میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

ہفتہ، 27 دسمبر، 2014

میرا بھائی - محمد علی جناح

فاطمہ جناح بیان کرتی ہیں کہ نومبر 1940ء کو قائد بذریعہ ریل گاڑی بمبئی سے دہلی جارہے تھے۔ اُنہوں نے مرکزی قانون ساز اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کرنا تھی۔ ان دنوں قائد کو دائیں چھاتی میں شدید درد محسوس ہو ا۔ دہلی پہنچ کر ڈاکٹر کو طلب کِیا جس نے پیلوریسی تشخیص کی اور ادویات کے ساتھ دو ہفتے آرام تجویز کِیا۔ فاطمہ جناح بتاتی ہیں کہ حملہ بڑا شدید تھا یہی ابتدائی بیماری تھی جس نے انتہا پر پہنچ کر بھائی کو ہم سے جدا کر دیا۔ پیلوریسی پھیپھڑوں میں پانی پڑ جانے کو کہتے ہیں۔ اس کا علاج بھی اینٹی ٹیوبر کلوسز(ٹی بی)  کی بِنا پر کِیا جاتا ہے۔ قائد نے صرف دو دن آرام کِیا، پھر کام میں مصروف ہو آگئے۔
فاطمہ جناح بتاتی ہیں اس کے بعد اُن کو زکام، نزلہ، الرجی قسم کی شکایات رہتی تھیں۔ اسی طرح اس حملہ کے بعد اپریل 1941ء میں بمبئی سے مدراس بذریعہ ٹرین سفر کر رہے تھے۔ چلتی ٹرین میں وہ ٹائلٹ جانے لگے تو کمزوری کی بِنا پرفرش پر گِر گئے۔ ڈاکٹر کو بلایا گیا ۔ اُس نے نروس بریک ڈائون تشخیص کِیا اور آرام تجویز کِیا، لیکن اب آزادی کی منزل قریب آ رہی تھی اور انہیں ہندوستان کے طول و عرض میں جلسوں سے خطاب کرنا تھا۔ ڈاکٹر البرٹ بیٹی(دہلی) سے آپ نے 1942ء میں چیک اَپ کرایا۔ مئی 1944ء میں کچھ دنوں کے لیے آرام کی خاطر سرینگر گئے۔ تاہم وہاں بھی سیاسی سرگرمیاں جاری رہیں۔

 
جب انسان کے سامنے ایک مشن ہو، کام کرنے کی لگن ہو اور محنت کرنے کی عادت ہو تو وہ آرام سے رہ ہی نہیں سکتا۔ وہ جولائی 1944ء میں لاہور آگئے۔ مصروفیت کچھ زیادہ ہی تھی۔ جسم نے جواب دیا تو آپ نے تین ہفتے ڈاکٹر جال پٹیل کے علاج کو قبول کِیا۔ علاج سے افاقہ ہوا اور اکتوبر میں وہ فٹ ہو گئے۔ پھر کام، کام اور کام تھا۔ لہٰذا 1945ء میں ان کی لگاتار کمزوری سے صِحّت کے گرنے کی خبریں آنے لگیں اور اُن کے چاہنے والوں کو خدشہ ہونے لگا۔ ڈاکٹر کے مشورے پر اپریل 1945ء میں قائداعظمؒ بمبئی کے قریب پہاڑی مقام پتھرائن تشریف لے گئے۔ آرام کے بعد کچھ افاقہ ہوا۔ ہندوستان ٹائمز نے 12 اپریل 1945ء کو خبر لگائی کہ جناح صِحّت یاب ہیں اوراُن کے فزیشن ڈاکٹر رحمن نے بمبئی تک سفر کرنے کی اجازت دے دی ہے اگرچہ وہ ڈاکٹر البرٹ بیٹی کے زیرِ علاج تھے۔ قائد ڈنشا اے مہتہ کے زیرِ علاج اس وقت رہے جب وہ سرینگر(کشمیر) سے 1944ء میں واپس آئے۔ ڈاکٹر ڈنشا نے طویل علاج تجویز کِیا جوان کی طبیعت کے خلاف تھا۔
نیشنل آرکائیوز کے ریکارڈ سے پتا چلتا ہے کہ قائدِاعظم مختلف وقتوں میں مختلف ڈاکٹروں سے رجوع کرتے رہے۔ مختلف قسم کی ای سی جی رپورٹس اور ایکسرے موجود ہیں۔ اس ریکارڈ کی رپورٹ از ڈاکٹر ایف ڈبلیومرگر بمبئی (10 اگست 1940ء) میں جگر کے متاثر ہونے کا ذکر ہے۔ ایکسرے رپورٹ میں چھاتی کے اوپر والے حصہ کے لوب (Lobe) میں مرض کے کچھ نشانات ہیں جن کی بدولت ان کو کھانسی و بلغم کی شکایت تھی۔ تاہم ڈاکٹر مرگر نے "کرانک برونکائٹس" کا خدشہ ظاہر کِیا اور کہا کہ دل بالکل ٹھیک ہے۔ اسی طرح ڈاکٹر ایس سی سن نے 9 اپریل 1945ء کو رپورٹ میں لکھا کہ پھیپھڑوں کی نچلی سطح میں سوزش اور نشانات ہیں۔ انہوں نے یعنی پھیپھڑوں کی بگڑتی ہوئی سوزش قرار دیا۔ اسی طرح ڈاکٹر موڈی نے ایکسرے رپورٹ میں پھیپھڑوں پر نشانات اور پیلوریسی کا ذکر کِیا۔ ہر ایک ڈاکٹر نے ایکسرے اور سکریننگ سے خدشہ ظاہر کِیا کہ قائد کو پھیپھڑوں کی سوزش ہے اور بیماری کے حملہ کے نشانات موجود ہیں۔ کسی رپورٹ میں لفظ تپِ دق استعمال نہیں کِیا گیا، حال آںکہ کمزوری،بھوک کا نہ لگنا، بخار، جسم کاٹوٹنا ایسی علامات سے ظاہر ہوتا ہے پھیپھڑوں کا مرض تپِ دق ہے۔
مادرِملّت ’’میرابھائی‘‘ کے صفحہ 90 پر لکھتی ہیں: جب ہم 21 اپریل 1948ء کو پشاور سے کراچی پہنچے تو بھائی کو سردی کے ساتھ زکام اور بخار ہو گیا۔ ڈاکٹر بلوا نے پرراضی نہ تھے۔ ڈاکٹر نے معائنہ کِیا تو پتا چلا ان کو برونکائیٹس (پھیپھڑوں کا ورم)ہو گیا ہے۔ ان کو آرام اور علاج کی ضرورت ہے۔ قائدِ اعظمؒ دو روز تک بستر پر رہے۔ تاہم فائلوں کا کام کرتے رہے۔ کچھ عرصہ وہ اس آرام سے اچھے ہو گئے۔کمزوری کافی تھی۔ مَیں انہیں مسلسل مشورہ دیتی رہتی تھی کہ کراچی سے باہر پاکستان میں کہِیں اور چلیں، ڈاکٹر رحمن فزیشن نے بھی یہی مشورہ دیا۔انہوں نے کہا کم ازکم دو ماہ تک کوئی کام نہ کریں۔ مکمل آرام کریں ورنہ صِحّت ٹھیک نہیں ہو گی۔
چنانچہ قائداعظمؒ جون ء 1948 میں کوئٹہ روانہ ہو گئے۔ کوئٹہ پہنچ کر ان کی صِحّت چند روز میں اچھی ہونے لگی۔ کھانا پینا شروع کردیا۔ ساتھ فائلوں کا کام بھی کرنے لگے اور تقریبات میں جانے لگے۔ 15جون 1948ء کو کوئٹہ میونسپلٹی کے استقبالیہ میں شرکت کی۔ سٹیٹ بینک آف پاکستان کا افتتاح یکم جولائی 1948ء کو کراچی میں ہو رہا تھا۔ اس میں شرکت کے لیے تیار ہو گئے۔ مادرِملّت نے مشورہ دیا کہ کوئٹہ سے کراچی پھر واپس کوئٹہ،اس سفر سے تکلیف زیادہ ہو سکتی ہے۔آپ کو آرام چاہیے، مگر وہ لازماً سٹیٹ بینک آف پاکستان کی افتتاحی تقریب میں شمولیت کرنا چاہتے تھے۔ اس تقریب میں ہرشخص نے ان کی گرتی ہوئی صِحّت کو محسوس کِیا۔ کراچی میں 5 روز قیام کِیا۔ مصروف رہے۔ فائلیں دیکھیں ۔ واپس کوئٹہ تشریف لائے۔
قائدِاعظمؒ واپسی پر بڑے کمزور تھے۔ان کا کل وزن شاید 75 پاؤنڈ رہ گیا تھا۔ بقول مادرِ ملّت جب واپس آئے تو کوئٹہ کے لوگ انہیں دیکھنے کے منتظر تھے۔ مختلف اداروں سے دعوت نامے موصول ہو چکے تھے۔ ہم ان کی گرتی ہوئی صِحّت کی وجہ سے دعوت ناموں کا احترام نہیں کرسکتے تھے۔ لہٰذا ایک روز انہوں نے (قائداعظمؒ) نے فیصلہ کِیا کہ ہم کوئٹہ سے زیارت چلے جائیں جو قریب ہی واقع ہے اورجہاں کا موسم کوئٹہ سے زیادہ ٹھنڈا اور یقینا زیادہ آرام دہ ہوگا۔

قائدِاعظمؒ کوئٹہ سے زیارت شفٹ ہوئے ۔ قائدِاعظم کا اصلی مسئلہ بے آرامی،کام میں زیادتی تھا۔ شروع ہی سے وہ کام کرنے کے عادی تھے۔ بے آرامی اوربیماری نے تیزی سے ان کا 1945ء سے پیچھا کرنا شروع کیا۔ تاہم ڈاکٹر کی نصیحت کے مُطابِق اپریل 1945ء میں وہ بمبئی کے پاس ایک پہاڑی مقام پر آرام کرنے کے لیے گئے، لیکن علاج نامکمل اور آرام کوچھوڑ کر آ گئے اورشملہ کانفرنس میں شرکت کے لیے 25 جون تا 14 جولائی 1945ء چلے گئے۔ اس سے قبل ڈاکٹروں نے مشورہ دے رکھا تھا کہ آپ خشک اورمعتدل مقام پر چلے جائیں اورکوئٹہ کی انہوں نے سفارش کی تھی۔ قائدِاعظمؒ نے کوئٹہ قلات جانے کے لیے خان آف قلات سے رابطہ کِیا۔ ڈاکٹر ڈنشا کا مشورہ تھا، لیکن کوئٹہ جانے کے بجائے انہوں نے اگست کا مہینہ بمبئی میں تقریروں میں گزارا۔ پھر کراچی چلے گئے۔ کمزوری مزید بڑھتی گئی۔
مرزاابوالحسن اصفہانی تحریر کرتے ہیں کہ میں نے بہُت کوشش کی کہ معلوم ہو جائے میرے قائد، رہنما اور دوست کو بیماری کیاہے؟ لیکن کامیابی نہ ہوئی۔ کرنل الہٰی بخش جو میڈیکل ٹیم کے نگران تھے، مجھے بتانا نہیں چاہتے تھے کہ قائد کو بیماری کیا ہے۔ مجھے تپ دق کا ڈر نہ تھا۔ میرے اندازے کے مُطابِق تھکن، زیادہ کام، محنت اور مجبور لوگوں کا خیال ہی ان کی صِحّت کو متاثر کر سکتا تھا۔میں نے ایسی کیفیت پر ڈاکٹروں اور مِس جناح سے تبادلہ خیالات کِیا کہ اگر امریکہ سے کسی ماہر ڈاکٹر کی ضرورت پڑے تو میں کوشش کرون گا۔ مرزا اصفہانی واشنگٹن پہنچے تو ان کو 20 گھنٹے بعد قائداعظمؒکی رحلت کی خبر بذریعہ تار پہنچی۔ سفارت خانہ میں تین روزتک متواتر فاتحہ خوانی ہوتی رہی۔یوں 1936ء کی دوستی کی زنجیر 11ستمبر 1948ء کو ٹوٹ گئی۔
 
  12ستمبر 1948ء کو سفارتخانہ سے بیان نشر ہوا ’’قائداعظم محمد علی جناحؒ بانی پاکستان اوراس کے پہلے گورنر جنرل 11ستمبر 1948ء کو رات دس بج کر 25 منٹ پر کراچی شہر میں انتقال فرما گئے۔ ‘‘وہ اسی روزکوئٹہ سے کراچی پہنچے تھے-

-

(پروفیسر ڈاکٹر ایم اے صوفی کی تصنیف ’’رہبرِ ملت: قائدِ اعظم محمد علی جناحؒ‘‘ سے اقتباس)
 

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔