میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

ہفتہ، 11 اکتوبر، 2014

برداشتہ مگرداشتہ

ہم وہ قوموں کا ریوڑ ہیں ، جسے ایک قوم کا نام دیا ہے  لیکن ،
جو دکھوں کی نگری میں رہتی ہے اور
دکھ بھری داستانیں شوق سے سنتی ہے ۔
ہر داستان کو ہم اپنے دکھ کے سمندر میں غوطہ دلوا کر،
اُسے یہ جتانا چاہتے ہیں کہ ہمارا دکھ عظیم ہے ،
اور تمھارا دکھ کم
دکھوں کی اِس چتا میں ہم سب کو جلانے کے لئے تیار ہیں
 سوائے اپنے دکھوں کے ۔
ہمیں خوشی کے لمحات صرف اُس وقت میسر آتے ہیں
جب ہم یہ سنتے ہیں
کہ واقعی آپ پر دکھ کے پہاڑ ٹوٹے ہیں ۔
نہ معلوم دکھوں کی اس عینک کو پہن کر ہم کیا ثابت کرنا چاہتے ہیں ؟
شاید خود کو عظیم دکھ برداشتہ  
لیکن ہم یہ نہیں جانتے کہ دنیا ہماری عینک پہننے کے لئے تیار نہیں
اور نہ ہی دنیا ہمارے دکھوں کو سننے کے لئے کان کھولے بیٹھی ہے ۔
کیوں کہ ہم خود ہی فریادی ہیں ۔
خود ہی منصف اور
خود ہی جلاد ۔
شاید یہ جلادی ذہنیت ہے جو ہم کو کسی کی خوشی میں شامل ہونے نہیں دیتی ،
یا شاید ہم خود ہی شامل نہیں ہوتا چاہتے
یا پھر ہم چاہتے ہیں کہ ہم مرکز ہوں اور ساری دنیا ہمارے ارد گرد ناچے ۔
جیسے دیوداسیاں کسی پتھر کی مورت کے گرد ناچتی ہیں
اور پتھر کو کسی قسم کا ارتعاش محسوس نہیں ہوتا ۔
نہ پاؤں کی دھمک سنائی دیتی ہے اور
نہ فضا میں پھیلی ہوئی خوشبو 
نہ ہی نوخیز جسموں کی مہک
جو باعث خطرہ ایمان ہے ۔
کیا کریں  ہم سب پڑھایا ہی یہی گیا ہے ۔
یہی بتایا گیا ہے ۔
کہ ہر بات میں اپنی رائے دو ۔
ھرٹانگ میں اپنی ٹانگ اڑاؤ
دادا کو سمجھاؤ کہ بچے کیسے بیدا ہوتے ہیں اور
محلہ کمیٹی کا صدر نشین بننا نصیب نہیں ہوتا ۔
ریاست کے صدر کو بتاؤ ، کہ ریاست کیسے چلائی جاتی ہے ۔
آہ،  نوبل  انعام دینے والی کمیٹی کتنی بے وقوف ہے ، 
انہیں انعام دینے کے طریقے نہیں معلوم ۔
انہیں یہ نہیں معلوم کہ ایک قوم ہے جس میں  اٹھارہ کروڑ  کے اٹھارہ کرو  دانش  ور ہیں ،
ایسے دانش ور  جو   برداشتہ ہیں مگر داشتہ کے طور پر ،

4 تبصرے:

  1. بهائي صاحب يه بات كل مين كمنتس مين تحرير كر جكي هون كه يه اك منفرد اعزاز هي نوبل انعام كي تاريخ مين جو اس كمسن باكستاني دختر كو ملا هي !! يه اعزاز بهي هضم نهين هورها هي هماري يهان سي قوم ختم هوكًئي صرف اك جنكًل مين مختلف النوع زبانين بواني والي انسان نما حيوانات هين كسي موت بر غم ، ملتان كو هي ديكهو بنده مر رهي هين زنده يا مرده سنني لازم هي

    جواب دیںحذف کریں
  2. داشته يا برداشته كالم انسان كو تلاش كر رها هي ! كهان هين وه باكستاني جو ابني اعزاز بر خوش هي هو جائين ؟؟؟ اور كهان هين وهانسان جو ملتان كي مرني والون كا غم كمازكم محسوس كر سكين ' سياست كا لازمه لاشون كو بنا ليا ،

    جواب دیںحذف کریں
  3. كراجي كي باسيون ني جتني لاشين اتهائي هين وه تو عبرتناك هين "" مكًر هماري بهائي لوكًمرني والون كا غم ضرور ب اهتمام مناتي هين جب سي بنجاب كو نشانه بنايا هي وهان تو مرني والون كو انسان بهي نهي مانا جاتا هي ،، بنجاب كو تو شائيد وحشت زده بنا ني كي كوشش هي ،، سب سي زياده دكه كي بات هي كه امر كي كًود مين كهيلني والي ساري بيغيرتي كي انتها كو بهنج كًئي هين

    جواب دیںحذف کریں
  4. ارے ملالہ اور اس کے والد نے جو کیا ہے وہ آپ لوگ بھی کر لو تو آپ کو بھی نوبل انعام مل جائے گا ۔۔۔
    ایدھی صاحب کو کیسے مل سکتا تھا یہ انعام انکی تو شرعی داڑھی ہے جبکہ یہ انعام تو داڑھی سے نفرت کرنے والے کو ملا کرتا ہے ۔۔۔۔
    تو پھیر آپ خود کو تیار کرو اگلے نوبل انعام کے لئے ۔۔۔ آج سے ہی خوب جم کے اسلام کے اور سچے مسلمانوں کے خلاف لکھو اور بولو کسی کو تین چار ہزار روپیہ دے کر خود پر جھوٹی فائرنگ کرواؤ اور یاد رہے فائرنگ کرنے والوں کی داڑھیاں ہونی چاہیئں تاکہ اچھا تاثر قائم ہو سکے ۔۔۔۔۔
    کیا ؟؟؟؟ نہ جی نہ میں یہ سب نہیں کر سکتا میں غیرت مند ہی ٹھیک ہوں ذلیل ہو کر انعام حاصل کرنے کا مجھے کوئی شوق نہیں ۔۔۔۔

    جواب دیںحذف کریں

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔