میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

اتوار، 16 نومبر، 2014

اگر اللہ تعالٰی رازق ہے تو انسان بھوکے کیوں مرتے ہیں؟




وَمَا مِن دَابَّةٍ فِي الْأَرْضِ إِلَّا عَلَى اللَّـهِ رِزْقُهَا وَيَعْلَمُ مُسْتَقَرَّهَا وَمُسْتَوْدَعَهَا ۚ كُلٌّ فِي كِتَابٍ مُّبِينٍ  ﴿11:6  
 اور زمین پر کوئی جاندار  ایسا نہیں ہے کہ جس کے رزق کا ذمہ دار اللہ نہ ہو! وہ   ( دَابَّةٍ )اس (رِزْقُ) کے ملنے کی جگہ اور طریقے کو جانتا ہے۔سب  كِتَابٍ مُّبِينٍمیں موجود ہے -
وَكَأَيِّن مِّن دَابَّةٍ لَّا تَحْمِلُ رِزْقَهَا اللَّـهُ يَرْزُقُهَا وَإِيَّاكُمْ ۚ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ  - ﴿29:60 
ا ور کتنے جاندار ایسے ہیں جو اپنا رزق اٹھائے نہیں پھرتے۔اللہ انہیں اور تمہیں رزق پہنچاتا ہے۔وہ سننے والا اور جاننے والا ہے-
             اللہ تعالیٰ کی بنی نو ع انسان کو اتنی بڑی بشارت۔ کہ وہ اللہ اِس روئے زمین پر بسنے والے ہر جاندار کا رازق ہے۔ تو پھر ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ
اس کرہ ارض پر رہنے والے اکثر انسان بھوکے کیوں رہتے ہیں؟
یہ وہ سوال ہے جو ہر عقل کو استعمال کرنے والے کے ذہن میں ہتھوڑے برساتا ہے۔کہ انسان بھوکا کیوں مرتا ہے؟ 
انسانی عقل اس کے بہت سے جواب تلاش کرلیتی ہے۔کیونکہ
وہ دیکھتے ہیں کہ سٹیج پر کھڑا مبلّغ جب اللہ کی رزاقیت کے گُن گاتا ہے  تقویٰ اور اسراف کی تعریف میں فصاحت و بلاغت کے دریا بہاتا ہے۔تو اُس کی موٹی گردن اور بے تحاشا پھیلتی توند خود اُس کے ایمان کی نفی کرتی ہے۔
پیشوائیت اور آمریت کے پجاری محیّر العقول اقوال اور منطق گھڑ کر،ان تمام انسانوں کو خاموش کرادیتے ہیں جو پیٹ پر پتھر باندھ کر اپنی زندگی گزار رہے ہیں۔صرف اس امید پر کہ شائد انہیں بھی کبھی پیٹ بھر کر کھانا ملے گا۔
کبھی انسانوں کا رازق انہیں بھی انسان سمجھتے ہوئے ان پر قوم ِ موسیٰ  ؑکی طرح من و سلویٰ کی نعمت کے خزانے کھول دے۔یا پھر آسمان سے خوان اُترنے لگیں۔
ضَرَبَ اللَّہُ مَثَلًا قَرْيَةً كَانَتْ آمِنَةً مُّطْمَئِنَّةً يَأْتِيهَا رِزْقُهَا رَغَدًا مِّن كُلِّ مَكَانٍ فَكَفَرَتْ بِأَنْعُمِ اللَّہِ فَأَذَاقَهَا اللَّہُ لِبَاسَ الْجُوعِ وَالْخَوْفِ بِمَا كَانُوا يَصْنَعُونَ- ﴿16:112
اور اللہ ایک بستی کی مثال دیتا ہے۔ جو (باعثِ) امن مطمئن تھی۔ اس کو ہر جگہ سے فرا خی سے رزق پہنچتا تھا۔پس انہوں نے اللہ کی نعمت کا کفر کیا۔ جو (باتیں) وہ گھڑتے تھے پس اس کے سبب اللہ نے انہیں لباس، بھوک اورخوف کا مزہ چکھا دیا“۔
            اللہ تعالیٰ نے تمام انسانی ہدایات، انسانوں کے لئے واضح لکھائیوں میں درج کر دی ہیں اور یہ واضح لکھائیاں کتاب اللہ میں موجود ہیں  اور یہ کتاب اللہ، الکتاب کی صورت میں متقین کی ہدایت کے لئے موجود ہے۔
 ذَٰلِكَ الْكِتَابُ لَا رَيْبَ ۛ فِيهِ ۛ هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ-﴿2:2
وہ   الکتاب جس میں کوئی شک نہ ہو المتقین کے لئے ہدایت ہے
 اس سے پہلے کہ ہم اپنی عقل استعمال کریں اور اس اللہ کی بشارت کو نہ سلجھنے والی گتھی میں تبدیل کر دیں تو کیوں نہ پہلے ہم الکتاب سے ہدایت لیں۔جس کے متعلق اللہ تعالیٰ نے واضح طور پر بتایا ہے۔
وَلَقَدْ ضَرَبْنَا لِلنَّاسِ فِي هَـٰذَا الْقُرْآنِ مِن كُلِّ مَثَلٍ لَّعَلَّهُمْ يَتَذَكَّرُونَ - ﴿39:27
 اورحقیقت میں ہم نے انسانوں کے لئے اس القران (خاص پڑھائی) میں  کُل مثل بیان کر دی ہے۔ تاکہ وہ اس کا ذکر کریں
 قُرْآنًا عَرَبِيًّا غَيْرَ ذِي عِوَجٍ لَّعَلَّهُمْ يَتَّقُون ﴿39:28
قران(پڑھائی)عربی میں کجی کے بغیر ہے تاکہ وہ متقی ہو جائیں
             اللہ تعالیٰ سے ہدایت لینے کی بنیادی شرط،الکتاب  کی عربی میں پڑھائی  ہے۔
لہذا جب بھی ہمارے پاس اللہ تعالیٰ کی کسی آیت کا ترجمہ آئے تو ہمارا فرض ہے کہ ہم الکتاب اللہ سے  اس آیت کی عربی لازمی دیکھیں۔
اس سے ہمیں الکتاب کا علم آئے گا آیت کے ترجمے کی تصدیق ہونے کے بعد ہمارا تزکیّہ ہو گا۔
وہ اس طرح کہ ہمارے ذہنوں میں جو عجیب عجیب فلسفے موجود ہیں، اللہ کی آیات کے سامنے ماند ہو کر ختم ہو جائیں گے
اور اس طرح ہم المتقین میں شامل ہونے کی طرف اپنے قدم اللہ تعالیٰ کی ہدایت کے مطابق اٹھائیں گے۔
آیات کا ترجمہ انسانی کوشش ہے اُس سے اتفاق یا اختلاف ہو سکتا ہے لیکن الکتاب میں تا قیامت، مستحکم عربی لکھائیوں میں موجود آیات اللہ سے متقین کا  اختلاف ممکن نہیں۔
البتہ کفار اللہ تعالیٰ کی آیات سے جحد (اجتھاد نہیں بلکہ اجتحاد) کرتے ہیں۔
 وَكَذَٰلِكَ أَنزَلْنَا إِلَيْكَ الْكِتَابَ ۚ فَالَّذِينَ آتَيْنَاهُمُ الْكِتَابَ يُؤْمِنُونَ بِهِ ۖ وَمِنْ هَـٰؤُلَاءِ مَن يُؤْمِنُ بِهِ ۚ وَمَا يَجْحَدُ بِآيَاتِنَا إِلَّا الْكَافِرُون - ﴿29:47
 اس طرح ہم نے تجھ پر الکتاب نازل کی۔پس وہ لوگ جنھیں الکتاب دی گئی  وہ اس پرمؤمن ہیں۔اور ان میں سے کچھ ایسے ہیں جو اس پر  ایمان لاتے ہیں۔اور ہماری آیات سے کوئی جحد (اجتحاد) نہیں کرتا سوائے کافروں کے۔
            واضح لکھائیوں میں موجود اللہ تعالیٰ کی ہدایات  سے دیکھتے ہیں۔ کہ کرہ ارض پر موجود انسانوں کے بھوک سے مرنے کی وجہ کیا ہے؟
 وَإِذَا قِيلَ لَهُمْ أَنفِقُوا مِمَّا رَزَقَكُمُ اللہُ قَالَ الَّذِينَ كَفَرُوا لِلَّذِينَ آمَنُوا أَنُطْعِمُ مَن لَّوْ يَشَاءُ اللَّہُ  أَطْعَمَهُ إِنْ أَنتُمْ إِلَّا فِي ضَلَالٍ مُّبِينٍ  - ﴿36:47
جب اُن سے کہا جاتا ہے کہ اس رزق میں سے انفاق (ضرورت مندوں کو کھلاؤ)کرو۔تو کافر ایمان والوں سے کہتے ہیں۔کہ کیا ہم ان کو کھلائیں۔اگر اللہ چاہتا تو خود کھلا دیتا (ایمان والو) بے شک تم تو کھلے گمراہ ہو!
            انفاقِ رزق کی نصیحت کے بارے میں کفار کا استدلال کتاب اللہ میں درج ہے۔ اب ہم دیکھتے ہیں کہ ایمان والوں کے لئے اللہ تعالیٰ نے کیا ہدایات دی ہیں۔
 أَوَلَمْ يَرَوْا أَنَّ اللَّہَ يَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَن يَشَاءُ وَيَقْدِرُ ۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَاتٍ لِّقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ  - ﴿30:37
کیا وہ نہیں دیکھتے کہ بے شک اللہ جس کے لئے چاہتا ہے  رزق کو کشادہ کر دیتا ہے اوروہ قدر(پیمانہ) کر دیتا ہے۔بے شک اس میں ایمان والوں کے لئے نشانیاں ہیں  
              رزق میں تنگی اور کشائش  ایمان والوں کے لئے اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ہے اور یہ اُ ن کی آزمائش   ہے۔
 وَلَنَبْلُوَنَّكُم بِشَيْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَالْجُوعِ وَنَقْصٍ مِّنَ الْأَمْوَالِ وَالْأَنفُسِ وَالثَّمَرَاتِ ۗ وَبَشِّرِ الصَّابِرِينَ - ﴿2:155
بے شک ہم تمھیں خوف، بھوک،جانوں، اموال اور پھلوں کے نقصان سے ضرور آزمائیں گے اور صبر کرنے والوں کو بشارت دے دو 
لیکن وہ ایمان والے جنھیں اللہ تعالیٰ نے رزق میں کشائش دی ہے ، جن کے ملازمین ہیں ، اور جو عقل رکھتے ہیں اُن کے لئے ۔
 ضَرَبَ لَكُم مَّثَلًا مِّنْ أَنفُسِكُمْ ۖ هَل لَّكُم مِّن مَّا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُم مِّن شُرَكَاءَ فِي مَا رَزَقْنَاكُمْ فَأَنتُمْ فِيهِ سَوَاءٌ تَخَافُونَهُمْ كَخِيفَتِكُمْ أَنفُسَكُمْ ۚ كَذَٰلِكَ نُفَصِّلُ الْآيَاتِ لِقَوْمٍ يَعْقِلُونَ   ﴿30:28
ا س (الکتاب) میں تمھیں سمجھانے کے لئے تم ہی میں سے مثال بیان کی ہے۔ کہ کیا تمھارے ماتحت اس رزق میں تمھارے برابر کے شریک ہیں جو ہم نے تم کو دیا ہے؟۔جس طرح وہ تم سے ڈرتے ہیں کیا اسی طرح تم برابری میں ان سے بھی ڈرتے ہو؟اس طرح ہم اپنی آیات عقل والوں کے لئے تفصیلاّ بیان کرتے ہیں
 يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَنفِقُوا مِمَّا رَزَقْنَاكُم مِّن قَبْلِ أَن يَأْتِيَ يَوْمٌ لَّا بَيْعٌ فِيهِ وَلَا خُلَّةٌ وَلَا شَفَاعَةٌ ۗ وَالْكَافِرُونَ هُمُ الظَّالِمُونَ  ﴿2:254
اے ایمان والو۔ خرچ کرو اس رزق میں سے جو ہم نے تم کو عطا کیا ہے۔اس دن کے آنے سے پہلے جس میں نہ تو کوئی خریدوفروخت اور کوئی سفارش کام آئے گی۔اور کافر تو ظالم ہیں 
 ایمان والوں کے لئے انفاقِ رزق  کی نعمت میں کوئی اجتحادی چھوٹ نہیں ہے۔
لیکن اس کے باوجود شیطانی اٹھکیلیاں اس کی سوچوں کو فتنہ پروری کی آماجگاہ بنائیں گی اوروہ لازمی کہے گا کہ:
مجھے جو کچھ ملا ہے اس کے لئے میں نے اتنا عرصہ علم حاصل کیا، محنت کی، اپنی ذہنی اور جسمانی صلاحیتوں کو استعمال میں لایا۔یہ سب کچھ میرا ہے میں جس طرح چاہوں اسے استعمال کروں۔ان شیطانی چالوں سے بچنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے اُس کے علم میں اضافہ کرنے کے لئے کہا
---  ثُمَّ إِذَا خَوَّلْنَاهُ نِعْمَةً مِّنَّا قَالَ إِنَّمَا أُوتِيتُهُ عَلَىٰ عِلْمٍ ۚ بَلْ هِيَ فِتْنَةٌ وَلَـٰكِنَّ أَكْثَرَهُمْ لَا يَعْلَمُون - ﴿39:49
ََََ۔۔۔۔ پھر جب ہم اسے اپنی نعمت میں سے عطا کرتے ہیں تو کہتا ہے کہ بے شک اسے اس کے علم کی بدولت ملا ہے۔ بلکہ یہ (سوچ) فتنہ ہے ان میں سے اکثر کو اس کا علم نہیں؟
انسانی رزق ، اللہ تعالیٰ معلوم مقدار میں نازل کرتاہے۔اب ہم اس مقدار کو ہر فصل کے مطابق لیں یا سالانہ لیں اس کی مقدار نسبتاً وہی رہے گی جو اللہ تعالیٰ نے اس عرصے کے  انسانوں  کے استعمال کے لئے مقرر کی ہے۔
  وَجَعَلْنَا لَكُمْ فِيهَا مَعَايِشَ وَمَن لَّسْتُمْ لَهُ بِرَازِقِينَ ﴿20 وَإِن مِّن شَيْءٍ إِلَّا عِندَنَا خَزَائِنُهُ وَمَا نُنَزِّلُهُ إِلَّا بِقَدَرٍ مَّعْلُومٍ   - ﴿15:21
  اور ہم نے تمھارے لئے اِس (زمین) میں معائش(کے ذرائع) بنائے ہیں اور اِن کے لئے بھی جن کے تم رازق نہیں﴿0 اور کوئی شئے ایسی نہیں کہ جس کے خزانے ہمارے پاس موجود نہ ہوں اور ہم اس کو ایک معلوم مقدار میں نازل کرتے ہیں ؟
 مثال کے طور پر اگراس دنیا میں کل 100 افراد بستے ہوں تو اللہ تعالیٰ نے ان 100 افراد کا سالانہ رزق ایک معلوم مقدار میں نازل کر دیا ہے۔
اور اِن 100 افراد کے حصے بقدرِ جثّہ  بھی بنا دئے ہیں جو ان کے استعمال میں آئیں گے۔لیکن ان کا حصول سب کے لئے ممکن نہیں کیونکہ اصولِ تقسیم رزق و مال کے مطابق اللہ تعالیٰ نے  ان سو انسانوں میں بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے۔ چنانچہ ہر آدمی اپنی اپنی فضیلت کے مطابق کسبِ رزق کرے گا۔
 وَاللَّہُ فَضَّلَ بَعْضَكُمْ عَلَىٰ بَعْضٍ فِي الرِّزْقِ ۚ فَمَا الَّذِينَ فُضِّلُوا بِرَادِّي رِزْقِهِمْ عَلَىٰ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُمْ فَهُمْ فِيهِ سَوَاءٌ ۚ أَفَبِنِعْمَةِ اللَّـهِ يَجْحَدُونَ  - ﴿16:71
ا ور اللہ نے تم میں سے بعض کو بعض پر رزق میں فضیلت دی ہے۔ اور وہ جنھیں رزق میں فضیلت دی گئی ہے وہ اپنا رزق ان تک نہیں پہنچاتے جو ان کی قسموں کی ملکیت ہیں۔ حالانکہ وہ اس میں برابر کے حصہ دار ہیں۔  
 کیاوہ اللہ کی نعمت میں جحد(اجتحاد) کرتے ہیں؟ 


اللہ تعالیٰ کی دی گئی فضیلت کے مطابق، انسانی رزق  کے حصول کی نعمت  سے مستفید ہونے والوں پر اللہ تعالیٰ نے لازم کر دیا ہے کہ وہ اُن کو دیئے گئے رزق میں سے دیگر انسانوں میں تقسیم کریں۔
یہ وہ انسان نہیں جو بذریعہ مال رزق خرید لیتے ہیں۔
بلکہ وہ ہیں جن کی  بذریعہ مال رزق خرید نے کی استطاعت نہیں۔
اب 100افرادی دنیا میں ان کی تعداد کتنی ہو سکتی ہے؟
اس پر بحث کی جاسکتی ہے لیکن اس چیز پر بحث ممکن نہیں کہ اللہ تعالی نے اُن کا رزق نہیں اتارا۔
 قُلْ إِنَّ رَبِّي يَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَن يَشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ وَيَقْدِرُ لَهُ ۚ وَمَا أَنفَقْتُم مِّن شَيْءٍ فَهُوَ يُخْلِفُهُ ۖ وَهُوَ خَيْرُ الرَّازِقِينَ  - ﴿34:39
 کہہ! بے شک میرا رب اپنے بندوں میں سے جس کے لئے چاہتا ہے رزق میں فراخی دیتا ہے اور اُس کے لئے پیمانہ ہے۔اور  کسی شئے میں سے جو بھی تم انفاق (رزق) کرتے ہواُس (اللہ)کے لئے اُس کابدلہ ہے۔اور تمام رزق دینے والوں میں سب سے بہترہے ؟
جس بستی کے رہنے والوں کو ہر جگہ سے فرا خی سے رزق پہنچتا ہے۔وہ اگر انفاقِ رزق کریں تو اللہ کے نزدیک اس کے بدل کا پیمانہ مقرر ہے۔
 مَّثَلُ الَّذِينَ يُنفِقُونَ أَمْوَالَهُمْ فِي سَبِيلِ اللَّہِ كَمَثَلِ حَبَّةٍ أَنبَتَتْ سَبْعَ سَنَابِلَ فِي كُلِّ سُنبُلَةٍ مِّائَةُ حَبَّةٍ ۗ وَاللَّہُ يُضَاعِفُ لِمَن يَشَاءُ ۗ وَاللَّہُ وَاسِعٌ عَلِيمٌ   - ﴿2:261
جو لوگ اللہ کی راہ میں انفاق کرتے ہیں۔ اُن کی مثال  ایسی ہے کہ جیسے ایک بیج جس سے سات سو بالیاں نکلتی ہیں۔اور ہر بالی میں سو بیج ہوتے ہیں  اور اللہ جس کے لئے چاہتا ہے (اس طرح) اضافہ کرتا ہے اور اللہ وسعت دینے والا  علیم ہے -
        اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی ہر بات سے باخبر ہے اور رزق کی وسعت، مکمل اللہ کی مرضی کے مطابق ہے،
 اللَّہُ لَطِيفٌ بِعِبَادِهِ يَرْزُقُ مَن يَشَاءُ ۖ وَهُوَ الْقَوِيُّ الْعَزِيزُ  - ﴿42:19
اللہ اپنے بندے کے ساتھ باریک بین ہے وہ اپنی مرضی سے رزق دیتا ہے۔ اور وہ قوی اور عزیز ہے  
کبھی انسان نے غو ر کیا کہ کائینات کے تمام جاندار کے رازق کی،  یہ باریک بینی کیا ہے؟
          اسبابِ رزق کے عوامل
حصولِ  رزق کی انسانی زراعت کے سلسلے میں چھ ہوتے ہیں۔بیج بونا۔مساقات کرنا۔بیج کا اگنا۔پودے کی حفاظت۔کھیتی/فصل پکنے پر اسے اتارنا۔بیج کی مقدارعلیحدہ کرکے باقی خوراک کے طور پر استعمال کرنا۔ 
زمین میں بیج ڈالنے کے عمل کے بعد تمام اعمال  اللہ تعالیٰ نے خود سے منسوب کرتے ہوئے انسان کو آگاہ کیا ہے۔
 أَفَرَأَيْتُم مَّا تَحْرُثُونَ ﴿﴿54:63 أَأَنتُمْ تَزْرَعُونَهُ أَمْ نَحْنُ الزَّارِعُونَ   - ﴿54:64
 کیا تم جو حرث کرتے(بوتے) ہو۔ اسے دیکھ سکتے ہو؟  ﴿-کیا تم اِس  کی زراعت کرتے ہو یا ہم اِس کے زراعت کرنے والے ہیں؟
 أَلَمْ تَرَ أَنَّ اللَّہَ يُزْجِي سَحَابًا ثُمَّ يُؤَلِّفُ بَيْنَهُ ثُمَّ يَجْعَلُهُ رُكَامًا فَتَرَى الْوَدْقَ يَخْرُجُ مِنْ خِلَالِهِ وَيُنَزِّلُ مِنَ السَّمَاءِ مِن جِبَالٍ فِيهَا مِن بَرَدٍ فَيُصِيبُ بِهِ مَن يَشَاءُ وَيَصْرِفُهُ عَن مَّن يَشَاءُ ۖ يَكَادُ سَنَا بَرْقِهِ يَذْهَبُ بِالْأَبْصَارِ   - ﴿24:43
 کیا تم نے نہیں دیکھا؟
کہ اللہ ہی سحاب کو حرکت دیتا ہے۔ پھر ان کے درمیان (ان کو ثقیل کرنے کے لئے) ملاپ ڈالتا ہے۔ پھر انہیں (حرکت دیتے ہوئے) تہہ بہ تہہ کرتا ہے۔پھر ان کی دوستی سے الودق(لگاتار مینہ) کا اخراج ہوتا ہے۔ اور آسمان سے (بادلوں کے)پہاڑ وں میں سے برد(اولے) نازل ہوتے ہیں؟پس جس کو چاہتا ہے اِن سے اُن کو نقصان پہنچاتا ہے۔اور جس کو چاہتا ہے اِن سے اُن کوبچا لیتا ہے۔اس(سحاب) کی بجلی کی چمک سے بینائی تقریباً ضائع ہو جاتی ہے  ۔
وَأَنزَلْنَا مِنَ السَّمَاءِ مَاءً بِقَدَرٍ فَأَسْكَنَّاهُ فِي الْأَرْضِ ۖ وَإِنَّا عَلَىٰ ذَهَابٍ بِهِ لَقَادِرُونَ   - ﴿23:18
اور ہم ہی نے آسمان سے پانی ایک اندازے کے مطابق نازل کیا۔پھر اسے زمین پر سکونت دی۔اور ہم اس کے نابود کر دینے پر بھی قادر ہیں!
 قُلْ أَرَأَيْتُمْ إِنْ أَصْبَحَ مَاؤُكُمْ غَوْرًا فَمَن يَأْتِيكُم بِمَاءٍ مَّعِينٍ  - ﴿67:30
کہہ دیکھو جو پانی تم پیتے ہو۔اگر گہرائی میں چلا جائے تو تمھارے لئے پانی کا چشمہ کو ن نکا لے گا ؟
 لَوْ نَشَاءُ جَعَلْنَاهُ أُجَاجًا فَلَوْلَا تَشْكُرُونَ  - ﴿56:70
 اور اگر ہم چاہیں تو اسے کھاری بنا دیں۔ تم کس لئے شکر ادا نہیں کرتے؟
 أَوَلَمْ يَرَوْا أَنَّا نَسُوقُ الْمَاءَ إِلَى الْأَرْضِ الْجُرُزِ فَنُخْرِجُ بِهِ زَرْعًا تَأْكُلُ مِنْهُ أَنْعَامُهُمْ وَأَنفُسُهُمْ ۖ أَفَلَا يُبْصِرُونَ - ﴿32:27
کیا وہ نہیں دیکھتے کہ ہم خالی زمین کی طرف مساقات (پانی چھڑکتے) کرتے ہیں؟۔ پھر ہم اس مساقات کے ساتھ زراعت نکالتے ہیں۔ تاکہ ان سے اس کے جانور اور وہ کھائیں۔ پس کیا انہیں بصیرت نہیں؟ 
وَالْبَلَدُ الطَّيِّبُ يَخْرُجُ نَبَاتُهُ بِإِذْنِ رَبِّهِ ۖ وَالَّذِي خَبُثَ لَا يَخْرُجُ إِلَّا نَكِدًا ۚ كَذَٰلِكَ نُصَرِّفُ الْآيَاتِ لِقَوْمٍ يَشْكُرُونَ - ﴿7:58
اور عمدہ زمین اپنے رب کے حکم سے اپنی نبات اگاتی ہے اور جو ناقص ہے اس سے سوائے  بے کار چیز کے کچھ نہیں اگتا۔ اسی طرح ہم اپنی آیات  کی گردان شکر کرنے والوں کے لئے کرتے ہیں-
 أَفَرَأَيْتُم مَّا تَحْرُثُونَ -   ﴿56:63
ذرا دیکھو تم کیا  حرث   (بوتے)  ہو؟
 أَأَنتُمْ تَزْرَعُونَهُ أَمْ نَحْنُ الزَّارِعُونَ  -   ﴿56:64
کیا تم اسے زراعت کرتے  ہو یا ہم اس کے زارع  ہیں؟
 لَوْ نَشَاءُ لَجَعَلْنَاهُ حُطَامًا فَظَلْتُمْ تَفَكَّهُونَ -   ﴿56:65
جس کے لئے تم   فکاہت کرتے ہو ، اگر ہم چاہیں تو اسے پیس دیں
 إِنَّا لَمُغْرَمُونَ  -   ﴿56:66
( اور تم افسوس کرو  کہ ) ہم برباد ہوگئے
بَلْ نَحْنُ مَحْرُومُونَ   -   ﴿56:67
بلکہ   ہم محروم ہو گئے
وَهُوَ الَّذِي أَنشَأَ جَنَّاتٍ مَّعْرُوشَاتٍ وَغَيْرَ مَعْرُوشَاتٍ وَالنَّخْلَ وَالزَّرْعَ مُخْتَلِفًا أُكُلُهُ وَالزَّيْتُونَ وَالرُّمَّانَ مُتَشَابِهًا وَغَيْرَ مُتَشَابِهٍ ۚ كُلُوا مِن ثَمَرِهِ إِذَا أَثْمَرَ وَآتُوا حَقَّهُ يَوْمَ حَصَادِهِ ۖ وَلَا تُسْرِفُوا ۚ إِنَّهُ لَا يُحِبُّ الْمُسْرِفِينَ - ﴿6:141
وہ ہے جس نے معروشات اور غیر معروشات جنتیں، نخل اور مختلف زراعت جنھیں تم کھاتے ہو انشاء کئے۔ زیتون اور رمّان اور اس کے مشابہ اور غیر مشابہ۔اِن (سب انشاء) سے جب وہ پھل لائیں،کھائیں۔اور اُن کی کٹائی کے دن اُس(اللہ) کا حق اُس کو دے دو اور (خود زیادہ حصہ رکھنے کے لئے) اس میں اسراف مت کرو۔اللہ مسرفین سے محبّت نہیں کرتا
             زراعت کی کٹائی کے دن اُس(اللہ) کا حق اُس کو دے دو۔ اللہ تعالیٰ اپنا حق مانگ رہا ہے۔ اگر اس سے انکار کیا تو کیا ہوگا؟
اللہ نے  ایمان والوں پر انعام بھی کرتا  ہے اور کچھ کی چالاکیوں یا منافقت کے باعث، اپنی آیات سے کُفر کرنے پر،  اُن پر اپنا عذاب بھی بھیجتا   تھا ۔ منافقین تو بپھر جاتے ہیں   اور اپنی منافقت  کی  انتہاؤں  میں کُفر تک چلے جاتے ہیں ۔
لیکن ایمان والوں کو یک دم احساس ہوجاتا ہے ، کہ اُن پر اللہ کا یہ عذاب اُن کی کسی کوتاہی یا سرکشی کے باعث آیا ہے  ، چنانچہ وہ توبہ کرتے ہیں تو اللہ ، اُن پر بھیجے ہوئے  اِس عذاب کو ٹال دیتا ہے ۔ لیکن جو توبہ نہیں کرتے تو اُن پر یہ عذاب مسلط رہتا ہے ۔
اللہ نے ہمیں ، الکتاب کے شروع ہی میں علم دے دیا ہے ، کیا ؟
پڑھئیے :
 آزمائش اصحاب الجنت اور عذاب !
 إِنَّا بَلَوْنَاهُمْ كَمَا بَلَوْنَا أَصْحَابَ الْجَنَّةِ إِذْ أَقْسَمُوا لَيَصْرِمُنَّهَا مُصْبِحِينَ - ﴿68:17
 بے شک ہم نے اُن کی آزمائش کی جس طرح ہم نے اصحاب الجنت کی آزمائش کی۔جب  وہ   تقسیم ہوئے ، اُس(الجنت)  میں سے کاٹنے کے لئے   ، مُصْبِحِينَہوئے 
 وَلَا يَسْتَثْنُونَ - ﴿68:18
اور  یہ کہ اِس میں  کوئی ثانی (برابر کے حصے والانہیں ہو گا ۔
فَتَنَادَوْا مُصْبِحِينَ - ﴿68:21
 بس اُنہوں نے    مُصْبِحِينَ کو نداء دی -
 أَنِ اغْدُوا عَلَىٰ حَرْثِكُمْ إِن كُنتُمْ صَارِمِينَ  - ﴿68:22
 یہ کہ اگلے دن ، اپنی حرث پر   (جلدی پہنچنا) اگر تم نے صارمین   ہونا ہے ۔
 فَانطَلَقُوا وَهُمْ يَتَخَافَتُونَ  - ﴿68:23
 پس جب   اُنہوں نے طلاق دی   اور وہ خائف (بھی) تھے ۔(کہ اُن سے پہلے مساکین نہ پہنچے ہوں)
  أَن لَّا يَدْخُلَنَّهَا الْيَوْمَ عَلَيْكُم مِّسْكِينٌ  - ﴿68:24
   تاکہ آج کے دن یہاں کوئی مسکین اس میں تمھارے پاس  (الجنت میں ) داخل نہ ہو
  وَغَدَوْا عَلَىٰ حَرْدٍ قَادِرِينَ  - ﴿68:25
 اور وہ صبح  (الجنت کی کٹائی کے لئے ) پوری طرح قادر ہونےوالے تھے 
  فَلَمَّا رَأَوْهَا قَالُوا إِنَّا لَضَالُّونَ - ﴿68:26
 اور جب اُنہوں نے اس (جنت) کو دیکھا تو کہنے لگے ، ہم  گمرا ہوں میں شامل ہو گئے ،
 بَلْ نَحْنُ مَحْرُومُونَ - ﴿68:27
 بلکہ ہم محروم ہو گئے-

 اُن کی محرومیت کا کیا سبب تھا ؟
 فَطَافَ عَلَيْهَا طَائِفٌ مِّن رَّبِّكَ وَهُمْ نَائِمُونَ - ﴿68:19
، پس اُس(الجنت)   پر تیرے ربّ کی طرف سے طواف کیا     طواف کرنے والے نے  - جب وہ حالتِ نوم میں تھے
  فَأَصْبَحَتْ كَالصَّرِيمِ  - ﴿68:20
پس صبح  ایسا  (طوافِ عذاب )ہوا جیسے مکمل صفائی ۔
   اصحاب الجنت کے  ، اللہ کی آیت بھلانے  کے باعث اُن پر اللہ تعالیٰ کا عذاب آیا۔
اللہ کے عذاب کے باعث اُن کی ہری بھری ،دن رات محنت کے بعد  فائدہ دینے والی، الجنت تباہ ہوگئی ۔ ایسے میں اُن کا رویہ کیا ہونا چاھیئے تھا ؟
وَإِذَا أَذَقْنَا النَّاسَ رَ‌حْمَةً فَرِ‌حُوا بِهَا وَإِن تُصِبْهُمْ سَيِّئَةٌ بِمَا قَدَّمَتْ أَيْدِيهِمْ إِذَا هُمْ يَقْنَطُونَ   - ﴿30:36
اور جب   ہم الناس کو رحمت کا ذائقہ چکھاتے ہیں تو وہ فرحت محسوس کرتا ہے اور جب ہم اُسے  کے ہاتھوں سے آگے بھیجی جانے والی برائیوں پر مصیبت  دیتے ہیں تو وہ ، قنوطی ہو جاتا ہے ۔ 
وَمَا أَصَابَكُم مِّن مُّصِيبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ أَيْدِيكُمْ وَيَعْفُو عَن كَثِيرٍ  - ﴿42:3
اور جو مصیبت میں سے ، پہنچنے والا  حصّہ ہے وہ  تمھارے اپنے ہاتھوں کی کمائی ہے ، بہت سی تو معاف کردی جاتی ہیں ۔
 مَّا أَصَابَكَ مِنْ حَسَنَةٍ فَمِنَ اللَّہِ وَمَا أَصَابَكَ مِن سَيِّئَةٍ فَمِن نَّفْسِكَ وَأَرْ‌سَلْنَاكَ لِلنَّاسِ رَ‌سُولًا وَكَفَىٰ بِاللَّہِ شَهِيدًا  - ﴿4:79
جو حصہ حسنہ میں تجھے پہنچتا ہے وہ اللہ کی طرف سے ہے  اور جو حصہ برائی میں سے تجھے پہنچتا ہے پس وہ تیرا نفس  ہے  اور ہم نےارسال کیا تجھے انسانوں کے لئے  ایک رسول  اور کافی ہے اللہ کےساتھ شہیدہے -
اگر انسان کو یہ احساس ہوجائے ، کہ اللہ اپنے تخلیق کردہ کسی بھی انسان کے لئے مصیبت  نازل نہیں کرتا ، مصیبتوں کو دعوت انسان خود دیتا ہے ۔ اللہ نے انسان کے لئے ہر بہترین شئے اور ہر کاموں  کے بہترین نتائج رکھے ہیں ۔ 
جن لوگوں کو یہ آفاقی سچ یاد رہتا ہے اُن کے لئے تمام آزمائشی اُن کے فعل اور عمل کو مزید بہتر بناتی ہیں ، لیکن جنھیں یہ آفاقی سچ یاد نہیں رہتا یا قنوطیت میں وہ یاد نہیں رکھنا چاہتے تو اللہ تعالیٰ کی آزمائش اُن پر عذاب بن جاتی ہے ۔ 
 قَالَ أَوْسَطُهُمْ أَلَمْ أَقُل لَّكُمْ لَوْلَا تُسَبِّحُونَ - ﴿68:28
ان میں سے جو اوسط(اعتدال پسند) تھا بولا۔کیا میں نے تم کو یہ نہیں کہا کہ تم  اللہ کی تسبیح کیوں نہیں کرتے؟
قَالُوا سُبْحَانَ رَ‌بِّنَا إِنَّا كُنَّا ظَالِمِينَ - ﴿68:29
 وہ بولے اللہ کے لئے سبحان ہے بے شک ہم ہی ظالم ہیں-
 فَأَقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَلَىٰ بَعْضٍ يَتَلَاوَمُونَ- ﴿68:30
 حالانکہ اِس (اعتدال پسند  کے یاد دلانے سے ) سے قبل وہ ایک دوسرے ملامت کر رہے تھے ۔
 قَالُوا يَا وَيْلَنَا إِنَّا كُنَّا طَاغِينَ - ﴿68:31
وہ بولے ہماری بدبختی  بے شک ہم ہی سرکش ہیں
  عَسَىٰ رَ‌بُّنَا أَن يُبْدِلَنَا خَيْرً‌ا مِّنْهَا إِنَّا إِلَىٰ رَ‌بِّنَا رَ‌اغِبُونَ - ﴿68:32
ممکن  ہمارا رب ہمارے لئے اس کو بھلائی میں بدل دے ّبے شک ہم نے رب کی طرف راغب  ہونے والوں میں ہے
كَذَٰلِكَ الْعَذَابُ ۖ وَلَعَذَابُ الْآخِرَ‌ةِ أَكْبَرُ‌ ۚ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ - ﴿68:33
(دنیا کا)عذاب اسی طرح ہوتا ہے۔اور آخرت کا عذاب تو (اس سے) اکبر ہے۔اگر انہیں اس کا علم ہو
 اصحاب الجنت   اللہ کے عذاب کے باوجود ، بھٹکے نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف دوبارہ راغب ہو گئے۔کیوں کہ اُنہیں یہ آیت معلوم ہے ۔
یہ سب سے اہم آیت ہے کیونکہ ہم بھی اللہ تعالیٰ سے یہی دعا مانگتے ہیں۔
  اهْدِنَا الصِّرَ‌اطَ الْمُسْتَقِيمَ - (1:6)
 ہمیں صراط المستقیم کی طرف ہدایت کر
   صِرَ‌اطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ‌ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ - (1:7)
   صراط اُن لوگوں کی ، جن پر تو نے انعام کیا ، دوسرے وہ جن پر تیرا غضب ہوا اور وہ گمراہ نہیں ہوئے
 انسانوں پر جب اُن کے ظلم اور  سرکشی کی وجہ سے اللہ کا عذاب ہوتا ہے ۔ تو اکثر انسان منہ سے ایسے الفاظ نکالتے ہیں جو اُن کے صراط المستقیم سے بھٹکنے کی نشانی ہوتی ہے۔ عموما لوگ اِن الفاظ اور نالوں کو شرک قرار دیتے ہیں۔ مثلاً کسی کی موت پر بین کرتے وقت اِس  موت کو اللہ کی طرف سے زیادتی قرار دینا،
فلک کا کیا بگڑتا جو نہ مرتا کوئی دن اور“ 
لیکن ایمان والے  اللہ کی طرف  سے آنے والے عذاب کو منشاء ربّ اور اپنی غلطی سمجھ کر اللہ سے عملی توبہ طلب کرتے  ہیں اِس طرح،  اللہ تعالی نے ان کی اس برائی کو ان کی توبہ پر بھلائی سے تبدیل کرتے ہوئے کہا۔
 إِنَّ لِلْمُتَّقِينَ عِندَ رَ‌بِّهِمْ جَنَّاتِ النَّعِيمِ - (68:34)
بیشک متقین کے لئے ان کے رب کے پاس جنات  النعیم ہیں
بیج انسان نے بویا،
اسے اگایا اللہ تعالیٰ نے۔
پودے کی حفاظت انسان نے کی،
اُس کی مساقات، افزائش،اس کا پکنا، اللہ تعالیٰ کا مرہون منت تھا۔
بیج سے کونپل پھوٹنے کے بعد سے پھل پکنے تک وہ کبھی بھی قدرتی آفات کے باعث ضائع ہوسکتا تھا۔
لہذا اب انسانی محنت اور اللہ تعالیٰ کی بیج کو پھل بنانے تک کی قوت،دونوں  اہم عاملینِ پیدائش  کے درمیان حقوق کی تقسیم کا فارمولا طے کرنا ہے،
کیونکہ اللہ تعالیٰ اس زراعت کی کٹائی میں سے اپنا حق مانگ رہا ہے۔کہ تم اپنی ایمان داری سے اسراف سے بچتے ہوئے اپنا حصہ نکال کر اللہ تعالیٰ کا حق اللہ کو دے دو۔
انسانی اصولِ شراکت داری کے مطابق یہ حصہ کتنا بننا چاہیے؟
 نصف(پچاس فیصد)،خمس (بیس فیصد) یا عُشر (دس  فیصد)؟ 
اب اللہ تعالیٰ کے اس حق کی ادائیگی کس طرح ہو گی؟
فَآتِ ذَا الْقُرْبَىٰ حَقَّهُ وَالْمِسْكِينَ وَابْنَ السَّبِيلِ ۚ ذَٰلِكَ خَيْرٌ لِّلَّذِينَ يُرِيدُونَ وَجْهَ اللَّـهِ ۖ وَأُولَـٰئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ ﴿30:38
  پس اقرباء اور مساکین کو ان کا حق دے دو۔یہ ان لوگوں کے لئے خیر ہے جو اللہ کی خوشنودی چاہتے ہیں۔ اور یہی لوگ فلاح پانے والے ہیں -
 يَسْأَلُونَكَ مَاذَا يُنفِقُونَ ۖ قُلْ مَا أَنفَقْتُم مِّنْ خَيْرٍ‌ فَلِلْوَالِدَيْنِ وَالْأَقْرَ‌بِينَ وَالْيَتَامَىٰ وَالْمَسَاكِينِ وَابْنِ السَّبِيلِ ۗ وَمَا تَفْعَلُوا مِنْ خَيْرٍ‌ فَإِنَّ اللَّہَ بِهِ عَلِيمٌ - ﴿2:215
یہ تجھ سے پوچھتے ہیں کہ کیا خرچ کریں؟کہہ تم خیر میں سے جوبھی خرچ کرو۔پس وہ والدین، اقرباء،یتامیٰ، مساکین اور ابن السبیل کے لئے ہو۔ اور جو بھی فعل تم خیر میں سے کرتے ہو اللہ اس کا علم رکھتا ہے   -
اب ، اللہ کی طرف سے انفاقِ رزق کا معلوم ہوجانے کے باوجود بھی ، احمق پوچھتے ہیں !
۔ ۔ ۔ ۔وَيَسْأَلُونَكَ مَاذَا يُنفِقُونَ قُلِ الْعَفْوَ ۗ كَذَٰلِكَ يُبَيِّنُ اللَّہُ  لَكُمُ الْآيَاتِ لَعَلَّكُمْ تَتَفَكَّرُ‌ونَ - ﴿2:219
 یہ تجھ سے پوچھتے ہیں کہ کیا خرچ کریں؟کہہالعفو( خصوصی معافی)۔ اس طرح اللہ اپنی آیات تمھارے لئے واضح کرتا ہے  تاکہ تم تفکر کرو
             اللہ کی واضح آیات  کے مطابق،  اگر تقسیمِ رزق میں ہم نے اصحاب الجنت کی طرح اللہ کے احکام سے سرکشی کرتے ہوئے اور اپنے آپ پر ظلم کرتے ہوئے اپنی جنت اجاڑ دی ہے۔تو ہمیں چاہیئے کہ ہم اللہ کی طرف راغب ہوں اور اس کی تسبیح کریں۔دنیا کے عذاب کا رخ تو مڑ سکتا ہے۔لیکن آخرت کا عذاب اکبر ہے۔
 يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَنفِقُوا مِمَّا رَزَقْنَاكُم مِّن قَبْلِ أَن يَأْتِيَ يَوْمٌ لَّا بَيْعٌ فِيهِ وَلَا خُلَّةٌ وَلَا شَفَاعَةٌ ۗ وَالْكَافِرُونَ هُمُ الظَّالِمُونَ  ﴿2:254 
اے ایمان والو۔ خرچ کرو اس رزق میں سے جو ہم نے تم کو عطا کیا ہے۔اس دن کے آنے سے پہلے جس میں نہ تو کوئی خریدوفروخت اور کوئی سفارش کام آئے گی۔اور کافر تو ظالم ہیں 









خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔