میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

ہفتہ، 11 اکتوبر، 2014

گوشت خور پرندے ،برادری ، مسلک اور ذاتیں

کہا کسی درد مند  نوجوان محقق نے :

یہ بہت ہی قابل تحسین بات ہے کہ

پرندوں کا کوئی مذہب مسلک اور ذات برادری نہیں ہوتی۔
'
لکھا ہم نے :

پرندوں کی ذاتیں بھی ہیں ، مسلک بھی ہے اور برادری بھی ۔ نوجوان !
پرندے خالقِ کائینات کی ایک وسیع ملکت کے باسی ہیں ۔

ان کی تین بڑی برادریاں ہیں ۔
٭ - گوشت خور برادری 
٭ - سبزہ و دانہ خور برادری
٭ - گوشت ، سبزہ و دانہ خور برادری ،
'
گوشت خور برادری کے دو بڑے مسلک ہیں :-
٭ - چیر پھاڑ کر کھانے والے ۔
٭ - سموچا کھانے والے ۔
'
چیر پھاڑ کر کھانے والوں کی دو ذاتیں ہیں ۔
٭ - تازہ گوشت کھانے والے ۔
٭ - مردار گوشت کھانے والے ۔


بس اب آپ کی اختلاف رائے کا انتظار ہے  ؟


خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔