میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

منگل، 9 دسمبر، 2014

بدعت ، شرک نہیں ؟


بدعت ، شرک نہیں ۔ جہالت ہے ۔ لہذا جاہلوں کو سمجھانا، کار بے کار ہے ۔ اور
فیس بک پر اتنی ہی کثرت سے موجود ہیں جتنا پاکستان و ھندوستان میں ۔
آپ ، "الکتاب" سے جتنا دور ہٹتے جائیں گے ۔ بدعات میں مبتلاء ہوں گے ۔
بدعاتِ صحیحہ ، اللہ کی قربت عطا کرتی ہے اور بدعاتِ غلطیہ ،گناہوں کی طرف لے جاتی ہے ۔
لیکن ہر مسلمان ، اُس طریقے پر اللہ کی قربت چاہتا ہے جو اُس کا امام (مولوی)  اسے بتاتا ہے ۔

فیصلہ ، اللہ تعالیٰ کرے گا ۔ کہ کون   سبیل اللہ پر تھا  اور کون سبیل من دون اللہ پر
اﷲ بولےگا: تم جنوں اور انسانوں کی ان امتوں میں شامل ہو کر جو تم سے پہلے گزر چکی ہیں اس آگ میں داخل ہو جاؤ۔ جب بھی کوئی امت (دوزخ میں) داخل ہوگی وہ اپنے جیسی دوسری (امت)پر لعنت بھیجے گی، یہاں تک کہ جب اس میں سب جمع ہو جائیں گی تو ان کے پچھلے اپنے اگلوں کے حق میں کہیں گے کہ اے ہمارے ربّ! انہی لوگوں نے ہمیں گمراہ کیا تھا سو ان کو دوزخ کا دوگنا عذاب دے۔ اللہ بولےگا: ہر ایک کے لئے دوگنا (عذاب)ہے مگر تم جانتے نہیں ہو-

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔