میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

پیر، 8 دسمبر، 2014

تحریک - فوراً انصاف دیا جائے ۔

غالباً بہت دنوں کا ، ایک بادشاہ تھا یا راجہ لیکن تھا بہت انصاف پسند ، اُس نے بھی ایک ایسی  تحریک کی بنیاد ڈالی تھی اور 
اُس کا قول تھا انصاف فوراً 

تو جناب ایک نوجوان ، جس کا کام ہی آوارہ گردی تھا ، وہ گردی کرتا کرتا ، اس ریاست میں جا پہنچا،  اُس نے   گاؤں کے باہر ایک  دھرنا دیکھا  ، بہت سارے مرد و خواتین و بچے اور بچیاں  بیٹھے تھے ، ایک اونچی جگہ پر ایک شخص  کھڑا ، بادشاہ کے انصاف  کا بیان کر رہا تھا ۔ اُس کے منہ سے جھاگ اُڑ رہی تھی ، آدھے گھنٹےکے بعد   ، ایک بڑھیا چلائی ،
" لیکن کوتوال صاحب ہمارا کیا ہوگا ؟"
" ہمارا ہونے والا داماد تو شادی کے منڈپ سے بھاگ گیا " ایک بوڑھا چلایا ۔
"انصاف ضرور ہو گا ، "کوتوال چلایا
تمام دھرنے والوں نے نعرہ لگایا ، " انصاف ضرور ہو گا ، "
کوتوال کی نظر ، آوارہ گرد نوجوان پر پڑی ، وہ چلایا ، " اس نوجوان کو میرے پاس لاؤ"
لوگ آوارہ گرد  نوجوان کو پکڑ کر کوتوال کے پاس لے گئے ۔
کوتوال نے  ، آوارہ گرد نوجوان کو گدّی  پکڑا اور چلایا ، " یہ ہے تمھارا داماد ، انصاف ضرور ہو گا ، "
اور جناب ،  اُس آوارہ گرد نوجوان کی بھاگنے سے پہلے ہی شادی کر دی گئی ،  نوجوان بڑا خوش ، خوبصورت بیوی ، مالدار سسر ، نوجوان کے پاؤں تیل کے ڈبے میں اور سر کڑھائی میں ،   کوئی مہینے دو مہینے بعد اُسے  اپنی ماں اور  وطن کی یاد آئی ، اُس نے سسر  اور بیوی سے وطن جانے کی اجازت مانگی اور زادِ راہ لے کر   ، جانبِ وطن عازمِ سفر ہوا ،
 آوارہ گرد نوجوان،  وطن پہنچا ماں باپ اور رشتہ داروں نے بلائیں لیں  اور اپنے استاد سے ملنے  اُس کے ٹھکانے پر  پہنچا ، استاد بیٹھا  اپنے کھانے کا انتظام کر رہا تھا ،    شاگر کو اپنے استاد پر بڑا ترس آیا اُس نے استاد ، کی مدد کی اور کھانے کے بعد قیلولہ کرنے بیٹھے تو استاد نے   شاگرد سے اُس کا حال پوچھا ،

شاگرد  گویا ہوا !
استاد جی..یہاں سے مشرق میں دس دن کی مسافت پر دریا کے کنارے ایک دیس ہے ، میں اسی دیس سے آرہا ہوں. وہاں ہر چیز ود ٹکے میں ملتی ہے ۔ بلکہ وہاں کسی نوجوان و کنوار نہں رہے دیا جاتا ، اُس کی شادی کر دی جاتی ہے ۔ وہاں کی لڑکیاں بہت خوبصورت ہوتی ہیں ، ھمارے ہاں کی طرح نہیں ، کہ نہانے کے بعد بھی ویسی کی ویسی ہی رہتی ہیں ، بادشاہ کے حکم سے وہاں  ہر مال  ایک پیسے میں ملتا ہے ۔اور انصاف  تو کھلے عام مل جاتا ہے ۔
   استاد  کا دل لچایا لیکن ، پھر شاگرد سے بولا ،" یہ ممکن ہی نہیں ، ایسا ہو نہیں سکتا ، یہ کیسی ریاست ہے جہاں ،  انصاف اتنا سستا ہو ؟ "
خیر چوں کہ شاگرد  اپنی آنکھوں سے دیکھ کر آیا تھا او ر  لہذا  شاگرد کے اصرار کرنے پر وہ دونوں اس دیس کے لئے روانہ ہوئے ، منزلوں پر منزلیں مارتے وہ دس دن بعد   ریاست میں پہنچے او ر بازار سے گذرے  ، 
ہر جگہ سے آواز آرہی  تھی ایک ایک پیسہ ، ایک ایک پیسہ ، ہر مال ایک ایک  پیسہ میں لے لو ۔
روٹی ایک پیسے  میں، ہر قسم کی سبزی ایک پیسہ کلو ، گوشت ایک پیسے  میں، کپڑا  ایک پیسے گز میں

دونوں ایک سرائے میں داخل ہوئے..خادم سے پوچها کہ کچھ کهانے کو مل سکتا ہے؟؟
خادم نے کہا..حضرت جو چاہیں ملے گا..پلاؤ، بریانی کوفتہ ، قیمہ ، سبزی ، دال ، مرغ ایک پیسے میں
تو حضرات ، استاد نے وہیں ڈیرے ڈال دیئے ، کہاں اپنا وطن اور کہاں یہ دیس   ،  شاگرد اجازت لے کر اپنی بیوی  کے ہاں چلا گیا اور استاد صاحب ، نے ایک ایک پیسے کی موجیں اڑانا شروع کر دیں ، دیکھتے ہی دیکھتے ، مرنجان مرنج استاد کی توند نکلنا شروع ہوگئی ، وہ حیران تھا ، کہ اس دیس کے لوگ اتنے دبلے پتلے کیوں ہیں ،  اُس نے سوچا کہ شاگرد آئے گا تو اُس سے ضرور پوچھے گا ۔ 
ایک دن کی بات ہے کہ استاد ، ایک پیسے میں حلق تک ٹھونس کر قیلولہ کر رہا تھا ، ہ شور مچا ، اُس نے گردن گھما کر دیکھا تو ، تو کوتوال  کےسرکاری گماشتے   ہر کمرے کی تلاشی لے رہا تھا ، پھر انہوں نے استاد کا رُخ کیا  ،
ایک سپاہی   جو عمر والا تھا چلایا ، " اسے دیکھو " ، سپاہی لپکے او راستاد  کو پکڑ کر لے گئے ۔
کوتوال نے دیکھا اور نعرہ مارا 
" انصاف ضرور ہو گا ، " اسے لے چلو-
استاد کو کوتوال کے حضور پیش کیا گیا ۔  

کوتوال نے پوچها؟ "کیا یہی مجرم ہے؟"
سپاهی نے کہا ، " جناب  کوتوال صاحب یہی مجرمہ ہے "
کوتوال نے کہا، " تمھیں  کیسے پتہ کہ یہ مجرم ہے؟"
سپاہی نے کہا، " حضور ایک تو  یہ یہاں  کا نہیں  اور پهر اس کی گردن بهی موٹی  ہے "
کوتوال نے کہا، "شاباش!لے چلو،  انصاف ضرور ہو گا ، "
استاد حیران تها کہ ماجرا کیا  ہے ، پوچھنے کی کوشش کی لیکن کسی نے بولنے نہیں دیا، صرف کوتوال نے کہا، " فکر نہ کرو، انصاف ضرور ہو گا ، "
استاد کو کال کوٹھڑی  میں بند کر دیا گیا، استاد حیران بهی تها اور پریشان بهی لیکن  کچھ سمجھ نہیں پا رہا  تها
دربان سے پوچها،  "میں  اِس شہر میں اجنبی ہوں ،مجهے کس جرم میں لایا گیا  ہے؟؟؟ "
دربان نے کہا، " ہمیں بات کرنے کی اجازت نہیں  ہے ، صرف اتنا جان لو کہ بادشاه سلامت کا حکم  ہے انصاف ضرور ہو گا ، "
رات کو ایک بوڑها خادم کهانا دینے آیا..لیکن استاد کا جی بالکل کهانے کو نہیں چاه رہا تها،خادم استاد کی پریشانی سمجھ گیا، پوچها، " اجنبی ہو ؟  "استاد نے اثبات میں سر ہلا دیا
خادم نے کہا کهانا کها لو، انصاف ضرور ہو گا ، بادشاه سلامت کا حکم ہے ، انصاف ضرور ہو گا ، "
استاد نے قدرے ترشی سے پوچها، "لیکن کس چیز کا انصاف؟"

خادم نے آس پاس دیکھ  کر کھسکتا ہوا ۔  استاد کے قریب  ہوا اور بولا ،
" پچهلے مہینے ایک دیوار گر گئی جس سے ایک راه چلتا مسافر مر گیا،تمہیں اسی جرم میں پکڑ کے لائے ہیں،چونکہ بادشاه سلامت کا حکم ہے کہ انصاف ضرور ہو گا ، "..
استاد نے پوچها، "لیکن میرا دیوار کے گرنے سے کیا تعلق هے؟ میں تو اجنبی ہوں اور جب سے آیا ہوں سرائے سے باہر نہیں نکلا ۔
خادم نے کہا تعلق ہے ،میں بتاتا ہوں، چونکہ دیوار گرنے سے مسافر ہلاک ہوا تها، تو کوتوال نے گهر کے مالک کو پکڑ لیا کہ انصاف کا تقاضا یہی تها۔لیکن مالک نے الزام دیوار بنانے والے پہ لگا دیا،چونکہ بادشاه سلامت کا حکم هے کہ انصاف ضرور ہو گا ،    اس لیے دیوار بنانے والے کو حاضر کیا گیا 
دیوار بنانے والے نے الزام مزدور پہ لگا دیا کہ اس نے مٹی میں پانی زیادہ ملایا تها اور جس کی وجہ سے مٹی پک نہ سکی اور دیوار گر گئی-
چونکہ بادشاه سلامت کا حکم هے کہ انصاف ضرور ہو گا ،  اور جلد ہو گا کہ دیر سے انصاف ملنا بهی نا انصافی ہے،اس لیے مزدور کو فورا حاضر کیا گیا-
مزدور نے الزام ہاتهی والے پہ لگا دیا، کہ اگر اس کا بدکتا ہوا ہاتهی نہ آتا تو میں کام چهوڑ کر نہ بهاگتا اور مٹی میں پانی زیاده نہ گرتا ۔
چونکہ بادشاه سلامت کا حکم هے کہ انصاف ضرور ہو گا اور جلد ہو گا
چنانچہ ہاتهی والے کو حاضر کیا گیا
ہاتهی والے نے الزام وزیر پر لگا دیا..اور کہا کہ اگر وزیر کی بیٹی  پائل پہن کر بازار نہ نکلتی تو پائل کی جھنکار  سے  میرا ہاتهی نہ  بدکتا ۔
چونکہ بادشاه سلامت کا حکم هے کہ انصاف ضرور ہو گا ،  اور جلد ہو گا.
وزیر نے الزام سنار پر لگا دیا،کہ میں نے تو  اُسے پائل میں  ھنجھنے   ڈالنے نہیں کہا تها۔
چونکہ بادشاه سلامت کا حکم هے کہ انصاف ضرور ہو گا ،اور جلد هو گا
سنار کو حاضر کیا گیا،سنار گونگا تها،اس لیے سنار کو تختہ دار پر لٹکانے کا حکم صادر ہو گیا  
استاد حیران تها کہ یہ کیسا انصاف هے؟
لیکن اپنی جان بخشی پر تهوڑا خوش بهی تها ،اس لیے خادم سے کہا،
" کہ چلو مجرم تو مل گیا.اب مجهے کیوں یہاں لایا گیا  ہے؟ "
خادم مسکرایا اور کہا ، "  جی ہاں مجرم تو مل گیا لیکن اس کی گردن چهوٹی ہے " 
استاد نے پوچها، " کیا مطلب؟ "
خادم نے کہا؛" چونکہ بادشاه سلامت کا حکم ہے کہ انصاف ضرور ہو گا ،  اور جلد ہو گا، بلکہ آج ہی ہو گا ورنہ کوتوال کو لٹکایا جائے گا ۔ سنار کی گردن پهندے میں نہیں آ رہی تهی اس لیے کوتوال کو موٹی گردن کی تلاش تهی -" 






خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔