میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

اتوار, دسمبر 14, 2014

اے جذبہ ءدل گر میں چاہوں


اے جذبہ ءدل گر میں چاہوں ،  ہر چیز مقابل آ جائے 
منزل کے لیے دو گام چلوں ، اور سامنے منزل آ جائے

اے دل کی خلش چل یوں ہی سہی ، چلتا تو ہوں اُن کی محفل میں 
اُس وقت مجھے چونکا دینا ،  جب رنگ پہ محفل آ جائے

آتا ہے جو طوفان آ نے دو ، کشتی کا خُدا خود حافظ ہے 
مشکل تو نہیں اِن موجوں میں،  بہتا ہوا ساحل آ جائے

اِس عشق میں جاں کو کھونا ہے ، ماتم کرنا اور رونا ہے
میں جانتا ہوں جو ہونا ہے  پر کیا کروں جب دل آجائے

اے راہبر ِکامل چلنے کو، تیار تو ہوں پر یاد رہے 
اُس وقت مجھے بھٹکا دینا ، جب سامنے منزل آ جائے

ہاں یاد مجھے تم کر لینا ،  آواز مجھے تم دے لینا 
اس راہ ِمحبت میں کوئی ، درپیش جو مشکل آ جائے

اب کیا ڈھونڈوں گا چشم ِکرم، ہونے دے ستم بالائے ستم
میں چاہوں اے جذبہء غم ، کہ مشکل پس ِمشکل آجائے
بہزاد لکھنوی - (1900-1974) 

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔