میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

پیر، 8 دسمبر، 2014

اللہ کے پانی کے خزانے



جب جنوری  2010 میں  ایک بڑی لینڈ سلائیڈ کی وجہ سے  ، دریائے ہنزہ  کا راستہ  بند ہوگیا تو  ، شاہراہِ ریشم ڈوب جانے سے  پوری حکومت پریشان گئی ، رائے دی گئی کہ  کھدائی کر کے پانی کا راستہ بنایا جائے ۔
فوج نے  انجنئیر فورس کے ذہین آفیسروں  کو  ٹاسک دیا کہ راستہ بنایا جائے ، اِس کم عقل مہاجر زادہ نے رائے دی ،
" پاکستانیوں پر اللہ کا بہت بڑا احسان کیا ہے کہ اُس نے ایک بہت بڑا پیالہ (السقایہ ) ، جھیل کی صورت میں عطا کیا ہے ، ناشکری نہ کی جائے اور سڑک کو دوبارہ اوپر کرکے بنالیا جائے ؟، اللہ ایسا احسان ناشکرگذار  قوموں پر کرتا ہے تاکہ وہ شکرگذار بنیں " 
لیکن فوج نے کوششیں جاری رکھیں اور دومہینے کی مدت کے بعد  ، بلاسٹ لگا کر قوم کو خوشخبری سنائی ، کی دریا کا راستہ کھل جائے گا اور پانی سڑک سے نیچے ، آجائے گا ۔
لیکن ایسا نہ ہوا  ، شاہرہ ریشم یاسی  ای پی  سی دوبارہ بنانا پڑی  !
اب عطا آباد کی خوبصورت جھیل   نہ صرف پانی کا ذخیرہ  بلکہ ایک خوبصورت تفریحی مقام بن چکا ہے ۔

 ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔