میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

اتوار، 16 نومبر، 2014

بیل گری ۔ شوگر کا علاج

جون کی بات ہے ، اپنے پرانے دوست آصف اکبر کے گھر بڑھیا کے ساتھ گئے ۔ خواتین کی گفتگو  پوتے پوتیوں ، نوسے نواسیوں ، بہوؤں سے ہوتی ہوئی  ، صحت پر آکر رُک جاتی ہے ۔ 
چنانچہ واپسی میں بڑھیا نے بتایا کہ اُنہوں  وہاں اُن کی بیگم کو اپنی شوگر اور  جوڑوں کے درد کا بتایا ، تو اُنہوں نے کہا کہ کراچی سے وہ ایک  پھل نما دوائی منگوائیں گی آپ اُسے استعمال کرنا ۔ شوگر کی شکایت ، انشاء اللہ شکایت دور ہوجائے گی ۔
کوئی ہفتے بعد دوائی تو نہ آئی لیکن  ہفتے بعد، جمع کی صبح  آصف اکبر صاحب کا بیٹا، ایک ڈبے میں چار   ، ہرے رنگ کے گول   موسمبی سے بڑے پھل لایا۔
" انکل امی نے بھجوائے ہیں ، ابھی یہ کچے ہیں چار پانچ دن میں پک جائیں گے تو  پھر استعمال کرنا   " وہ بولا ۔
" آؤ بیٹھو چائے پی کر جانا " میں نے کہا ۔
" نہیں انکل میں نے جانا ہے ، جلدی ہے " اُس نے کہا 
" امی ابو  کو میرا اور آنٹی کا سلام کہنا ۔" میں نے کہا اور نوجوان چلا گیا ۔
بوڑھے نے وہ پھل لے جاکر بیوی کو دیئے اور ہدایت کر دیا ،
 بڑھیا نے وہ چاروں ، ڈبے سمیت فریج پر رکھ دئیے ۔ اور بڑھیا میں اور چم چم ایبٹ آباد چم چم کی خالہ کے پاس چلے گئے ۔ 
کل یعنی ہفتے کی بات ہے ، کچن کی صفائی ہو رہی تھی  ۔ کہ وہ پھل بھی اُسی ڈبے سے برآمد ہوئے ، بڑھیا پریشان کہ یہ کیا چیز ہے ؟  اور کِس نے یہاں رکھی ؟ 
خیرپھر، اُس ٹیں کے  ڈبے میں سڑی ہوئی  اُس چیز کو کوڑے میں ڈال دیا ۔
 دو دن پہلے آصف اکبر صاحب کے ہاں پوتی کی مبارک باد دینے گئے ، وہاں بھابی نے بڑھیا سے پوچھا ،" آپ نے بیل گری استعما ل کی کوئی فائدہ ہوا؟"
" وہ کیا ہوتی ہے ؟" بڑھیا نے پوچھا 
" ارے وہی جو   کراچی سے منگوا کر حسن کے ہاتھ آپ کو بھجوائی تھی " اُنہوں نے کہا
 بڑھیا کو یک دم یاد آگیا ۔
" بھابی ہوا یہ کہ  ۔ ۔ ۔ " اور سارا واقعہ  بتا دیا ۔ " چلیں اب اور منگوادیں ۔ میں ضرور استعمال کروں گی "
" بھابی وہ درخت ، ہماری بہن  کی ساس کے گھر تھا ، اُنہوں نے کمرہ بنایا تو وہ کاٹ دیا " اُنہوں نے کہا۔
پھر اُنہوں نے بیل گری کی افادیت پر پورا لیکچر دیا  ۔ تو بوڑھے نے واپس گھر آکر گوگل چاچا ہے پوچھا ۔
"یہ بیل گری کیا ہے اور کہاں پایا جاتا ہے " ؟
جو معلومات ملیں ، آپ بھی پڑھیں ۔
بیل گری برصغیر کے بہت سے خطوں میں مشہور ہے۔ 
اردو میں اسے بیل پتھر بھی کہتے ہیں، انگریزی میں Beal Fruit اور Wood Apple ‎پنجابی میں بل ، سندھی میں کاٹھوری ،  بنگالی   اور ہندی  میں اسے بلوا کہتے ہیں۔
 پاکستان ،ہندوستان ،بنگال ، برما ،سری لنکا  اور نیپال ،میں بکثرت ہوتا ہے۔ گویا بر صغیر کا پھل ہے۔جو بیل کے درخت سے حاصل ہوتا  ہے ۔  جس کاپھل یعنی گری  ، ایک ایسا غیر معمولی پھل ہے، نہ صرف جس کے استعمال سے بلکہ پتوں  سے  بھی   ان گنت فوائد حاصل کئے جا سکتے ہیں۔
بیل کا درخت  ،پچیس سے تیس فٹ اونچاہوتاہے۔موسم ِ بہار میں  ، نئے پتوں کے ساتھ ہی سبزی مائل سفید پھول جس کی چار انچ پنکھڑیاں ہوتی ہیں  ان میں تھوڑی خوشبو ہوتی ہے۔
پھل جنگلی خودرودرختوں پرلیموں کے برابر سے لےکرگیند کے برابر ہوتے ہیں۔ان پر درمیانی گیند سے لے کر ایک کلو تک پھل لگتے ہیں جو پہلے سبز اور بعد میں سرخی مائل زرد ہو جاتے ہیں۔جن کے اوپر چھلکا سخت ہوتاہے۔اورپکنے پر اندر کا گودہ لیس دار شیریں اورخوش ذائقہ ہوتا ہے اس کے اندر سے چھوٹے سفید رنگ کے تخم بھر ے ہوتے ہیں۔ ‎
    بیل کا پھل جسے بیل گری کہتے ہیں، خوب پکی ہوئی بیل  گری  کا گودہ  نہایت سرخ‘ خوشبودار اور شیریں ہوتا ہے۔
 اطباء اسے کثرت سے ادویات میں استعمال کرتےہیں اس کا مربہ بھی بہت عمدہ بنتا ہے۔ یہ خاصیت میں گرمے سے مشابہ ہوتا ہے اس کاباہر کا خول بے حد سخت جبکہ اس کا گودا بے حد نرم اور کھانے میں لذیذ ہوتا ہے۔ اس کے مغز کے چھلکے سکھالیتے ہیں اسے خشک بیل گری کہتے ہیں۔ ‎
 اطباء  بیل گری کا ‎مزاج۔تازہ   درجہ دوم اور خشک درجہ سوم بتاتے ہیں ۔
 بیل  کے درخت   کے فوائد؛
بیل  درخت کا پھل یعنی بیل گری  کے انسانی جم پر ہونے والے فوائد:
٭۔ پھل کو بطور میوہ کھایا جاتا ہے اور اِس کا شربت بنا کر بھی پیا جاتا ہے ۔ 
٭- دہی میں چینی کے ساتھ گودہ ملا کر کھایا بھی جاتا ہے ۔ 
٭- بیل گری ، انسولین سے بھرپور ہے ،جو خون میں شکر کی سطح کو کنٹرول کرنے کے لئے ضروری ہے،یہ شوگر کے مریضوں کیلئے کسی بڑی نعمت سے کم نہیں۔
 ٭- بیل گری کا استعمال ، برص، بواسیر،اسہال یا ڈائیریا، ہیضہ ، السر ، سوزش،دل کی بیماریوں،نظام ہضم کی بحالی ،سانس لینے میں دشواری کے علاج سمیت دیگر بہت سی بیماریوں میں مفید ہے۔
٭- معدے میں غیر معمولی تیزابیت جو السر کا اصل سبب بنتا ہے اس کو بننے سے روکتا ہے ۔
٭۔جسم میں وٹامن سی کی کمی کے باعث کمزوری،تھکاوٹ، خون میں سرخ خلیوں کی کمی،مسوڑھوں کی بیماریوں  کے لئے  بہتر ہے ۔بیل گری میں ایسے وٹامن کی وافر مقدار موجود ہے جو ان تمام خرابیوں کو دور کرتا ہے۔
٭-  ‎بیل گری کا استعمال سوزش میں بھی انتہائی مفید ہے،جسم میں کسی جگہ سوزش کی شکایت کی صورت میں اسے متاثرہ جگہ پر لگانے سے سوزش دور ہو سکتی ہے۔
٭۔  ‎بیل گری کے پھل کا جوس اور اس کو گھی کی نسبتاً کم مقدار کے ساتھ روزانہ کی بنیاد پر بطور غذا میں شامل رکھنا دل کی بیماریوں کو روکتا ہے،  جس میں دل کا دورہ بھی شامل ہے اس سے بچنے کا امکانات بڑھ جاتے ہیں ۔ ‎
٭- بیل گری   کاگودہ  یا شربت   ، قبض کشااور اس کی بہترین قدرتی دوا ہے،اس کے گودے میں چھوٹی کالی مرچ اور نمک کو شامل کرکے کھانے سے آنتوں میں بننے والے زہریلے مادے کو ختم کردیتا ہے.
٭۔ ‎بیل گری کا استعمال خون میں کولیسٹرول کی مقدار کو قابو رکھنے میں بہت مفید ہے ،اس کا باقاعدہ استعمال خون میں کولیسٹرول کی درست مقدار کو برقرار رکھنے کا مکمل علاج ہے ۔ ‎
٭۔ صحت تندرستی میں اضافہ کیلئے بیل گری کی چائے کا استعمال کیا جاتا ہے۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ معدہ صاف رہے اور آپ کا نظام ہاضمہ مضبوط ہوجائے تو آپ بھی بیل گری کی چائے استعمال کرسکتے ہیں۔
٭- جوڑوں میں درد کے خاتمے کا بھی سبب بنتا ہے ۔  
 ‎بیل کا پھل جو ٹکڑے کرکے خشک کرلیاجاتا ہے جو کہ بیل گری کے نام سے مشہور ہے۔ ‎
 خشک بیل گری کسی بھی پنسار سٹور سے بآسانی حاصل کی جاسکتی ہے۔ 
بیل درخت کے پتے :
٭-  بیل گری کے پتوں کا رس نزلہ زکام اور انفلوئنزہ میں پلانا مفید ہے اور جڑ کا جوشاندہ مقوی قلب ہے
  ٭-   تازہ پتوں کو کشید کرنے سے ایک زردی مائل تیل حاصل ہوتا ہے ۔جس  کے استعمال سے سانس لینے کی دشواریوں اور خرابیوں جیسے دمہ کے علاج کے لئے استعمال کیا جا تا ہے،شدید نزلہ زکام میں جب ناک اور کان بند ہوجائیں اس کے روغن کو سر پر لگانے سےفائدہ ہوتا ہے۔
 بیل درخت کی چھال  :
٭۔بیل درخت کی چھال کو خفیف بخاروں میں بکثرت استعمال کرتے ہیں۔ ‎
٭۔ بیل درخت کی چھال کا جوشاندہ سانپ کے زہر کو دورکرتاہے۔اور بخارسرمیں مفیدہے۔
  ٭-  بیل گری کی جڑ کی چھال سے ایک خاص جوشاندہ تیار کیا جاتا ہےجس کے پینے سے دل کی دھڑکن کی تیزی میں اور نوبتی بخار میں افاقہ ہوتا ہے۔
طریقہ ءِ علاج   :
مقدار خوراک : 
تازہ پھل۔24 گرام تا 48 گرام۔
 خشک گودا۔24 گرام تا 60  گرام۔
چھال ۔  6  گرام تا 60گرام۔ 
 ٭-شوگر کے لئے :  پتوں کا رس  60  گرام۔  نکال کر صبح نہارمنہ پلانا ذیابیطس کیلئے بہت مفید ہے ۔
 ٭- معدے و آنتوں کے امراض کے لئے :بیل گری کا پکا ہوا گودا جگر و معدےکوقوت دیتا ہے۔کیونکہ یہ آنتوں کو صاف کرتا ہے اور ان میں قدرتی لچک کو بحال کرتا ہے۔  آنتوں کے امراض  کو ختم کرتا ہے ۔
 ٭۔ پیچش یا اسہال  کے لئے :  بیل گری کا گودا اپنے نرم و کثیف اثرات کے باعث فائدہ مند ہے۔جن افراد کو دست آنے کی شکایت ہو ان کو بیل گری کا شربت تیس گرام پلانے سے یا بیل گری کا پاؤڈر ایک ایک گرام روز کھانے سے آرام آجاتا ہے۔ یا  ۔ 
 بچوں کو 244 ملی گرام سے  488 ملی گرام تک بیل گری کا پاؤڈر 122 ملی گرام یا 244 ملی گرام ،  کتھے میں ملا کر پانی کے ساتھ کھلاتے ہیں۔ اس سے دستوں میں افاقہ ہوتا ہے اور آنتوں کی بے قاعدگی بھی درست ہوتی ہے۔ بڑوں کو یہ مقدار دو گنا کرکےدی جاسکتی ہے۔
 ٭- حلق میں ورم کے لئے :پکے ہوئے گودے کے کھانے سے ورم حلق میں فائدہ ہوتا ہے۔
٭۔ سردیوں   کی بیماریوں کے لئے :  پتوں کا رس کھانسی‘ زکام‘ انفلوئنزا اور ورم کو تحلیل کرتا ہے۔
  ٭۔ ‎یرقان کیلئے: یرقان کےمرض میں بیل گری کا پاؤڈر ایک گرام کالی مرچ ملا کر پانی کے ہمراہ چند روز کھلانے سے مرض کی زیادتی ختم ہوجاتی ہے۔
 ‎بخار کیلئے: گرمی یا سردی کے باعث جن افراد کو بخار ہوجائے وہ اس نسخے سے فائدہ حاصل کرسکتے ہیں۔ بیل کے پتوں کا رس ہم وزن شہد یا پانی میں ملا کرمریض کو پلائیں۔ اس سے بخار کا زور ٹوٹ جاتا ہے اور طبیعت میں سکون پیدا ہوتا ہے۔
 ‎بندش پیشاب کیلئے:  پروسٹیٹ گلینڈ  کی خرابی کی وجہ سے  ، پیشاب کی بندش‘ پیشاب کے رک رک کر آنے‘ دوبارہ پیشاب کرنے کے بعد حاجت ہونے اس نسخہ کا استعمال بے حد مؤثر پایا گیا ہے۔
 شربت بیل گری بنانے  کی ترکیب :
1۔  100گرام بیل گری لیں‘ اسے ایک لیٹر پانی میں ڈال کر آگ پر چڑھادیں۔ اسے خوب پکنے دیں جب پانی کی مقدار تقریباً اڑھائی گرام رہ جائے۔  تو اسے اتار کر ململ کے کپڑے سے چھان لیں پھر اس پانی میں 60گرام چینی ملا کر دوبارہ آگ پر رکھ دیں۔ جب گاڑھا سا قوام تیار ہوجائے تو اتار لیں۔ یہ شربت بیل گری تیار ہے۔
بیل کے تازہ پختہ پکے ہوئے پھلوں کا گودا لیں۔ اسے کسی برتن میں ڈال کر سردائی کی طرح خوب گھوٹیں۔ جب پتلا اوریکجان ہوجائے تواس میں دودھ ڈال کر ایک مرتبہ پھر گھوٹیں۔ اس کے بعد اسے چھان کر محفوظ کرلیں وقت ضرورت اسے مریض کو بارہ گرام سے چھتیس گرام کی مقدارمیں تین وقت پلائیں۔
چار سے چھ ٹکڑے خشک بیل گری کے اور چار سے چھ ٹیبل سپون شکر لے لیں۔ چار سو ملی لیٹر پانی کو چائے کے برتن میں ابالیں۔ چند منٹ بعد اس میں بیل گری کے ٹکڑے ڈال دیں۔ پندرہ منٹ تک اسے پکنے دیں۔ اس کے بعد اس میں شکر شامل کردیں۔ اگر آپ اسے ٹھنڈے مشروب کے طور پر پیناچاہتے ہیں تو فریج میں ٹھنڈا کرکےاس میں برف کا چورا شامل کردیں۔ 
٭۔  ‎بیل گری کی چائے: صحت تندرستی میں اضافہ کیلئے بیل گری کی چائے کا استعمال کیا جاتا ہے۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کامعدہ صاف رہے اور آپ کا نظام ہاضمہ مضبوط ہوجائے تو آپ بھی بیل گری کی چائے استعمال کرسکتے ہیں۔
 ٭۔  ‎بیل گری  کا حلوہ :
بیل گری کے  خشک  پھل کو  اچھی طرح پیس لیں   ، سوجی ، شکر اور گھی   میں مکس کر کے حلوہ بنا لیں ۔ایک کھانے کا چمچ روزانہ پانی یا دودھ کے ساتھ لیں ۔ آرتھرائیٹس  کے لئے بہترین نسخہ ہے ۔

 ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔