجھ سے نرم ہوجاتا اور محبت بڑھ جاتی ۔ وہ مجھے آئیندہ غصہ نہ کرنے کا یقین دلاتا اور پیار بھری باتیں کرتا تاکہ میرے ذہن سے وہ اپنے روئیے کو مٹا سکے ۔ 
" تو کیا آپ اُس کی پیار بھری باتوں پر یقین کر لیتی تھیں؟"  عورتوں نے پوچھا 
بالکل، کیا غصے میں کہی ہوئی باتوں کا یقین کرلیں اور پُر سکون حالت میں  پیار میں کہی ہوئی باتوں پر یقین نہ کریں ؟ یہ تو بیویوں کی حماقت ہے ۔ " وہ تو ٹھیک ہے لیکن کیا ایک عورت کی عزتِ نفس مجروح نہیں ہوتی آخر کو وہ بھی ایک انسان ہے ؟"  عورتوں نے پوچھا
" عزت نفس تو انسان خود اپنے ہاتھوں مجروح کرتا ہے ۔ یقیناً عورت انسان ہے ، بلا وجہ کوئی انسان دوسرے انسان پر غصہ نہیں ہوتا ، اور وجہ کاسبب بننے والا ، غصے کو برداشت کرنے کی ہمت بھی پیدا کرے ۔ تاکہ اُس وجہ کا سدباب ہو جو اُس کی عزت نسب مجروح کرنے کا سبب بنی ہے " 
" لیکن ہر وقت عورت ہی کیوں ؟"  عورتوں نے پوچھا
" عورت نہیں ، بلکہ ماں یا بیوی ! یوں سمجھو کہ جو ذمہ دار ہوگا وہ برداشت کرے گا ، بیوی گھر کی مالکہ ہوتی ہےاور مرد مکان کا ، اگر بچے مکان سے باہر کوئی خرابی پیدا کر کے آئیں ، تو لوگوں کا غصہ مالک مکان کو برداشت کرنا پڑتا ہے اور بچے گھر میں خرابی کریں کو ، گھر کی مالکہ کو ، میں چونکہ اپنے شوہر کے گھر میں مالکہ بن کر آئی تھی ۔ لہذا برداشت مجھے ہی کرنا تھا ، میری پوری کوشش رہتی تھی کہ میرا شوہر  اپناغصہ کسی اور  کے سامنے نکالنے کے بجائے مجھ پر ہی نکالے اور گھر سے خوش و خرم نکلے اور مجھے رونے کے لئے میرے شوہر کا ہی کندھا ملے ۔ میری زندگی کو خوشگوار اور محبت سے بھرپور بنانے والے ، وہی تین جملے ہیں جو میں نے آپ کو بتائے ۔ 
جی اچھا ، بہت بہتر ، ابھی کرتی ہوں ۔

بیوی کے منہ سے نکلنے والے الفاظ ،  خوشگوار اور محبت بھری زندگی  کا جادو ہیں ۔
 

ہفتہ، 18 اکتوبر، 2014

ملالہ کو نوبل انعام کیوں ملا ہے ؟


ملالہ یوسف زئی سوات کی رہنے والی سترہ سالہ  ، تعلیم کی شوقین لڑکی کو  ہندوستانی انسان دوست ، کیلاش ستیارتھی کے ساتھ نوبل انعام کے لئے نامزد کردیا ۔ پاکستان کے کسی فرد کو ملنے والا یہ دوسرا نوبل انعام ہے ۔

21 اکتوبر  
1833میں سویڈن میں پیدا ہونے والا، 355 ایجادات کا مالک ، اور سب سے اہم ایجاد ڈائینامائیٹ   کا خالق  ، الفریڈ نوبل نے ، خود کو یاد رکھنے کے لئے 10 دسمبر 1896 میں  بعد از مرگ اپنی کئی وصیتوں میں سے ایک ،  اپنے نام سے جاری کئے جانے والے انعام " نوبل " کے لئے بھی کی تھی ۔ یوں 26اپریل 1897 میں ناروے   میں نوبل فاونڈیشن  کی بنیاد پڑی ۔ جس میں الفریڈ نوبل نے اپنے ذاتی ،  کل اثاثوں کا 94 فیصد  نوبل انعام  یافتگان کے لئے مخصوص کر دیا گیا ۔
یہ انعام کسی خاص وابستگی ، کی وجہ سے نہیں دیا جاتا اور نہ ہی اس کا یک دم فیصلہ کیا جاتا ہے ۔ یہ ایک شفاف طریق کار کی بدولت ،  انعام یافتگان تک پہنچتا ہے ۔ یہ ناروے کا کسی اور حکومت کے دباؤ سے کلی آزادانہ طریقے کا حامل ایوارڈ ہے ۔
نوبل انعام  لینے والی پاکستانی ملالہ یوسف زئی اور کیلاش ناتھی سمیت کئی افراد کے نام اس ایوارڈ کے لئے آئے تھے ، ممکن تھا کہ اگر ملالہ کی نامزدگی نہ ہوئی ہوتی تو یہ ایوارڈ ، کیلاش نارتھی کو ملتا ، تو ایسی صورت میں ہمارے ملک میں ، بغض و انا کا وہ سونامی نہ اٹھتا جو آج کل ، اخباروں کے علاوہ سوشل میڈیا میں زور شور سے موجیں مار رہا ہے ۔

عبدالستار  ایدھی ،یا  دیگر افراد کو ہم ، قومی سطح پر کتنی فوقیت اور شہرت دے رہے ہیں ، میڈیا کے اِس دور میں انسانی کام کرنے والوں کی شہرت ہی انہیں دنیا میں ممتاز بناتی ہے۔ بغض و عناد کے پاکستانی ماحول میں ہم  عبدالستار ایدھی کو سند مشینیں بانٹ کر تصویریں کھنچوانے والوں  سے بھی کم تر گردانتے ہیں ۔جب ہم انہیں پرکاہ برابر نہیں سمجھتے تو دنیا کیا خاک ان پر توجہ دے گی ؟

ملالہ ، کو شہرت دینے میں اُس کی ڈائری کا ہاتھ تھا جو اُس (یا اُس کے والد)نے گل مکئی کے قلمی نام سے  گیارہ سال کی عمر میں ، بی بی سی کے  بلاگ لئے  3 جنوری 2009 میں لکھی ، خیالات اُس کے والد کے ہو سکتے ہیں لیکن تحریر  اُس کی اپنی  تھی ،  بچگانہ پختگی کی تحریر ، جیسے میں اپنے بچوں کے لئے تقریر لکھتا ، وہ اُسے اپنے تحریر میں منتقل کرتے ، سٹیج پر جاتے اور پہلا انعام حاصل کرتے ۔ ایک باپ اپنی اولاد کی تربیت اِسی طرح کرتا ہے ، جو اپنی اولاد کا تعلیمی اور سماجی قد اپنے سے بلند دیکھنا چاھتا ہے ۔ کیوں کہ بچے  یا بچی کا پہلا استا د اور استانی اُس کے ماں اور باپ ہوتے ہیں ۔
ڈائری لکھنے  کے لئے اُسی کے سکول کی ایک بچی عائشہ جو اُس سے چارل سال بڑی تھی کا انتخاب ، کیا گیا مگر سوات میں " فضل اللہ " کی دہشت کے سبب عائشہ کے والدین نے منع کردیا ۔ یوں  ساتویں جماعت میں پڑھنے والی ملالہ  کا انتخاب اُس کے والد نے کیا ۔
ڈائری کے چھپتے ہی ، گل مکئی کی شہرت  عالمی کینوس پر پھیلتی رہی ، جو صرف اور صرف تعلیم کی دلداہ تھی اور اپنی جیسی کئی بچیوں کا درد ، کاغذپر منتقل کر رہی تھی تاکہ دنیا جہالت کے اُس عفریت کو روکے جو  سوات میں تیزی سے اپنی جہالت کے پنجے گاڑ رہا تھا ۔ 18 فروری 2009کو " کیپیٹل ٹاک " میں حامد میر کے پروگرام میں اپنی تعلیم کے لئے فکر مند ہونے والی بچی کا تعارف ، ملالہ کے نام سے کرایا گیا ، جس کو ایک  گیارہ سالہ بچی کی خواہش سمجھ کر  لوگوں نے زیادہ توجہ نہ دی ، لیکن آہستہ آہستہ اخباروں میں ملالہ کے بارے میں چھپنے والے مضمونوں نے پاکستانیوں کے ذہنوں میں ، سوات کی مشکلات نے جگہ بنانی شروع کر دی ۔ غیر ملکی اخبارات نے ، سوات میں لڑکیوں کی تعلیم کی حامی ملالہ کے بارے میں دنیا کو بتانا شروع کر دیا ۔ دنیا صوبہ خیبر پختون خواہ میں لڑکیوں کی ناخواندگی کے بارے میں اچھی طرح واقف تھی ، اُن کی خواہش تھی کہ دنیا کی لڑکیوں کی طرح نہ سہی پاکستا ن کی ہی بچیوں کی طرح ، یہ بچیاں بھی تعلیم کے زیور سے آشنا ء ہوں ۔
19 اگست 2009 میں ملالہ اہک بار پھر
" کیپیٹل ٹاک " پاکستان کے عوام کو نظر آئی ۔ اپنے ننھے ننھے قدم اٹھاتی ، سوات کی یہ بہادر بچی دوسری بہادر بچیوں سے ساتھ ، طالبان کی دھمکیوں کی پرواہ نہ کرتے ہوئے اپنے تعلیمی سفر  کے ساتھ سوات  کی بچیوں  کی بھی ہمت بڑھا رہی تھی ۔ 19 دسبر 2011 میں حکومتِ پاکستان نے اسے  نیشنل یوتھ پیس پرائز سے نوازا لیکن اس سے دو مہینے پہلے اُسے انٹر نیشنل چلڈرن پیس پرائز کے لئے بھی نامزد کیا جا چکا تھا ۔
ملالہ 2102 کے اوائل میں سوات کے بچوں کے لئے   تعلیم کا ایک پرچم بن چکی تھی ،
کیوں کہ وزیر اعظم پاکستان نے اُس کے نام سےسوات ڈگری کالج برائے خواتین میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کیمپس کھولنے کا پروگرام  جاری کیا ۔ 
9 اکتوبر 1912 میں ، چودہ سالہ ملالہ  پر قاتلانہ حملے کی خبر پوری دنیا میں دکھ سے سنی گئی ۔گل مکئی کو فوجی ہیلی کاپٹر پر سوات سے  سی ایم ایچ پشاور منتقل کیا گیا ، پھر وہاں سے راولپنڈی اور بالآخر 15 اکتوبر 2012 کو اُسے برطانیہ ، کوئین الزبتھ ہاسپٹل برمنگھم لے جایا گیا ۔ پوری دنیا سے اُس کے علاج کے لئے ، انسانوں نے دعاؤں کے علاوہ رقوم  اُس کے علاج کے لئے بھیجنا شروع کر دیں ۔ 17 اکتوبر کو وہ کوما سے نکلی اور زندگی و موت سے مقابلہ کرتے کرتے  8 اکتوبر کو اُس نے دنیا کی دعاؤں کا شکریہ ادا کرنے کے لئے اپنے خاندان کے ساتھ تصویر کھنچوائی ، 3 جنوری  2013کو وہ ہسپتال سے گھر منتقل ہو گئی اور
2 فروری کو اُس کے سر کا دوبارہ آپریشن ہو ا ، مارچ 2013 کو وہ دوبارہ  سکول جاکر بیٹھنے کے قابل ہوئی ۔
سوات میں اپنی تعلیم کے خواب دیکھنے والی ، لڑکی حوادِث کے سہارے لندن جا پہنچی اور بین الاقوامی توجہ کا مرکز سوات کی ایک مظلوم عورت کے نمائندہ کی حیثیت سے بنی جس کی اولین ترجیح  سوات کی خواتین کی تعلیم تھی ۔ 
طالبان  کی طرف سے ایک نہتی اور معصوم بچی پر چلائی جانے والی، ایک گولی جس پر اُس کی قضا نہیں لکھی  تھی ۔ اُس نے ملالہ کو وہ اہمیت دلائی ، جو انسانی کام کرنے والی شخصیات کو ادھیڑ عمری کے بعد ملتی ہے ۔   ملالہ نے اپنی سولہویں سالگرہ پر اقوام متحدہ سے خطاب کیا۔ اس دن کو اقوام متحدہ کی طرف سے ملالہ ڈے کا نام دیا گیا۔
۔

جمعہ، 17 اکتوبر، 2014

فوجی کی بیوی -5


وقت جلدی سے گذرنے لگا اور 1980آگیا، تین جنوری کو یہ ایک مہینے کی چھٹی پر اچانک آگئے۔ حالانکہ چند دن پہلے ان کا خط ملا انہوں نے اس میں ذکر تک نہیں کیا۔ سب اس اچانک سرپرائز پر خوش ہو گئے۔ میں نے پوچھا کہ کیاآپ کو خط لکھنے کا وقت نہیں ملتا جو آپ ایک صفحے کا مشکل سے سادہ خط لکھتے ہیں۔ تب معلوم ہوا کہ جس علاقے میں یہ ہیں وہاں سے خط آرمی پوسٹ آفس کے ذریعے جاتے ہیں اور وہ ہر خط کو نہیں بلکہ کچھ خطوں کو کھول کر سنسر کرتے ہیں۔ لہذا سادہ خط لکھنا ان کی مجبوری ہے۔  

میرپورخاص میں دو تین دن رہنے کے بعد  انہوں نے پروگرام بنایا کہ، کراچی جاکر میرے اور ان کے رشتہ داروں سے ملنا ہے۔ گویا یہ ایک قسم کا ہنی مون ٹرپ تھا۔
پانچ جنوری کو دوپہر ڈھائی بجے، میرپورخاص سے حیدرآباد جانے والی ٹرین پر ہمارا پروگرام تھا۔ اب چونکہ ایک دن پہلے ہی تیاری شروع کی امی کے گھر سے جاکر میں اپنے کپڑے لائی تو امی نے کہا کہ ہمارے گھر سے کھانا کھا کر جانا، لہذا دس بجے آجانا۔ جب  چلنے لگے تو میں نے اپنا سوٹ کیس نکالا انہوں نے پوچھا اس میں کیا  ہے میں نے بتایا میرے کپڑے ہیں۔ یہ ایک بڑا سا سوٹ کیس تھا۔ کوئٹہ کی ہوا ابھی نہیں چلی تھی لہذا کم سردی تھی اور امید تھی کہ ہمارے کراچی ہوتے چل پڑے گی تو میں گرم کپڑے بھی رکھے۔ انہوں نے کہا سوٹ کیس کھولو۔ میں نے سوٹ کیس کھولا۔ انہوں نے میرا ایک سوئیٹر نکالا اور تین جوڑے اور کہا یہ کافی ہیں۔ میں پریشان کہ شادی کے بعد پہلی دفعہ کراچی جارہی ہوں اور صرف تین جوڑے؟
میں نے پوچھا،”بس، صرف یہی؟“
کہنے لگے، "ہم ہفتے بعد واپس آجائیں گے لہذا  اتنا سامان کون  اٹھائے گا۔ ؟ "
اب کیا کرتی، تین سوٹ ایک سوئیٹر ان کے بیگ میں ٹھونسا، جس میں ان کی ایک سوئیٹر اور دو کرتے اور پاجامے ایک پینٹ پر پہنے والی قمیض اور بس۔
 
ان کے امی، ابو، دونوں بہنوں سے مل کر نکلے دونوں چھوٹے بھائی بھی ساتھ تھے ایک نے بیگ اٹھایا اور امی کے گھر پہنچے۔ دونوں بھابیاں ان کے پیچھے کہ یہ کیا سامان ہے کراچی میں ڈھیر سارے رشتہ دار ہیں سب کے گھر نئی دلہن ایک ہی جوڑاپہن کر جائے گی۔ امی کے گھر بھی میرے کپڑے پڑے تھے۔ انہوں نے کہا کہ اگر یہ سوٹ کیس اٹھا سکتی ہے تو بے شک دو سوٹ کیس دے دیں میں تو نہیں اٹھاؤں گا۔  چھوٹی بھابی پریشان، امی نے سمجھایا۔ کہ نعیم ٹھیک تو کہہ رہے ہیں کہ کیا ضرورت ہے ہفتے کے لئے مہینے بھر کے کپڑے لے جانے کی؟ کھانا کھایا۔ گھر سے ریلوے سٹیشن تک کا سفر بیس منٹ کا تھا  اور اگر والکرٹ کی طرف سے جائیں تو  دس بارہ منٹ لگتے۔ ان کا پروگرام تھا  دوبجے نکل کر آرام سے پہنچ جائیں گے۔ ساڑھے بارہ بجے کھانے سے فارغ  ہوئے کہ دورازے پر گھنٹی بجی۔ معلوم ہوا کہ اباجان نے تانگے والے کوکہا تھا وہ آگیا یہ حیران کہ اتنی جلدی جاکرکیا کریں گے۔ خیر بڑی مشکل سے یہ تیار ہوئے۔ابا جان بضد کہ ہمیں سٹیشن پر چھوڑ کر آئیں گے، یہ کہیں کہ خالو، کیوں پریشان ہو رہے ہیں۔ بڑی مشکل سے اباجان راضی ہوئے ِ ان کے دونوں بھائی کہیں کہ وہ بھی ساتھ جائیں گے اور ہمیں سٹیشن پر چھوڑ کر واپس آجائیں گے۔ انہوں نے منع کر دیا،بلکہ ان کا سب سے چھوٹا بھائی، میرے پیچھے پڑا ہوا تھا کہ بھائی سے کہہ کر مجھے بھی کراچی ساتھ لے چلو۔ بہرحال ہم تانگے میں بیٹھے۔ ہمارے گھر سے آدھا میل دور پانی کی ٹینک کے پاس سے ِ میرواہ، ڈگری اور جیمس آباد جانے والی سڑک گذرتی۔ تانگہ جب وہاں پہنچاتو ایک خوبصورت سے بس اقبال کمپنی کی آکر رکی اور آوازآئی حیدر آباد کراچی،  حیدر آباد کراچی،  انہوں نے تانگے والے کو کہا روکو۔ہم بس سے جائیں گے۔ تانگے والے نے پوچھا آپ سٹیشن نہیں جائیں گے۔ انہوں کہا نہیں آپ واپس جائیں تو وہ کہنے لگا کہ باقی پیسے میں آپ کو دوں یا شیخ صاحب کو؟ انہوں نے کہا ان کو دے دینا۔  ہم دونوں بس میں سوار ہو گئے۔  بس آدھی بھری ہوئی تھی۔
انہوں نے مجھے عورتوں والی سیٹ پر بٹھایا اور خود مجھ سے دو سیٹ پیچھے کسی کے ساتھ بیٹھ گئے۔ مجھے سخت غصہ آیا کہ  پیچھے دو افراد کی سیٹ خالی تھی ہم دونوں وہاں بیٹھ جاتے۔ اب سارے راستے میں چپ بیٹھ کرڈھائی گھنٹے کا سفر کروں۔ ٹنڈو الہ یار میں آدھی بس خالی ہو گئی یہ جہاں بیٹھے تھے انہوں نے مجھے وہاں بلا لیا۔ معلوم ہوا کہ ان کے دو جاننے والے بس میں بیٹھے تھے ایک تو ان کے کلاس فیلو تھے اور دوسرے ان کے ابا کے دوست۔ لہذا شرم کی وجہ سے یہ میرے ساتھ نہیں بیٹھے۔ ٹنڈو الہ یار میں بسیں تقریباً بیس منٹ رکتی ہیں۔ جو پرانے سفر کرنے والے ہیں وہ  حیدرآباد جانے کے لئے ٹنڈو الہ یار تک کا ٹکٹ لیتے اور سٹاپ پر اتر کر سب سے اگلی بس میں بیٹھ جاتے اس طرح آدھے گھنٹے کی بچت ہو جاتی۔ ہماری بس سب سے آگے آئی۔ تو عورتوں کی سیٹ پر عورتیں آکر بیٹھ گئیں۔ جو نہی بس چلنے کے لئے آگے بڑھی  تو ان کے استاد  الطاف صاحب اور ان کی بیگم بس میں سوار ہوئیں۔ انہوں نے میرے ساتھ، ان کی بیگم کو بٹھا دیا اور خود کھڑے ہوگئے۔ ان کے استاد کو ایک سیٹ مل گئی۔  مجھے پریشانی، بس کا بونٹ جو اندر ہوتا ہے وہ خالی مگر یہ اس پر نہ بیٹھے۔ ٹنڈو الہ یارسے ٹنڈو جام موڑ تک انہوں نے کھڑے ہو کر سفر کیا۔ حیدرآبادشہر میں داخل ہوئے تو ان کو سیٹ مل گئی۔ بس ریلوے سٹیشن کے پاس رکی۔ہم دونوں اترے اور وہاں سے رکشامیں بیٹھ کر ، حیدرآباد کینٹ میں ان کے ابو کے فیملی فرینڈ کے بیٹے مظہر حسین جو ایم۔ ای۔ ایس میں ایس۔ڈی۔ او،  تھے وہاں پہنچے۔ مظہربھائی آفس گئے تھے ان کی بیگم پروین باجی گھر پر تھیں بہت خوش ہوئیں۔ یہ توکھانا کھا کر سو گئے تو پروین باجی مجھے لے محلے میں اپنی تین سہیلیوں کے گھر لے کر گئیں۔ مظہر بھائی اور پروین باجی آپس میں کزن تھے اور راولپنڈی میں ٹنچ بھاٹہ میں جوائنٹ فیملی سسٹم میں رہتے تھے، ہماری شادی پر، پروین باجی، ان کے چھوٹے دیور اور جیٹھ  اپنی بیٹی کے ساتھ آئے تھے۔پانچ بجے،مظہر بھائی بھی آگئے۔

باتوں باتوں میں انہوں نے بتایا کہ آج آفیسر میں تمبولا ہے۔ انہوں نے فوراً پروگرام بنا لیا۔مظہر بھائی نے معذرت کر لی۔ مغرب کے بعد ہم دونوں گھر  آفیسر میس پہنچے۔ تھوڑے لوگ آئے تھے۔ انہوں نے آفیسرز میس دکھایا۔ میس میں داخل ہونے کے بعد  الٹے ہاتھ پر قائد اعظم کی تصویر تھی اس کے نیچے ایک میز پر ایک بڑا سا رجسٹر پڑا تھا جس کے غالباً پہلے صفحے پر وزیر اعظم محترم ذوالفقار علی بھٹو کے ہری سیاہی سے دستخط تھے۔ کیوں کہ انہوں نے اس میس کا افتتاح کیا تھا اور ہری رنگ کی ایک لکیر نیچے تک کھینچی ہوئی تھی۔تاکہ وزیر اعظم کے بعد کوئی اور دستخط نہ کرے اور دوسرے صفحے پرسیکنڈ لیفٹنٹ فاروق احمد کے دستخط تھے جس نے وزیر اعظم کی تقلید میں اپنے دستخط کر کے نیچے ایک نیلی لکیر کھینچ دی۔ اس کے ساتھ کیا ہوا ِ مؤرخ یہ بتانے سے قاصر ہے لیکن سنا ہے کہ بریگیڈ کمانڈر نے سیکنڈ لیفٹننٹ کو بلوایا اور خوب جھاڑا۔

میس گھوم کر باہر نکلے اور لان میں جاکر بیٹھ گئے۔ نعیم دو کارڈ لے آئے لیڈیز اوربچوں کے لئے کارڈ مفت تھا  اور مردوں   کے لئے کارڈ کی قیمت ایک روپیہ۔ مجھے سمجھانے لگے کہ تمبولا کیسے کھیلا جاتا ہے۔ تھوڑی دیر بعد کھیل شروع ہوا میں کنفیوز ہو گئی اور نعیم سے پوچھا کہ یہ کیا سیدھی طرح نمبر نہیں بول سکتے۔ نعیم، مجھے نمبر بتاتے میرا کوئی نمبر نہیں کٹ رہا تھا۔ آفیسرز اور ان کے بچے نعرے لگا رہے تھے کہ یہ نمبر نکالو۔ کھلانے والے نے اعلان کیا کہ جس کا کوئی نمبر نہیں کٹا ہو وہ کھڑا ہوجائے۔ میں شرمندگی سے کھڑی نہ ہوں کہ باقی لوگ کیا کہیں گے۔ اس نے دوبارہ اعلان کیا کہ بدقسمت لوگ کھڑے ہوجائیں۔ تو مجھ سمیت کوئی بارہ  افراد کھڑے ہو گئے جن میں تین عورتیں بھی تھیں۔ مجھے حوصلہ ہوا۔ اگلا نمبر بولا گیا۔ پانچ افراد بیٹھ گئے۔ پھر نمبر بولا تو دو افراد بیٹھ گئے۔اب دو عورتیں اور تین افراد کھڑے تھے۔پھر نمبر بولا گیا۔ ایک خاتون بیٹھ گئیں۔ کسی نے نعرہ لگایا ”نعیم میری ہمدردی تمھارے ساتھ ہیں“، یہ نعیم کے کورس میٹ  کیپٹن جاوید تھے۔ اگلے دو نمبر کے  بعد صرف میں کھڑی تھی۔ میجر ابرار جو تمبولا کھلا رہے تھے۔
انہوں نے کہا،”لیڈیز اینڈ جنٹلمین، آج کے پہلے ہاؤس کی پہلی بدقسمت خاتون“۔
کیپٹن جاوید نے دوبارہ نعرہ لگایا، ”نیولی ویڈ“۔
جس پر میجر ابرار نے کہا، ”کہ اپنے شوہر نامدار کے ساتھ تشریف لائیں“ ہم دونوں ساتھ گئے، انہوں نے، تمبولے کا تحفہ اور ”آج کے مہمان“ کا ایک تحفہ دیا۔

 سب نے تالیاں بجائیں۔  اپنی نشست پر آکر تحفہ کھولا۔ ایک بڑا مگ تھا اور دوسرا خوبصورت سا گلدان۔
تمبولا، ایک کھیل ہے جو انگریزوں نے مہینے میں ایک دفعہ اپنے گھروں سے دور فوج کی ملازمت میں رہنے والوں اور سول سروسز کے آفیسروں کے لئے ایک اچھی شام گذارنے کے لئے ایجاد کیا۔ سب اپنے اپنے کارڈ خریدتے ہر کارڈ پر خانوں کی تین لائین ہوتیں ہیں۔ اور ہر لائین میں پانچ نمبر لکھے ہوتے۔ پہلی لائین، دوسری لائین، تیسری لائین۔ کل پندرہ نمبر۔ کھلانے والے کے تھیلے میں پیتل کی ڈسک پر لکھے ہوئے کل 90نمبر ہوتے۔ کھیل میں دلچپسی کے لئے مختلف انعام رکھے جاتی ہیں ہیں۔
جن میں ”خوش قسمت“  جس کے پہلے کوئی سے پانچ نمبر کٹ جائیں۔
 ”بد قسمت“ جس کا کوئی نمبر نہ کٹے۔
  ”ٹاپ لائین“ جس کی پہلی لائین کے تمام پانچ نمبر کٹ جائیں۔
اسی طرح ”سنٹر  اور باٹم لائن“
پھر ”اہرام“  پہلی لائین کا ایک نمبر، دوسری لائن کے دو نمبر اور تیسری لائین کے تین نمبر۔ اسی طرح ”الٹا اہرام“۔
  پھر ”چار کونے اور بُل“  یعنی پہلی لائین اور تیسری  لائین کے کونے کے  نمبر اور درمیانی لائین کا بیچ کا نمبر۔
  پھر فل ہاؤس  یعنی جس کے سب سے پہلے تمام پندرہ نمبر کٹ جائیں۔
پھر  ”سنو بال“  اس میں پہلے تیس نمبر میں جس کے کارڈ کے تمام نمبر کٹ جائیں یہ اس شام کا آخری کھیل ہوتا ہے ۔
 ہاں اس گیم میں ہر ہاؤس  میں  خریدے گئے ٹکٹوں کی آدھی رقم مختلف انعاموں کے لئے اور آدھی رقم ”سنو بال“ کے لئے رکھ لی جاتی۔ نمبر پکارا جاتا اور کھیلنے والے اپنے کارڈ سے نمبر کاٹتے رہتے۔ کھلانے والا  اپنے سامنے رکھے ہوئے بورڈ پر نکلا ہوا نمبر اس کے اپنے خانے میں رکھتا جاتا  اور ہر نمبر کے ساتھ کوئی نہ کوئی واقع، جگہ یا مشہو ر فوجی یونٹ کانام یا اعزاز منسوب ہوتا۔ مثلا۔ نمبر 21نکلتا تو  ”رائل سلیوٹ“  ٹو اینڈ ون،  ٹوئینٹی ون کہا جاتا ہے۔ 88 کو ”ٹو فیٹ لیڈیز“ ایٹ اینڈ ایٹ، ایٹی ایٹ کہا جاتا۔ کھیلنے والوں  کے نمبر کٹتے جاتے۔ شور مچاتا جاتا۔ جو کھیلتے وہ تو نعرے لگاتے اور نہ کھیلنے والے بھی، فوج کے خشک ماحول کی ماہانہ گھٹن نکالنے کے لئے ان کا ساتھ دیتے۔ جس کے نمبرپہلے کٹ جاتے
جس کا  انعام نکلتا تو ایک ساتھ بیٹھاہوا گروپ  آفیسر میس یا کلب کا لان سر پر اٹھا لیتا۔
تمبولا، فوجی آفیسروں کا مقبول کھیل تھا۔  جہاں دس آفیسرز میس میں جمع ہوئے۔ وہاں تمبولا،لازمی ہوتا، جس طرح ہر کھیل، جواریوں کے ہاتھ تباہ ہوتا ہے اسی طرح تمبولا کے ساتھ بھی ہوا۔ کراچی فلیٹ کلب میں پاکستان کا سب سے بڑا تمبولا کھیلا جاتا۔ ہزاروں لوگ کھیلتے۔”سنو بال ہاؤس“ بیس ہزار تک کا شاید کھیلا جاتا۔ 1977کے بعد، تمبولے کو جواء قرار دے کر اسے ”قابل دست اندازیء پولیس“ قرار دے دیا۔  جنانچہ فوج میں بھی کچھ عرصہ تمبولا بند رہا ۔ پھر خیال آیا کہ اس طرح تو گذارا نہیں ہوگا۔ فوج کا ماحول اور گھٹن زدہ ہو گیا۔ اب صرف آفیسرز، کسی کی پوسٹنگ پر دیئے گئے کھانوں پر اپنی بیگمات کے ساتھ جمع ہوتے۔ بچوں کا آپس میں میل جول، سکول یا پڑوس میں رہ گیا۔ چنانچہ،”بنگو“ کے نام سے  اسلامی کھیل متعارف کرایا گیا۔ سارا جسم وہی تھا صرف نام کا برقع پہنا کر رقم کے بجائے گفٹ انعام میں ملنے لگے۔
جن میں، ”چھوٹے  انعام“  مگ، گلدان، فریم شدہ سینری  یا پینٹنگ  اور بڑا نعام، ہاؤس میں جمع رقم کے مطابق، کٹلری سیٹ، کافی سیٹ یا ٹی سیٹ پر مشتمل ہوتا، ہاں شور مچانے اور نعرے مارنے کی اجازت نہیں تھی۔ لیکن  1977 سے 1980تک
زمانہ کافی آگے آچکا تھا۔ 
پہلے ہاؤس کے بعد ہمارا گروپ بھی بن گیا۔ دو نعیم کے کورس میٹ، کیپٹن  بٹ،  کپٹن جاوید، جو  اپنی بیوی اور خوبصورت سے گول مٹول ایک سالہ بیٹے  جہانزیب کے ساتھ۔ ایک کیپٹن سعید جو سی ایم ایچ میں کوارٹرماسٹر تھے اور ان سے ڈیڑھ سال سینئر تھے یعنی 51لانگ کورس کے اور پی ایم اے میں اورنگ زیب کمپنی کے تھے۔جس میں نعیم ”پہلی ٹرم“ میں تھے۔ بعد میں کیپٹن سعید فارن سروسزز  کے لئے سلیکٹ ہو گئے وہ اپنی بیوی اور بہن کے ساتھ آئے تھے۔ ہماری ٹیبل پر آگئے۔ کیوں کہ سب سے جونئیر ہم لوگ تھے۔باقی سینئر آفیسرز تھے۔ ان کے یونٹ کے میجر ”طارق“ جو کشمیر میں ان کے ساتھ تھے اور حیدرآباد کے رہنے والے تھے اپنی بیوی اور تین۔ چھوٹی بیٹیوں۔ ماریہ۔(دس سال)۔ کنزہ (آٹھ سال) اور جویریہ (پانچ سال) یہ  پہلے ہاؤس  کے بعد آئے تھے۔

 پہلا ہاؤس کھیلنے کے بعد میں نے انکار کر دیا۔ کیوں کہ مجھے نمبر سمجھ نہیں آتے تھے۔ میرا کارڈ نعیم ہی کاٹتے رہے۔ تینوں بچیوں کے آنے سے میں ان کے ساتھ مصروف ہو گئی۔ ماریہ اور کنزہ بہت تیز تھیں اورذہین بھی۔ کوئی نمبر پکارا جاتا، تو میں انہیں تنگ کرنے کے لئے کوئی دوسرا نمبر بتاتی لیکن مجال ہے کہ ان کی توجہ میں کوئی فرق آیا ہو۔ ہاؤس مکمل ہونے کے بعد سب، کارڈ مجھے دے دیتے۔ میں سب کو میز پر بچھا کر جویریہ کے ساتھ، جو نمبر پکارا جاتا میں کاٹتی رہتی۔ کوئی نہ کوئی کارڈ پورا کٹ جا تا۔ جویریہ کی خوشی قابل دید ہوتی۔
  جویریہ زور سے پکارتی ”یس“۔
جس کا مطلب ہوتا کہ ہمارا کارڈ کٹ گیا ہے۔ جس پر لوگ ہماری طرف متوجہ ہو جاتے۔ تھوڑی دیر تک جب ہماری ٹیبل سے کوئی نہ کھڑا ہوتا تو، ”بوگی، بوگی“ کا شور  مچتا لیکن جویریہ اپنی ”ماما“کو کارڈ دکھاتی ”مسز طارق“ اپنے بیگ سے دو ٹافیاں نکالتیں اور جویریہ کو دیتیں۔ جویریہ ایک مجھے دیتی اور ایک خود کھاتی۔ تیسرے ہاؤس کے بعد  کیپٹن جاوید کی مسز کپٹن سعید کی مسز اور ان کی بہن بھی ہمارے ساتھ شامل ہوگئیں۔ انہیں بھی نمبر سمجھ نہیں آتے جس کی وجہ سے وہ بور ہونے لگیں۔ اب وہ میرے ساتھ گپیں لگانا چاہیں اور جویریہ شور مچائے۔ کہ میں اس کے ساتھ ”بنگو“ کھیلوں۔ سب مردوں نے ”ویٹرز“ کو آرڈر دے کر ”چپس، پکوڑے، تکے اور کولڈ ڈرنکس منگوائیں۔ نعیم کو میجر طارق نے منع کر دیا۔ جوتھے ہاؤس کے دوران ویٹر کھانے کا سامان لے آیا ِ ہم تینوں کے علاوہ، باقی چھ افراد انہماک  سے ”بنگو“ کھیلنے اور کھانے میں 
مصروف تھے اور میں دیگر خواتین کے ساتھ باتیں کرنے کے علاوہ،جویریہ کے ساتھ، اس کے کارڈ کٹوا رہی تھی۔

پانچواں ہاؤس ”سنو بال“ تھا۔ اسے کے لئے کوئی کارڈ فری نہیں تھا۔ قیمت وہی ایک روپیہ۔ اس وقت تک کھیل اپنے جوبن پر پہنچ چکا تھا۔ مجھے اور باقی تینوں خواتین نے بھی کھیلنے کا پروگرام بنایا کیوں کہ انعام میں چھ افراد کاکٹلری سیٹ تھا۔ ایک شیٹ  پر چھ کوپن ہوتے ہیں جس میں پورے 90نمبر ہوتے ہیں۔ سب نے ایک ایک شیٹ خریدی،اورتو اور دونوں بچیوں نے دو دو کوپن کی ضد کی۔ نعیم تو دو کارڈ لائے،
کیپٹن  جاوید نے چوٹ کی، ”یار کنجوسی مت دکھاخود نہیں تو بھابھی کے لئے ایک شیٹ  لے لے“۔
”نعیم نے کہا کہ یہ آج کاا نعام لے چکی ہیں اور میرا انعام آج تک نہیں نکلا تو خواہ مخواہ پیسے ضائع کرنے کی کیا -ضرورت؟۔ خوشی کے لئے کھیلو جوئے کیلئے نہیں“۔
میجر طارق فوراً چمک کر بولے، ”فتویٰ مت دے۔ امیر المؤمنین نے جائز کر دیا ہے“۔

باقی اب پھر خواتین اپنے اپنے مردوں کے ساتھ بیٹھ گئیں۔ جویریہ کو بھی معلوم تھا کہ اس ہاؤس میں تنگ نہیں کرنا اس کی امی نے اسے اپنے پاس بلایا، لیکن وہ میرے ساتھ چپکی رہی۔


سنو بال شروع ہوا اور25 نمبروں  کے بعد میرا صرف ایک نمبر 54رہ گیا تھا۔جو نعیم کا پی ایم اے کا کورس تھا۔ سب کی توجہ ہم پرہوگئی۔ جویریہ دعائیں مانگنے لگی۔ میری بھی عجیب حالت۔ ہر نمبر نکلنے سے پہلے دل کی دھڑکن تیز ہو جاتی۔
 آخری نمبر سے پہلے میجر ابرار نے پوچھاAny body sweating ?,
    پورے گروپ نے نعرہ لگایا ”یس“۔  
میجر ابرار نے نمبر نکالا اور بولے، " Guess which Number"
شور مچا، 54۔
 لیکن نمبر تھا 11۔
مجھے نہیں معلوم کہ آپ  پڑھتے ہوئے کیسا محسوس کر رہے ہیں۔ لیکن یہ لکھتے ہوئے۔ میں اس وقت، حیدرآبا د آفیسرز میس کے لان میں بیٹھی ہوئی ہوں ، یک دم خاموشی چھا گئی ہے ۔ ٹھنڈی سڑک سے گذرنے والے رکشے کی ٹرٹراہٹ ، خاموشی میں جل تھل پیدا کرتی ہے اور پھر خاموشی اور ان سب پر حاوی میری  ”سانس“ ہے  جو اس وقت نکلی تھی۔ سب نے ہمدردی کی، لیکن میں سوچ رہی تھی کہ کیا میں واقعی، ”بد قسمت“ ہوں۔ میں نے نعیم سے،رندھی ہوئی آواز میں پوچھا۔ وہ بولے، ”بے وقوف، یہ ایک کھیل ہے انعام نکل گیا تو بہتر ورنہ کھیل کو تو انجوئے کیا۔ اچھا چلو کھڑی ہوجاؤ“۔ کیوں میں نے پوچھا۔  میجر ابرار نے اعلان کیا ہے کہ جن کا آخری نمبر رہ گیا ہے وہ کھڑے ہو جائیں۔

مجھ سمیت تین افراد کھڑے ہو گئے۔  صرف میرا 54 نمبر تھا ان دونوں کے 44،  میجر ابرار نے پھر کہا کہ جن کے دو نمبر رہتے ہوں وہ کھڑے ہوں۔ پانچ افراد  اور کھڑے ہو گئے۔  54اور  26 کے تین،  44 اور 26 کے دو ۔ گویا تین نمبر میجر ابرار نے پوچھا کیا 93نمبر تک”سنو بال“ بڑھا دیں۔  سب نے  ہاں، ہاں کا شور مچایا۔ میجر ابرار نے تھیلے کو ہلا کر نمبر نکالا اور ہمارے صبر کا امتحان لیتے رہے کسی کا بھی نمبر نہیں نکلا۔  اب انعام تو دینا تھا۔ کٹلری سیٹ کے بجائے۔ ٹی سیٹ کا اعلان ہوا۔ اب ہاؤس باقی سات نمبروں میں نکلنا تھا۔  چھٹا نمبر پکارا گیا۔ 54 ۔ہمارے گروپ  نے بلند آواز میں نعرہ مارا ”گریٹ“ اور یوں  ٹی سیٹ کی حقدار میں ٹہری۔  اس کے بعد،  ٹوکن کے پیچھے نام لکھ کر  ”لکی ڈرا“ کے لئے ڈالنے تھے۔ مردوں اور عورتوں کے الگ الگ بکس تھے۔ ہمارے گروپ نے تمام کوپن کے پیچھے  جویریہ کا نام لکھ کر جویریہ سے بکس میں ڈلوادیا۔  لیڈیز کا انعام،  جویریہ کا نکلا۔  اور اس طرح میری زندگی کہ پہلی شام میرے لئے یادگار بن گئی۔ 





٭٭٭٭٭٭٭ ٭٭٭٭٭

 پچھلا مضمون ۔ ۔فوجی کی بیوی - 4  ٭٭ ٭٭  اگلا مضمون ۔ ۔ فوجی کی بیوی -6 - زیرِطباعت
 
٭٭٭٭٭٭٭ ٭٭٭٭٭

ہونہار بِروا - 1




بدھ، 15 اکتوبر، 2014

کافر !

مولوی صاحب نے کہا،
“بابا ! تم اپنی خوشی سے دینِ محمدی قبول کرنا چاہتے ہو ناں ! ”
_______________
 جس دن ستیل اوڈو اور اس کی گھر والی کو مسلمان ہونا تھا اس دن مسجد میں اتنے نمازی آئے کہ مسجد کے باہر بھی تین چار صفیں قائم ہو گئیں ۔ اس سے پہلے یا تو عید پر اتنا ہجوم ہوتا یا کوئی مال دار آدمی اپنے مرحوم باپ کی مغفرت کے لئے بریانی کی دیگ چڑھاتا تو لوگ کھنچے چلے آتے ۔
مسجد کے پیش امام مولوی امیر علی نے بھی ستیل کے قبولِ اسلام کی بڑی تشہیر کی تھی۔ لوگوں کو قرآن و حدیث کی روشنی میں بتایا تھ کہ ایسا موقع عیدوں سے بھی زیادہ مبارک ہوتا ہے ۔
گوٹھ کے باشندے بھی کچھ دینی جذبہ رکھتے تھے ، اس لئے بہت سوں نے سر پر پیچ دار پگڑی باندھی اور مسجد میں آ گئے ۔
مولوی صاحب خود بھی اچھی خاصی آن بان میں دکھائی دیئے ۔ سر پر ہری مونگیا دستار ، جسم پر سفید بے داغ شلوار کُرتا اور پاؤں میں نئی جوتی۔ ہاتھوں میں نقشین عصا جس کے نچلے سرے میں لوہے کی شام لگی ہوئی تھی۔ وہ محراب کے قریب کچی زمین میں اپنا عصا اس طرح گاڑتے جیسے دین کا جھنڈا ہو۔
مولوی صاحب اس دن خطبے کی جو کتاب لائے وہ بھی نئی تھی۔ کچھ قرآنی آیات کی تلاوت کے بعد جب وہ سندھی نظم کے اس قصے پر پہنچے جہاں چاروں اصحاب پاک کی ثنا تھی تو نمازیوں کی آنکھیں بھیگنے لگیں ۔
فرض پڑھاتے ہوئے بھی مولوی صاحب نے سورہ رحمٰن کی اثر آفرینی سے نمازیوں کے دلوں کو روحانی انبساط بخشا۔
پھر نماز کے بعد مختصر تقریر میں گوٹھ کے لوگوں کو مبارک باد دی اور ایک پنج وقتہ نمازی کو بھیج کر ستیل اور اس کی گھر والی کو بلوایا جو نہا دھو کر صاف ستھرے کپڑے پہنے مولوی صاحب کی بیٹھک میں موجود تھے ۔
مسجد میں ستیل اور اس کی گھر والی (مائی ٹلی) کو اپنے سامنے بٹھا کر مولوی صاحب نے بلند آواز میں ستیل سے پوچھا، “بابا! تم اور مائی ٹلی اپنی خوشی سے دینِ محمدی قبول کرنا چاہتے ہو؟”
“ہاں مولبی صاحب !”
“اپنی رضا و رغبت کے ساتھ یا کسی زور اور زبردستی سے ؟”
“سائیں ! پوری رجا و رگبت اور کُھشی سے ۔”
“مائی ٹلی! تم بھی؟”
“ہاں سائیں ! میں بھی۔” 
سمٹی سمٹائی مائی ٹلی نے اپنے شوہر کی طرف دیکھتے ہوئے جواب دیا۔ مولوی صاحب نے یہ سن کر حاضرین سے رجوع کیا۔
“سنتے ہو بھائیو!”
“ہاں ہاں سائیں ! ہم سب نے سن لیا۔”
مولوی صاحب نے شہادت کی انگلی چھت کی جانب اُٹھائی اور تین مرتبہ بلند آواز سے کہا،
“اے اللہ ! تُو شاہد رہنا’ اے اللہ! تُو شاہد رہنا’ اے اللہ ! تُو شاہد رہنا”
مولوی صاحب نے اس کے بعد ستیل اور مائی ٹلی کو مبارک باد دی اور بڑی خوش دلی سے پوچھا،
“روزے رکھو گے ؟ نماز پڑھو گے ؟ اور نیک کام کرو گے ؟”
“ہاں ہاں سائیں ! کیوں نہیں جو آپ کرتے ہو وہی کروں گا۔ روجے رکھوں گا، نماج پڑھوں گا۔”
“میری جیسی داڑھی بھی رکھو گے ؟”
“رکھوں گا جرور رکھوں گا۔” ستیل نے سچے دل سے اقرار کیا۔
اچانک مولوی صاحب کی نظر ستیل کے کانوں پر پڑی جن میں سونے کی بالیاں لٹک رہی تھیں ۔
“یہ سونے کی بالیاں اُتار کر مائی کو دے دو۔ اسلام میں مردوں کے لئے سونا پہننا حرام ہے ۔”
ستیل نے یہ سن کر جلدی جلدی گھبراہٹ میں سونے کی بالیاں اُتار کر مائی ٹلی کو دیں جس نے انہیں اپنے دوپٹے کے کونے میں باندھ لیا۔
مولوی صاحب نے ستیل سے اگلا سوال پوچھا،
“جوا نہیں کھیلو گے ؟ دارو نہیں پیو گے ؟”
“نہ سائیں ! اب کبھی نہیں !” ستیل نے عاجزی سے جواب دیا۔
“جزاک اللہ ! جزاک اللہ !” مولوی صاحب نے اسے شاباش دی اور مزید سوالات پوچھنے کی ضرورت محسوس نہ کی بلکہ اس سے کہا،
“تھوڑا سرک کر میرے نزدیک آ جاؤ۔”
ستیل گھسٹ گھسٹ کر مولوی صاحب کے پاس جا بیٹھا تو انھوں نے کلمہ پڑھوایا،
“کہو، لا الہ الا للہ!”
ستیل ٹھیک سے نہ کہہ سکا، رکتے رکتے بولا،
“لا ئیلا”
“ایسے نہیں ” ۔ ۔ ۔ کہو، “لا ۔ ا ۔ لاھ” مولوی صاحب نے ہلکے ہلکے لفظ لفظ کو اس طرح دہرایا جیسے بچوں کو پڑھایا جاتا ہے اور اس طرح ستیل اور مائی ٹلی نے پورا کلمہ توحید تھوڑی سی مشق سے ٹھیک ٹھیک پڑھ لیا۔
سب نمازی ایک بے دین اور اس کی گھر والی کو مسلمان ہوتا دیکھ کر خوشی سے کھل اُٹھے ۔ انھوں نے مولوی صاحب کو مبارک باد دے کر ستیل اور مائی ٹلی کو مبارک باد دی۔ ایک پُر جوش شخص نے تو زور دار نعرہ تکبیر لگایا جس کا جواب حاضرین نے اتنی بلند آواز میں دیا کہ اس کی گونج دُور تک سنائی دی۔ پھر مولوی صاحب نے ستیل کی جانب منہ کر کے کہا،
“آج سے تمہارا نام عبداللہ اور مائی ٹلی کا نام فاطمہ ہو گیا۔”
کچھ لوگ جانے لگے تو مولوی صاحب نے انہیں اشارے سے رکنے کی تاکید کی اور کہا،
“بھائیو! ذرا ٹھہرنا، ابھی ان کا نکاح پڑھانا ہے ۔”
یہ سن کر ہر ایک اپنی جگہ پر جما رہا۔ مولوی صاحب نے دونوں کی مرضی معلوم کی اور نکاح پڑھا دیا۔
——–×-×-×-×-×———-
گوٹھ کے باہر اوڈوں کی جھونپڑیوں میں کھلبلی مچی ہوئی تھی۔ عورتیں اور لڑکیاں الگ الگ ٹولہ بنائے کوسنے دے رہی تھیں ۔
گوڑا    رے گوڑا ہائے گوڑا کا شور تھا۔
مرد اپنے مکھیا پھگن مل کی چارپائی کے چاروں طرف بیٹھے زبردست بحث مباحثے میں مصروف تھے ۔ مکھی پھگن مل بار بار غصے میں اپنی رانوں پر ہاتھ مار کر بڑبڑا رہا تھا۔
اس کو جب اس بات کی سن گن ملی تھی تو ستیل کو بہت سمجھایا اور منتیں کی تھیں ۔ بھگوت گیتا کا واسطہ دیا تھا اور آخر میں پنچایت کے سامنے اپنی چودھراہٹ کی رنگین پگڑی تک ستیل کے پاؤں میں ڈالنے کا تاثر دیا تھا ، مگر ستیل نے صاف صاف جتا دیا تھا،
” مکھیا ! تم کچھ بھی کرو ، میں نے جو کچھ کرنا ہے ضرور کروں گا۔”
“مگر تو اپنا دھرم کیوں بدل رہا ہے ؟”
“میری مرجی۔”
“آخر پھر بھی؟”
ستیل سوچ میں پڑ گیا۔ ایک کھسیانی سی ہنسی اس کے لبوں پر آئی اور اس نے کہا،
“مجھے اپنا دھرم اب اچھا نہیں لگتا۔”
“گوڑا رے گوڑا!۔۔۔ ۔ارے تجھ کو آخر کیوں نہیں اچھا لگتا اپنا دھرم؟”
“اچھا مکھیا! بتا ہم کون ہیں ؟”
“ہم ہندو ہیں ۔”
“اچھا بتا ہندو لاش کو چتا میں جلاتے ہیں ، مسلمان کیوں دفن کرتے ہیں ؟”
“یہ ہماری ریت ہے وہ ان کی ریت ہے ۔”
“اچھا ہم بکرا حلال کر کے کیوں کھاتے ہیں ؟”
“یہ بھی ہماری رسم ہے باپ دادا سے ۔”
“پر یہ تو مسلمانوں کی رسمیں ہیں ۔”
“تو چریا ہے ! یہ رسمیں ان کی بھی ہیں اور ہماری بھی۔”
“پھر تم کیسے کہتے ہو کہ ہم ہندو ہیں ؟”
“نہیں تو کیا ہیں ڑے ! ”
“آدھے ہندو آدھے مسلمان۔ دھڑ دنبہ، گردن بکری”
مکھیا پھگن مل لاجواب سا ہو گیا، مگر اس نے بات کو بدلا،
“بھلے سے ہم کچھ بھی ہیں ۔ پر دھرم کیوں بدلیں ”
“مجھے مسلمانوں کا دھرم پسند ہے ۔”
“تو کیا ہمارا دھرم جھوٹا ہے ؟”
“ہاں جھوٹا ہے ۔” ستیل نے دلیری سے جواب دیا ۔
جس پر پنچایت میں بیٹھے اوڈوں کے لہو نے جوش مارا۔ موتی اور کچھ دوسرے تو ستیل کی پٹائی کرنے آگے بڑھے ، مگر مکھیا نے ہاتھ جوڑ کر روکا اور کہا،
“پنچو! مارنے پیٹنے سے کچھ نہ ہو گا۔ اس کو مسلمانوں نے تاویج (تعویذ) پلائے ہیں ۔”
مکھیا کی یہ بات ان سب کے دلوں میں اس طرح اتر گئی جیسے ان کے پھاوڑے گیلی زمین میں کُھب جاتے ہیں ۔ کئی ملی جُلی آوازیں اُبھریں ،
“مولوی کو بے سک (بے شک) تاویج دینے میں کمال ہے ۔ سبھی تاویج لکھا کر لے جاتے ہیں ۔”
جوش میں کھڑے ہو جانے والے اوڈ اپنی اپنی جگہوں پر بیٹھ گئے اور غصے میں بھر کر زور زور سے چرس کے دم لگانے لگے ۔ مکھیا نے سب کو چُپ دیکھ کر پھر ستیل کی جانب منہ کیا اور پوچھا،
“تجھ کو مسلمانوں کا دھرم کیوں اچھا لگا ہے ؟”
“سب مسلمان بھائی ساتھ ساتھ نماج پڑھتے ہیں ۔ کھانے پینے میں چُھوت چھات نہیں ہوتی۔ ہندو بھی کوئی دھرم ہے ؟ برہمن، کھتری، اوڈ، اچھوت سب الگ الگ۔”
مکھیا حیرت سے ستیل کو دیکھتا رہا اور سوچنے لگا کہ سچ مچ یہ بات تو ہے کہ برہمن ، اچھوتوں اور اوڈوں کو اپنے پاس نہیں آنے دیتے ۔ ایک تھالی میں کھانا تو بہت دور کی بات ہے ۔ مسلمان تو ایسا نہیں کرتے ۔
اب مکھیا نے دوسری چال چلی اور کہا،
“ستیل تُو مسلمان ہو جائے گا تو ہم سے تیرا کوئی واسطہ نہیں رہے گا۔”
“نا رہے ، ہاں ہاں نہ رہے ۔”
“ہم تجھے اپنے پاس بھی نہیں آنے دیں گے ۔ ولر کے پاس بھی نہیں ۔” مکھیا نے ستیل کو دھمکی دی۔ ولر کی گھر والی ستیل کی سگی بہن تھی۔
“دھمکی کسے دیتے ہو، ہاں ہاں نہ آنے دینا۔ میں مسلمان بھائیوں کے ساتھ اٹھوں بیٹھوں گا اور سمجھوں گا کہ بہن مر گئی۔”
اتنی بڑی بات سُن کر مکھیا نے ٹھنڈے انداز میں بات کی۔ اسے یقین تھا کہ ستیل کہیں نہ کہیں ہار کر اس کے جال میں آ جائے گا، مگر جب کوئی چال کامیاب نہ ہوئی تو مکھی پر جھنجھلاہٹ سوار ہو گئی،
“یاد رکھنا ستیل! گدھوں پر چاہے پانچ زینیں کس کر گھوڑوں میں بٹھا دو تو بھی گدھے ہی رہیں گے ، گھوڑا نہیں بن جائیں گے ۔”
پنچایت اُٹھنے کے بعد مکھیا نے ولر کو سمجھایا تھا کہ پگڑی کا واسطہ دے کر ستیل کی منت سماجت کرنا کہ اپنا دھرم نہ چھوڑے ، لیکن ستیل پر اپنے بہن بہنوئی کی منتوں کا بھی کوئی اثر نہ پڑا اور وہ مولوی امید علی سے طے شدہ وقت پر جمعہ کے دن گھر والی کو لے کر سیدھا مسجد چلا گیا اور کلمہ پڑھ کر باقاعدہ داخلِ اسلام ہو گیا۔
۔—–×-×-×-×-×——
مسلمان ہونے کے بعد ستیل کافی بدل گیا تھا۔ پہلے وہ ہر دوسرے تیسرے دن داڑھی نہ منڈاتا تو اسے چین نہ آتا۔ اب اس نے باقاعدہ داڑھی رکھ لی تھی جو اس کے بھرے بھرے چہرے پر بڑی سجتی تھی۔ نماز پڑھنے مولوی صاحب سے بھی پہلے مسجد میں آ جاتا۔ جھاڑو دینا، پانی کے گھڑے بھرنا اور بڑے ذوق و شوق سے عربی پڑھنا اس کے معمولات میں شامل ہو گیا۔
مولوی صاحب کو بھی اس سے پہلے کسی غیر مسلم کے مسلمان بنانے کی سعادت نصیب نہیں ہوئی تھی، اس لئے وہ بہت خوش تھے اور آتے جاتے تعریف کرتے ،
“بھائی ! یہ اپنا عبداللہ کتنا نیک اور کیسا محنتی مسلمان ہے ۔”
کبھی کبھی مولوی صاحب کسی بے نمازی کو اللہ ، رسول اور آخرت کا وعظ دیتے تو عبداللہ کی مثال دے کر کہتے ،
“ارے ! نماز پڑھو، ذکر کرو، نہیں تو قیامت کے دن یہ اوڈ تمہاری مسلمانی کو شکی کر دے گا۔”
عبداللہ کا دینی ذوق و شوق اور مسلمانوں سے سچی ہمدردی کے جذبے کو دیکھ کر مولوی صاحب اس کی دلداری کرتے اور کہتے تھے ،
“عبداللہ! گھبرانا مت۔ رب سائیں تمہارے گناہ معاف کرے گا۔ صبح کو بھولا شام کو لوٹ آتا ہے تو اسے بھولا نہیں کہتے ۔”
عبداللہ بھی مولوی صاحب کی شفقت سے بہت متاثر تھا۔ وہ عرض کرتا،
“سائیں ! آپ اللہ کے پیارے بندوں میں ہیں ، میرے لئے دعا کرو کہ پچھلے گناہ معاف ہو جائیں ۔”
مولوی صاحب فوراً ہاتھ اُٹھا کر دُعا کرتے اور دعا میں بڑی عاجزی سے کچھ شعر بھی پڑھتے ،
“عرض سن ہم عاصیوں کی مصطفے ٰ کے واسطے ”
اس دوران عبداللہ والہانہ سے انداز میں برابر آمین آمین کہتا رہتا اور اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ بہہ کر داڑھی میں جذب ہوتے رہتے ۔
—–×-×-×-×-×——
ایک دن عصر کی نماز سے کچھ پہلے اس کا بھانجا “بھابھیو” بھاگتا ہوا آیا اور اپنی ماں کی بیماری کا حال بتایا۔ عبداللہ کو پہلے ہی خبر مل گئی تھی، مگر مکھیا پھگن مل سے کئے گئے فیصلے کا خیال کر کے وہ نہیں گیا حالانکہ بہن کی بیماری کا اسے صدمہ تو بہت تھا۔ اس نے بھابھیو سے کہا،
“میں نہیں جاؤں گا۔ مکھیا غصہ کرے گا۔ تُو بیل گاڑی میں اسے ادھر لے آ۔”
بھابھیو نے یہ عذر سن کر بتایا،
“ماما! تُو اس بات کی فکر نہ کر۔ بابا نے مکھیا کو راجی کر لیا ہے کہ تھوڑی دیر کے لئے آتا ہے تو آ جائے ۔”
عبداللہ کے خون نے جوش مارا اور وہ بھانجے کے ساتھ اپنی بہن کو دیکھنے چلا گیا۔ عصر کی نماز پر جب مولوی صاحب نے عبداللہ کو نہ دیکھا تو حیران ہو گئے اور نمازیوں سے پوچھا۔ ان میں سے ایک نے عبداللہ کو نمازیوں کے ساتھ جاتے ہوئے دیکھا تھا اور یہ بھی معلوم تھا کہ بہن بیمار ہے ۔
مولوی صاحب کو عبداللہ کا وہاں جانا اچھا نہیں لگا اور کہنے لگے ،
“اسے نہیں جانا چاہئے تھا۔ جتنی دیر کافروں کی صحبت میں بیٹھے گا، ایمان میں کمزوری پیدا ہو گی۔ کوئی جا کر اسے لے آئے ۔”
مولوی صاحب کا حکم سن کر فتح ناریجو اُٹھا اور جلدی جلدی قدم اُٹھاتا اوڈوں کی جھونپڑیوں کے علاقے میں داخل ہوا جہاں چاروں طرف نوکیلے کانٹوں کی باڑھ تھی۔ اس نے باہر ہی سے آواز دی،
“عبداللہ ، او عبداللہ!”
مکھیا پھگن مل کا جھونپڑا باڑھ کے پاس ہی تھا۔ وہ اس وقت باہر سے آئے ہوئے مہمان کے ساتھ چوپڑ کھیل رہا تھا۔ آواز سن کر اٹھا اور باہر نکل کر فتح ناریجو سے پوچھا،
“کیا ہے فتح؟”
“ہمارا عبداللہ تمہارے پاس آیا ہے ، اس کو مولوی صاحب بلا رہے ہیں ۔”
مکھیا اس بات پر چڑ سا گیا۔ عبداللہ جو اِن کی ہڈیوں اور خون میں سے تھا، جو جھونپڑیوں میں پیدا ہوا، پلا بڑھا وہ فتح والوں کا کیسے ہو گیا؟ مگر مکھی نے شوخی سے پوچھا،
“عبداللہ تمہارا ہے ، فتح؟”
“ہاں ڑے ! ہمارا ہے ۔”
“تم اس کے وارث ہو؟”
“ہاں ہاں ہمارا مسلمان بھائی! ہم اس کے وارث ہیں ۔”
اسی عرصے میں عبداللہ کو بھی کسی نے فتح ناریجو کے آنے کی اطلاع دی اور وہ بیمار بہن کے جھونپڑے سے نکل کر وہیں آ کر بیٹھ گیا۔
مکھیا نے فتح سے پوچھا،
“اچھا فتح ، ایک بات بتا۔ کل جو یہ مر جائے تو اس کی گھر والی کو دھکے دے کر تو نہیں نکالو گے نا؟”
“کیوں نکالیں گے دھکے دے کر؟”
“تم مسلمان اس سے نکاح کر لو گے ؟”
“اگر راضی ہو گی تو اس میں کوئی عیب کی بات نہیں ۔”
“گھن اور نفرت نہیں ہو گی تمہیں اس سے ؟”
“گھن اور نفرت کیوں ہو گی، اب تو یہ بھی مسلمان ہے ۔”
عبداللہ سوال و جواب میں مکھیا کو ہارتا ہوا دیکھ کر مسکرانے لگا۔ مکھیا کو سخت ناگوار گذرا اور وہ اس طرح اپنے سر کو تھپکی دینے لگا جس طرح چوپڑ میں کسی کو گوٹ مارنے کے لئے سر اور ماتھے کو تھپ تھپاتا تھا۔ اچانک اس نے پوچھا،
“اچھا فتح! اگر اس کی بیوی مر جائے تو اس کی شادی اپنے گھرانے میں کر دو گے ؟”
مکھیا کا سوال سن کر فتح کا منہ سرخ ہو گیا۔ آنکھوں میں حقارت و نفرت کا تاثر ابھرا اور اسے ایسا لگا جیسے ایک خسیس اور نیچ اوڈ نے اسے بہت بڑی گالی دے دی ہو۔
مکھی انے دکھتی رگ پر ہاتھ رکھ دیا تھا۔ وہ جانتا تھا کہ دیہات میں کوئی اپنی ذات سے باہر لڑکی نہیں دیتا۔ ناریجو ناریجوں ، کلہوڑے کلہوڑوں میں لڑکی کا رشتہ کرتے ہیں ۔ مکھیا ڈرنے کی بجائے مسکرانے لگااور فتح سے کہا،
“یہ کون سے قانون میں لکھا ہے کہ تم لو گے ، مگر دو گے نہیں ۔ اسلام میں تو سب مسلمان بھائی بھائی ہیں نا؟”
“یہ ہماری رسم ہے بابا ،دادا سے ۔” فتح ناریجو غصے میں گرجا۔
مکھیا اپنی چال میں کامیاب ہوا۔ عبداللہ کے چہرے پر عجیب سا کرب نمایاں ہوا۔ اس کے ہونٹ کانپنے لگے اور آنکھوں میں موٹے موٹے آنسو تیرنے لگے ۔ اس نے کسی سے کچھ نہ کہا، بس مکھیا کے ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر اوڈوں کے جھونپڑوں کی جانب پلٹ گیا۔
 

(احمد نسیم کھرل)

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔