میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

منگل، 28 اکتوبر، 2014

ایڈز سے ایبولا تک



1986 سے پہلے ایڈز نے دنیا میں اک خطرے کی لہر دوڑا دی -  جو نزلہ ،   گلے کی خرابی، بخار ، پیٹ کا درد ،  جسم پر سرخ نشانات ، گلے اور شرمگاہ میں  خارش، عضلات میں درد  اوروزن میں کمی - 
A diagram of a human torso labelled with the most common symptoms of an acute HIV infection
اب دنیا  ایبولا وا ئریس  کے شور سے جاگ اٹھی ہے جس  وجہ سے مغربی افریقہ میں ایبولاوائریس سے  2600 افراداس کا شکار ہو کرموت کے منہ جا چکے ہیں ۔ جن میں سوڈان ، یو گنڈا ، کانگو ،  گونیا ، لائبیریا ، نائجیریا  اور سیرا لیون شامل ہیں ۔




ایڈز پر تو جلد ہی قابو پا لیا ، لیکن یہ بیماری انسان کے ہاتھوں آنے والی اُن مہلک بیماریوں کی شروعات ہیں جو انسان نے انسانوں کو ہی تباہ  کنے والے جرثوموں کا نتیجہ ہیں جو امریکن لیباٹریوں میں پالے گئے اور اُن کی ھلاکت خیزی کا نتیجہ دیکھنے کے لئے خاموشی سے اِن افریقی علاقوں میں  استعمال کئے گئے ۔ #Ebolavirus developed by US Bio-warfare lab, says US don 

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔