میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

اتوار، 7 دسمبر، 2014

لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے

 ہم دیکھیں گے، لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے

وہ دن کہ جس کا وعدہ ہے، جو لوحِ ازل پہ لکھا ہے
جب ظلم و ستم کے کوہِ گراں، روئی کی طرح اڑ جائیں گے
ہم محکوموں کے پاؤں تلے، جب دھرتی دھڑ دھڑ ڈھڑکے گی
اور اہلِ حکم کے سر اوپر ،جب بجلی کڑ کڑ کڑکے گی

ہم دیکھیں گے، لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے 

جب ارضِ خدا کے کعبے سے، سب بت اٹھوائے جائیں گے
ہم اہلِ صفا، مردودِ حرم ،مسند پہ بٹھائے جائیں گے
 سب تاج اچھالے جائیں گے، سب تخت گرائے جائیں گے

ہم دیکھیں گے، لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے 
بس نام رہے گا اللہ کا ،
جو غائب بھی ہے حاضر بھی، جو ناظر بھی ہے منظر بھی
اٹھے گا انا الحق کا نعرہ، جو میں بھی ہوں اور تم بھی ہو
اور راج کرے گی خلق خدا ،جو میں بھی ہوں اور تم بھی ہو
ہم دیکھیں گے لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔