میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

ہفتہ، 27 دسمبر، 2014

اقوامِ انسانی


قوم:   کسی انفرادی عمل(اچھا یا بُرا)  یا اعمال کے کرنے والی انفرادی ہستی کو اجتماعیت میں تبدیل کر کے اُنہیں ایک متحداِکائی۔"قَوم"میں تبدیل کرتی ہے۔اور اِس عمل (یا اعمال)سے پیدا ہونے والے نتائج سے اس قوم کو گزرنا پڑتا ہے جو پہلے ہی سے اِس کائنات میں موجود و قائم  ہیں ۔

"الکتاب "  میں لکھے ہوئے احکامات پر انسانی  ردِ عمل کے مطابق،  انسانی  امت ِ واحدہ  میں جو اقوام وجود میں آئیں اور آتی رہیں گی ۔
 وہ یہ ہیں :-




 اوپر لکھی ہوئی، ” قوم“ کے بارے میں وضاحت صحیح نہیں تو میری راہنمائی فرمائیے۔ شکریہ

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔