میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

جمعہ, جنوری 16, 2015

شخصی آزادی کا آخری دن !

کوہاٹ سے واپسی کس طرح ہوئی یہ ایک دردناک سفر کی ہولناک داستان ہے۔شوال کے دن تھے۔ حاجی صاحبان کراچی کی طرف بمع اپنے خاندان و دوستاں رواں دواں تھے۔ عوامی میل میں ہم بھی گھسڑ مسڑ کے گسیڑم گھساڑ ہوکر پہنچے  سب نے ہاتھوں ہاتھ لیا۔ ہر کوئی ہمیں تعریفی نظروں سے دیکھتا۔ مائیں اپنے نالائق فرزندوں کو ہماری مثال دیتیں ۔ ارسطو اور افلاطون ہمیں شک کی نظروں سے دیکھتے  اور پھر ایک دن ہم کاکول جانے کے لئے  تیار تھے سب رشتہ دار، عزیز و اقارب  ہمیں الوداع کہنے سٹیشن پر آئے ہوئے تھے۔ ہر کوئی سلامتی سے سفر کی دعائیں دے رہا تھا۔ والدہ صاحبہ نے ہمارے بازو پر امام ضامن باندھا۔ گلے میں پھولوں کے ہار ڈالے گئے۔
ایک کالے مرغے کے سر پر دستِ شفقت پھروایا، جو یقیناًقربان ہوکر ہمارے سفر اکیڈی سے باعزت اخراج کا ضامن بنا۔

   ٹرین وقت مقررہ پر وسل بجا کر چل پڑی۔ چھوٹا بھائی اور والدہ  نے ہمارے ساتھ حیدر آباد تک جانا فرض سمجھا۔ مبادا کہ کہیں ہم حیدر آباد سے کسی غلط ٹرین میں نہ بیٹھ جائیں۔ اگلاسٹیشن ٹنڈو الہ یار تھا ہم دروازے میں کھڑے ہوئے شاید کوئی دوست ہمیں نظر آجائے۔ ہمیں دروازے میں ہار پہنا کھڑا دیکھ کر ایک نوجوان مسلم نے نعرہ لگایا،”اسلام“  سب نے باآوازِ بلند کہا،”زندہ باد“  اور پھر وہ باری باری ہمارا ہاتھ چومنے لگے۔ ہم حیران کہ خدایا! یہ کیسا کرشمہ ہے، انہیں کیسے خبر ہوئی کہ ہم پاک فوج کے مایہ ناز آفسر بننے اکیڈمی جا رہے ہیں۔ بعد میں عقدہ کھلا کہ گلے میں پھولوں کے ہار ہونے کی وجہ سے وہ ہمیں ”حاجی“ سمجھ رہے  تھے۔ بہرحال حضرت انسان کا اس میں کیا قصور وہ بے چارہ تو ظاہری صورت دیکھ کر دھوکا کھا جاتا ہے۔


     
سولہ نومبر 1974 بروز ہفتہ،  4 ذی القعدہ  1394 ھجری، جو ہماری تاریخ میں یادگار دن تھا کیوں کہ اس دن پاکستان کے وقت کے مطابق ٹھیک شام کو چار بج کر پندرہ منٹ اور تیس سیکنڈ کو جب ہماری ٹیکسی پی ایم اے کے گیٹ سے اندر داخل ہوئی تو ہمارے شہری حقوق سلب ہوچکے تھے۔ اور ہم  54 لانگ کورس کا حصہ بن چکے تھے ، بس اب یہی کورس ہماری پہچان تھا اور اِس کے مظلومین ، جنہیں کورس میٹس کہا جاتا ہے  -
  اِس دنیا میں اور غالباً آخرت میں بھی ہمارے اعمال نامے میں 54 لانگ کورس میں کئے گئے دو سالہ کارنامے،، ایک  دن کے  20 فل سکیپ سائز صفحات،  دونوں طرف ، " بوٹی لکھائی " میں بھرے ہوں گے -
گیٹ کے سامنے چھ سات کیڈٹ اور دو بغل میں ڈنڈا دبائے  فوجی کھڑے تھے، انہوں نے ٹیکسی رکوائی ہم نے گردن گھما گھما کر  اور آنکھیں مل مل کر دیکھا مگر ہمیں کہیں بھی شامیانے اور قناتیں نظر نہیں آئیں۔ جو فوجی حضرات اپنے قابلِ قدر مہمانوں کو خوش آمدید کہتے ہوئے لگواتے ہیں۔ ٹیکسی سے اترے  ڈرائیور نے سامان اتار کر نیچے رکھا۔ہم نے پیسوں کی ادائیگی کی اور اس کا شکریہ ادا کیا اس نے معنی خیز مسکراہٹ کے ساتھ سلام کیا۔ ہمارے میزبانوں نے نہایت شائستگی سے اسے واپس جانے کو کہا۔ ٹیکسی کے جاتے ہی ایک کرخت آواز ہمارے کانوں میں گونجی،
”سامان اٹھاؤ“ 
مڑ کر دیکھا۔ ہمارا ایک میزبان خوفناک بلکہ خونخوار نظروں سے ہمیں دیکھ رھا تھا۔
 ”تم نے میرا حکم نہیں سنا“ وہ دوبارہ چلایا،
”جی، آپ مجھے کہہ رہے ہیں؟“ ہم نے حیرانگی سے اسے دیکھتے ہوئے پوچھا۔
 ”یہاں کوئی قلی نہیں ہے؟“ ہم نے دائیں بائیں دیکھتے ہوئے کہا،
 ”قلی، کیا کہا قلی؟  یہ سامان تم خود اٹھاؤ“ وہ  گلے کی گہرائیوں سے دھاڑا۔
ہم  میں جانے کہاں سے پھرتی آگئی جھک کر سامان اٹھایا ، یہاں کے جذبہ ء میزبانی کی دل میں تعریفیں کرتے ہوئے ۔ اپنے ایک میزبان کے پیچھے تقریباً دوڑتے ہوئے ایک بڑی عمارت کے لان میں پہنچے جس کا نام بٹالین میس ہے۔ یہاں ایک میلہ سا لگا ہوا تھا بھانت بھانت کی آوازیں آری تھیں اور ان آوازوں کے پس منظر میں لوگ قلا بازیاں اور دوسرے کرتب دکھا رہے تھے۔ ہم بھی اپنا سامان ایک طرف رکھ کر انہیں لوگوں میں شامل ہوگئے۔ اور اپنی پہلی زندگی پر بھی پچھتا رہے تھے کہ اگر کسی سرکس میں نوکری کی ہوتی تو آج اتنی تکلیف نہ اٹھانا پڑتی۔ ایکرو بیٹکس کے مختلف مظاہروں کے بعد رات گیارہ بجے اپنی رہائش گاہ، انگریزوں کے دور میں لکڑی سے بنی ہوئی بیرک میں پہنچادیئے گئے۔ وہاں برآمدے میں لگے ہوئے قدآدم آئینے میں اپنا حلیہ دیکھا واللہ اگر اس وقت ہمیں  مجسموں کی نمائش میں رکھ دیا جاتا تو پہلا انعام ہمارے مجسمے کو ملتا۔

٭٭٭٭٭رنگروٹ سے آفسر تک ٭٭٭٭٭٭ 
اکیڈمیات

 رنگروٹ سے آفسر تک ٭٭٭      عوامی میلہ یا میل

 اگر تم نہ سلیکٹ ہوئے تو ؟٭٭٭ شخصی آزادی کا آخری دن

اکیڈمی کا پہلا سہانا اتوار٭٭٭  گورکھے اکیڈمی میں ۔

یادوں کے جھروکوں سے ٭٭٭  سٹوڈیو ، پیرا ٹروپنگ اور ہم - 1

سٹوڈیو ، پیرا ٹروپنگ اور ہم - 2 ٭٭٭ ہزاروں خواہشیں ایسی - کیڈٹ

 فوجیات

  نیم لفٹین عازمِ جنتِ روئے زمیں٭٭٭ نیم لفٹین کو کپتان کا سلام

نیم لفٹین پر بھاری ذمہ داری  ٭٭٭ نیم لفٹین کا چھٹی جانا اور منگنی

سیکنڈ لفٹین پیچھے پِھر٭٭٭   سیکنڈ لفٹین اور شاہ ولی ایکسپریس

ہم سکول گئے  ٭٭٭  آبزرویشن پوسٹ اور آبزرور

گن پوزیشن آفیسر کا امتحان٭٭٭ سیکنڈ لفٹین کا توپ چلانے میں ماہر ہونا

ویلکم سیکنڈ لفٹیننٹ -1 ٭٭٭ ویلکم سیکنڈ لفٹیننٹ - 2

ویلکم سیکنڈ لفٹیننٹ - 3٭٭٭ فوجی گاڑی کی ڈرائیوری اور ہم - 1

فوجی گاڑی کی ڈرائیوری اور ہم - 2٭٭٭  فوجی گاڑی کی ڈرائیوری اور ہم - 2

جاری ہے ۔

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔