میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

جمعرات، 9 اکتوبر، 2014

چے گویرا

آج پوری دنیا میں انقلابی نوجوان، حریت پسند اور محنت کش چے گویرا کی برسی منا رہے ہیں۔8اکتوبر1967ء کوCIAکی اطلاع پربولیویا کے 1800سے زائد سپاہیوں نے ’یورو روائن‘کے علاقے میں واقع چے گویرا کے گوریلا کیمپ کا محاصرہ کر لیا۔چے کے بہت سے ساتھی اس لڑائی میں مارے گئے اور وہ خود، دو گولیاں لگنے سے شدید زخمی ہوگیاجس کے بعد اسے گرفتار کر کے ’لا ہیگویرا‘ میں واقع عارضی فوجی چوکی میں لایا گیا۔گرفتاری کے بعد چے نے انٹیلی جنس افسروں کے کسی سوال کا جواب دینے سے انکار کر دیا۔اگلے دن 9اکتوبر کی دوپہر کو بولیویا کے صدر رین بیرینٹوس کے حکم پر، چے کو گولی مار کے قتل کر دیا گیا۔مرنے سے کچھ منٹ پہلے ایک بولیوین سپاہی نے چے سے پوچھا ’’کیا تم اپنی لافانی زندگی کے بارے میں سوچ رہے ہو؟‘‘،
چے نے جواب دیا ’’نہیں! میں انقلاب کی لا فانیت کے بارے میں سوچ رہا ہوں‘‘۔
چے گویرا کے آخری الفاظ کچھ یوں تھے ’’میں جانتا ہوں تم مجھے مارنے کے لئے آئے ہو۔ گولی چلاؤ بزدل! تم صرف ایک انسان کی جان لے رہے ہو!‘‘۔

ہر بڑے انقلابی کی طرح چے گویراکی شخصیت، کردار اور زندگی کو بھی مسخ کرنے کی بھرپور کوشش کی گئی ہے۔حکمران طبقات کے ساتھ ساتھ بائیں بازو کے اصلاح پسند ’’دانشور‘‘ بھی کردار کشی کی ان بھونڈی کوششوں میں برابر کے شریک ہیں۔چے کی برسی پر اس عظیم انقلابی کوخراجِ عقیدت پیش کرنےکا اس سے بہتر طریقہ کوئی نہیں ہو سکتا کہ ان نظریات کو سمجھا جائے جن کے لئے وہ جیا، لڑا اور اپنی جان قربان کر دی۔
 لینن نے ’’ریاست اور انقلاب‘‘ میں لکھاتھا
’’تاریخ کے اس سفر میں جو کچھ آج مارکسز م کے ساتھ ہو رہاہے،یہ ہرگز کوئی نئی بات نہیں ہے؛ہر دور کے انقلابی مفکروں کے نظریات اورعوام کی نجات کے آدرش کیلئے لڑنے والوں کے ساتھ یہی بار بار ہوتاچلاآرہاہے۔سبھی انقلابیوں کی زندگیوں میں استحصالی طبقات وحشی کتوں کی طرح ان پر ٹوٹ پڑنے کو دوڑتے ہیں،ان کے نظریات کو انتہائی غلاظت اور گندگی میں لتھاڑکر پیش کیا جاتا ہے،بدترین بہتانوں اورذلت آمیز دشنام طرازی کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع کردیاجاتاہے۔اور جب یہ مرجاتے ہیں تو کوششیں شروع کر دی جاتی ہیں کہ ان کو ایک بے ضررقسم کا انسان بنا کر پیش کیاجائے،ان کے بارے اور ان کے حوالے سے اس قسم کی داستانیں تخلیق کی جاتی ہیں اور ان کو کیا سے کیا بناکے پیش کیا جاتا ہے اور وہ بھی اس انداز میں کہ وہ انسان نہیں کچھ اور شے تھے،اور یوں اس طریقے سے ایسے لوگ سب کچھ قرار پاجاتے ہیں سوائے اس کے کہ انہوں نے اپنی زندگیاں محروم اور درماندہ انسانوں کی زندگیاں بدلنے کیلئے وقف کر دی ہوئی تھیں۔ مقصد اس قسم کی زیب داستان کا ایک ہی ہوتا ہے کہ استحصال زدگان کو دھوکے فریب اور سحر میں مبتلا کر دیا جائے،اور ان بڑے انسانوں کے انقلابی آدرشوں اور نظریات پر مٹی ڈال دی جائے،ان کے انقلابی تشخص کو بیہودہ طریقے سے بگاڑ دیاجاتا ہے۔‘‘
اپنی موت کے بعد چے گویرا سوشلسٹ انقلابی تحریکوں کے ہیرو اور جدید پاپ کلچر کے نمائندے کے طورپر ابھرا ،
البرٹو کورڈا کی بنائے ہوئے چے کے فوٹونے بہت شہرت پائی اور دنیا بھر میں ٹی شرٹوں،احتجاجی بینروں پر یہ فوٹو نمایاں ہوتاجارہاہے اور یوں چے گویرا ہمارے عہد کا معتبر و معروف انسان بن چکاہے۔لینن کی موت کے بعد سٹالن اور زینوویف کی قیادت میں لینن کا تشخص ابھارنا شروع کر دیاگیا۔کروپسکایا(لینن کی بیوی) کی خواہش کے برعکس لینن کی میت کو ریڈسکوائر میں سجاکر مرجع خلائق بنانے کیلئے رکھ دیاگیا تاکہ عوام اس کا آخری دیدار کر سکیں۔کروپسکایا نے بعد میں کہاتھا
’’ لینن جس شخصیت پرستی کے خلاف عمربھر لڑتا رہا،اسے مرنے کے بعد اسی شخصیت پرستی کی سولی پر لٹکادیاگیا۔‘‘

نومبر2005ء میں جرمنی کے جریدے
Der Spiegel میں یورپ کے ’’پرامن انقلابیوں ‘‘پر ایک مضمون شائع ہواتھا جس میں ایسے انقلابیوں کو ’’گاندھی‘‘اور ’’گویرا‘‘ کے وارث قراردیاگیا۔ یہ ایک شعوری بیہودگی ہے۔ہمیں چے گویراکوایسے لوگوں سے بچانے کیلئے ایک سوسائٹی تشکیل دینی ہو گی جن کا مارکسزم سے طبقاتی جدوجہد اور سوشلسٹ انقلاب سے کوئی تعلق واسطہ نہیں ہے۔اور جو چے گویرا کی ایک انتہائی غلط تصویر کشی کر رہے ہیں اور اسے ایک انقلابی صوفی درویش ثابت کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔اسے ایک رومانس پسند مڈل کلاسیا،ایک انارکسسٹ،گاندھی کا ایک امن پسندپیروکار،اور اسی نوعیت کے دوسرے تشخص فراہم کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ہمارا اس عظیم اور سچے انقلابی سے وہی رشتہ اور ناطہ ہے جو لینن کا روزالگزمبرگ کے ساتھ تھا۔لینن نے روزا کی مارکسزم بارے غلطیوں پرتنقید میں کبھی کوئی رعایت نہیں کی تھی اور لینن نے ہمیشہ روزا کو ایک سچی انقلابی اور انٹرنیشنلسٹ کے طورپر ہمیشہ عزت واحترام کا درجہ دیا۔ اصلاح پسندوں اور منشویکوں کی طرف سے کئے گئے حملوں کے جواب میں لینن نے روزا کو ان الفاظ میں یادکیا؛

’’ہم یہاں ان لوگوں کو روس کی ایک قدیم کہاوت کے حوالے سے جواب دینا پسند کریں گے جس میں کہاگیا ہے کہ یہ تو ہو سکتاہے کہ بعض اوقات شاہین نیچی پروازکرتے ہوئے مرغیوں کے برابرآجائیں لیکن ایسا نہیں ہوتا کہ مرغیاں پوری کوشش کر کے بھی شاہین کی بلندیوں کو پہنچنے کا تصور بھی کر سکیں۔ اپنی غلطیوں کے باوجود،روزا،ہمارے لئے شاہین کا درجہ رکھتی تھی،ہے اور رہے گی۔نہ صرف یہ کہ دنیا بھر کے کمیونسٹ ا س کی یاد وں سے اپنے آدرشوں کوہمیشہ منور رکھیں گے بلکہ اس کی سوانح عمری اور اس کا لکھا ہوا ہر لفظ دنیابھر میں کمیونسٹوں کی اگلی نسلوں کی بھرپور رہنمائی کرے گا۔4اگست1914سے جرمن سوشل ڈیموکریسی ایک تعفن زدہ لاش بن چکی ہے۔یہی ایک بیان بھی روزاکوعالمی محنت کش تحریک میں شہرت دینے کیلئے کافی ہوگا۔یقینی طورپر عالمی مزدور تحریک کے پچھواڑے میں واقع ڈربے میں سے پال لیوی،شیڈمین،کاٹسکی اور ان جیسے مرغی نما دانشور اس عظیم انقلابی کی غلطیوں پر کیچڑ اچھالتے رہیں گے۔‘‘

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔