میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

پیر، 3 نومبر، 2014

اللہ یا سائینس کا اصولِ واحد !

محمد عبداللہ : رقم طراز ہیں:
کیونکہ ہم جس دنیا میں رہتے ہیں وہاں ھر چیز کو کرنے کے لیےٴ کسی نہ کسی کرنے والے کا ہونا ضروری ہے مگر یہ ضروری نہیں کے بنانے والا آپ کے سامنے موجود ہو۔ ساٴینس بھی اسی اصول پر چلتی ہے اور اس نے ایک بنانے والے کو مانا ہوا ہے مگر اس بنانے والے کا نام انہوں نے قدرت ﴿نیچر﴾ رکھا ہوا ہے۔ اب جس نے بھی اس بنانے والے کا نام اﷲ ﴿یا کوٴی بھی اورنام﴾ رکھا ہے تو اب یہ اسکی ذمہ داری بنتی ہے کے وہ اپنی بات کو ثابت کرنے کے لیےٴ کوٴی راستہ ڈھونڈے۔//

 

محمد عبداللہ :
اللہ نام نہیں ، صفت ہے اُس اصولِ واحد کی جسے مذھب یا سائینس لے کر آگے چل رہی ہے ۔

دنیا کی ہر تخلیق ، اپنے اصولِ واحد ( سنگل پرنسپل ) کی بنیاد پر خود کار انداز میں رواں دواں ہے ۔ اِس اصولِ واحد کی ابتداء کیسے ہوئی ؟

یہ ایک معمہ ہے ، مثلاً ، سائینس کے مطابق تمام جاندار ، ایک اصول واحدسے تخلیق ہوئے ۔ لیکن اگر ہم اِس وقت موجود تخلیقات ، میں دوسری تخلیق کے ذرات تلاش کریں ، تو ہمیں اُن کا ملنا ممکن نہیں ۔ جیسے درندوں ، چرندوں یا پرندوں کے اصولِ واحد کی بنیاد ایک نہیں ۔
اسی طرح نباتات ، حشرات الارض اور حشرات البحر ، کے اصول واحد بھی اپنی بنیادی لڑی کو سپورٹ نہیں کرتے ۔
سائینس یہ بتانے میں اب تک قاصر ہے ، کہ کائی سے ابتداء کرنے والی تخلیق ، اپنے سفر میں تبدیل کیوں ہوئی ؟ بہت سارے مفروضات ہیں ۔
اُن میں ایک مذھبی مفروضہ بھی ہے جو صرف اور صرف انسانوں سے متعلق ہے ۔

٭- گویا تمام جاندار تخلیقات (بشمول انسان) کا سائنسی مفروضہ ۔

٭- اور درندوں ، چرندوں، پرندوں ، نباتات ، حشرات الارض ، حشرات البحر اور انسانوں کی تخلیق کے مختلف اور الگ الگ مفروضات ۔

مجھے نہیں معلوم ، کہ محمد بن عبداللہ (موسوم محمد رسول اللہ) ، انسانی تعلیم کے کس درجے پر تھے ؟

لیکن اُن سے منسوب ، الحمد سے لے کر والناس تک صرف عربی میں تحریر ، میں سائنسی مفروضات کو، مسلمانوں کے لئے ، اطیعو الرسول کا درجہ دیا اور محمد بن عبداللہ نے اِسے اطیعو اللہ سے منسوب کیا ۔ کیوں کہ " الحمد سے لے کر والناس تک " کے عربی الفاظ انہی کی زبان سے ادا ہوئے اور اب تک وہی الفاظ ہیں ۔

ھاں تراجم میں ، اُن کے الفاظ کو لوگوں نے اپنی اپنی زبان دے کر ، زبان و ادب کے اکھاڑے میں پھینک دیا ۔

محمد عبداللہ جی:
آیئے اِس اکھاڑے میں کوڈی کوڈی کھیلتے ہیں ۔ لیکن ایک شرط ہے ۔
انتخاب : کتاب من اللہ ہے ہو گا ۔
یا
کتب من دون اللہ سے
۔
 

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔