میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

منگل، 9 دسمبر، 2014

ممات و حیات


 حیات  کو آپ کسی معنوں ، مفہوم یا تصور میں لیں ، "موت" اس کا مخالف عمل ہے ۔ 

انسان کو جب حیات ملتی ہے ، تو اُس کی موت بھی ہوتی ہے ۔

انسان کو اپنے اچھے عمل کی وجہ سے جو حیات ملتی ہے اور برے اعمال سے اُسی حیات کی موت ہوتی ہے۔

قوموں کو آفاقی سچائیوں پر عمل اور افعال کرنے سے جو حیات ملتی ہے ۔ انہیں آفاقی سچائیوں پر عمل اور افعال نہ کرنے سے اُن کی موت واقع ہوجاتی ہے ۔

اسے کائینات کے خالق نے اِس طرح سمجھایا ہے

ایک بیج کو جب زمین میں ڈالا جاتا ہے ، تو وہ حیات کے عمل سے گذرتا ہوا ایک پودے کی شکل اختیار کرتا ہے اور جب وہ اپنی اجل مسمیٰ پوری کرتا ہے تو وہ پودا یا درخت موت کی طرف سفر کرتا ہے ، اور وادیء موت میں چلا جاتا ہے ، لیکن اُس کے بیج حالت نوم میں ہوتے ہیں ، جن بیجوں کو اللہ نے واپس بھیجنے کا ارادہ کیا ہوتا ہے وہ واپس ، نوم سے حیات میں آتے ہیں ۔

اور جن بیجوں کو دوبارہ حیات نہیں ملنی ، وہ انسان اور جانوروں ، حشرات الارض ، پرندوں ، جل کر حیات و ممات کے چکر سے نکل جاتا ہے  
بشر کی حیات اور ممات ، بشری زندگی سے منسلک ہے ، اور بشر کے خالق کے مطابق ، اُس ممات کے بعد بھی اُس کے دوبارہ حیات کا 
پروگرام ملیامیٹ نہیں ہوتا ، خواہ وہ آگ میں جل جائے یا فضا میں پھٹ کر بکھر جائے ۔

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔