میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

ہفتہ، 18 اکتوبر، 2014

ملالہ کو نوبل انعام کیوں ملا ہے ؟


ملالہ یوسف زئی سوات کی رہنے والی سترہ سالہ  ، تعلیم کی شوقین لڑکی کو  ہندوستانی انسان دوست ، کیلاش ستیارتھی کے ساتھ نوبل انعام کے لئے نامزد کردیا ۔ پاکستان کے کسی فرد کو ملنے والا یہ دوسرا نوبل انعام ہے ۔

21 اکتوبر  
1833میں سویڈن میں پیدا ہونے والا، 355 ایجادات کا مالک ، اور سب سے اہم ایجاد ڈائینامائیٹ   کا خالق  ، الفریڈ نوبل نے ، خود کو یاد رکھنے کے لئے 10 دسمبر 1896 میں  بعد از مرگ اپنی کئی وصیتوں میں سے ایک ،  اپنے نام سے جاری کئے جانے والے انعام " نوبل " کے لئے بھی کی تھی ۔ یوں 26اپریل 1897 میں ناروے   میں نوبل فاونڈیشن  کی بنیاد پڑی ۔ جس میں الفریڈ نوبل نے اپنے ذاتی ،  کل اثاثوں کا 94 فیصد  نوبل انعام  یافتگان کے لئے مخصوص کر دیا گیا ۔
یہ انعام کسی خاص وابستگی ، کی وجہ سے نہیں دیا جاتا اور نہ ہی اس کا یک دم فیصلہ کیا جاتا ہے ۔ یہ ایک شفاف طریق کار کی بدولت ،  انعام یافتگان تک پہنچتا ہے ۔ یہ ناروے کا کسی اور حکومت کے دباؤ سے کلی آزادانہ طریقے کا حامل ایوارڈ ہے ۔
نوبل انعام  لینے والی پاکستانی ملالہ یوسف زئی اور کیلاش ناتھی سمیت کئی افراد کے نام اس ایوارڈ کے لئے آئے تھے ، ممکن تھا کہ اگر ملالہ کی نامزدگی نہ ہوئی ہوتی تو یہ ایوارڈ ، کیلاش نارتھی کو ملتا ، تو ایسی صورت میں ہمارے ملک میں ، بغض و انا کا وہ سونامی نہ اٹھتا جو آج کل ، اخباروں کے علاوہ سوشل میڈیا میں زور شور سے موجیں مار رہا ہے ۔

عبدالستار  ایدھی ،یا  دیگر افراد کو ہم ، قومی سطح پر کتنی فوقیت اور شہرت دے رہے ہیں ، میڈیا کے اِس دور میں انسانی کام کرنے والوں کی شہرت ہی انہیں دنیا میں ممتاز بناتی ہے۔ بغض و عناد کے پاکستانی ماحول میں ہم  عبدالستار ایدھی کو سند مشینیں بانٹ کر تصویریں کھنچوانے والوں  سے بھی کم تر گردانتے ہیں ۔جب ہم انہیں پرکاہ برابر نہیں سمجھتے تو دنیا کیا خاک ان پر توجہ دے گی ؟

ملالہ ، کو شہرت دینے میں اُس کی ڈائری کا ہاتھ تھا جو اُس (یا اُس کے والد)نے گل مکئی کے قلمی نام سے  گیارہ سال کی عمر میں ، بی بی سی کے  بلاگ لئے  3 جنوری 2009 میں لکھی ، خیالات اُس کے والد کے ہو سکتے ہیں لیکن تحریر  اُس کی اپنی  تھی ،  بچگانہ پختگی کی تحریر ، جیسے میں اپنے بچوں کے لئے تقریر لکھتا ، وہ اُسے اپنے تحریر میں منتقل کرتے ، سٹیج پر جاتے اور پہلا انعام حاصل کرتے ۔ ایک باپ اپنی اولاد کی تربیت اِسی طرح کرتا ہے ، جو اپنی اولاد کا تعلیمی اور سماجی قد اپنے سے بلند دیکھنا چاھتا ہے ۔ کیوں کہ بچے  یا بچی کا پہلا استا د اور استانی اُس کے ماں اور باپ ہوتے ہیں ۔
ڈائری لکھنے  کے لئے اُسی کے سکول کی ایک بچی عائشہ جو اُس سے چارل سال بڑی تھی کا انتخاب ، کیا گیا مگر سوات میں " فضل اللہ " کی دہشت کے سبب عائشہ کے والدین نے منع کردیا ۔ یوں  ساتویں جماعت میں پڑھنے والی ملالہ  کا انتخاب اُس کے والد نے کیا ۔
ڈائری کے چھپتے ہی ، گل مکئی کی شہرت  عالمی کینوس پر پھیلتی رہی ، جو صرف اور صرف تعلیم کی دلداہ تھی اور اپنی جیسی کئی بچیوں کا درد ، کاغذپر منتقل کر رہی تھی تاکہ دنیا جہالت کے اُس عفریت کو روکے جو  سوات میں تیزی سے اپنی جہالت کے پنجے گاڑ رہا تھا ۔ 18 فروری 2009کو " کیپیٹل ٹاک " میں حامد میر کے پروگرام میں اپنی تعلیم کے لئے فکر مند ہونے والی بچی کا تعارف ، ملالہ کے نام سے کرایا گیا ، جس کو ایک  گیارہ سالہ بچی کی خواہش سمجھ کر  لوگوں نے زیادہ توجہ نہ دی ، لیکن آہستہ آہستہ اخباروں میں ملالہ کے بارے میں چھپنے والے مضمونوں نے پاکستانیوں کے ذہنوں میں ، سوات کی مشکلات نے جگہ بنانی شروع کر دی ۔ غیر ملکی اخبارات نے ، سوات میں لڑکیوں کی تعلیم کی حامی ملالہ کے بارے میں دنیا کو بتانا شروع کر دیا ۔ دنیا صوبہ خیبر پختون خواہ میں لڑکیوں کی ناخواندگی کے بارے میں اچھی طرح واقف تھی ، اُن کی خواہش تھی کہ دنیا کی لڑکیوں کی طرح نہ سہی پاکستا ن کی ہی بچیوں کی طرح ، یہ بچیاں بھی تعلیم کے زیور سے آشنا ء ہوں ۔
19 اگست 2009 میں ملالہ اہک بار پھر
" کیپیٹل ٹاک " پاکستان کے عوام کو نظر آئی ۔ اپنے ننھے ننھے قدم اٹھاتی ، سوات کی یہ بہادر بچی دوسری بہادر بچیوں سے ساتھ ، طالبان کی دھمکیوں کی پرواہ نہ کرتے ہوئے اپنے تعلیمی سفر  کے ساتھ سوات  کی بچیوں  کی بھی ہمت بڑھا رہی تھی ۔ 19 دسبر 2011 میں حکومتِ پاکستان نے اسے  نیشنل یوتھ پیس پرائز سے نوازا لیکن اس سے دو مہینے پہلے اُسے انٹر نیشنل چلڈرن پیس پرائز کے لئے بھی نامزد کیا جا چکا تھا ۔
ملالہ 2102 کے اوائل میں سوات کے بچوں کے لئے   تعلیم کا ایک پرچم بن چکی تھی ،
کیوں کہ وزیر اعظم پاکستان نے اُس کے نام سےسوات ڈگری کالج برائے خواتین میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کیمپس کھولنے کا پروگرام  جاری کیا ۔ 
9 اکتوبر 1912 میں ، چودہ سالہ ملالہ  پر قاتلانہ حملے کی خبر پوری دنیا میں دکھ سے سنی گئی ۔گل مکئی کو فوجی ہیلی کاپٹر پر سوات سے  سی ایم ایچ پشاور منتقل کیا گیا ، پھر وہاں سے راولپنڈی اور بالآخر 15 اکتوبر 2012 کو اُسے برطانیہ ، کوئین الزبتھ ہاسپٹل برمنگھم لے جایا گیا ۔ پوری دنیا سے اُس کے علاج کے لئے ، انسانوں نے دعاؤں کے علاوہ رقوم  اُس کے علاج کے لئے بھیجنا شروع کر دیں ۔ 17 اکتوبر کو وہ کوما سے نکلی اور زندگی و موت سے مقابلہ کرتے کرتے  8 اکتوبر کو اُس نے دنیا کی دعاؤں کا شکریہ ادا کرنے کے لئے اپنے خاندان کے ساتھ تصویر کھنچوائی ، 3 جنوری  2013کو وہ ہسپتال سے گھر منتقل ہو گئی اور
2 فروری کو اُس کے سر کا دوبارہ آپریشن ہو ا ، مارچ 2013 کو وہ دوبارہ  سکول جاکر بیٹھنے کے قابل ہوئی ۔
سوات میں اپنی تعلیم کے خواب دیکھنے والی ، لڑکی حوادِث کے سہارے لندن جا پہنچی اور بین الاقوامی توجہ کا مرکز سوات کی ایک مظلوم عورت کے نمائندہ کی حیثیت سے بنی جس کی اولین ترجیح  سوات کی خواتین کی تعلیم تھی ۔ 
طالبان  کی طرف سے ایک نہتی اور معصوم بچی پر چلائی جانے والی، ایک گولی جس پر اُس کی قضا نہیں لکھی  تھی ۔ اُس نے ملالہ کو وہ اہمیت دلائی ، جو انسانی کام کرنے والی شخصیات کو ادھیڑ عمری کے بعد ملتی ہے ۔   ملالہ نے اپنی سولہویں سالگرہ پر اقوام متحدہ سے خطاب کیا۔ اس دن کو اقوام متحدہ کی طرف سے ملالہ ڈے کا نام دیا گیا۔
۔

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔